جاویدؔ صبا صاحب کا یومِ ولادت May 03, 1958 نام *س…

May 03, 1958
نام *سیّد حسن جاوید*، قلمی نام *جاویدؔ صبا* ہے وہ *٣ ؍مئی؍ ١٩٥٨ء* کو *کراچی* میں پیدا ہوئے ۔ ان کے چند ادبی کلام شائع ہوئے ہیں۔
*عالم میرے دل کا* ( ١٩٨٩)، *کوئی دیکھ نہ لے* ( ٢٠١٢) ۔
جاویدؔ صبا کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار
اس نے آنچل سے نکالی مری گم گشتہ بیاض
اور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا
—
*آپ سے اب کیا چھپانا آپ کوئی غیر ہیں*
*ہو چکا ہوں میں کسی کا آپ بھی ہو جائیے*
—
اے بے خودی سلام تجھے تیرا شکریہ
دنیا بھی مست مست ہے عقبیٰ بھی مست مست
—
تیرا میرا کوئی رشتہ تو نہیں ہے لیکن
میں نے جو خواب میں دیکھا ہے کوئی دیکھ نہ لے
—
*جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کر*
*دل کو آنکھوں میں دھڑکنے کے لیے چھوڑ دیا*
—
شاعری کارِ جنوں ہے آپ کے بس کی نہیں
وقت پر بستر سے اٹھئے وقت پر سو جائیے
—
*دیکھے تھے جتنے خواب ٹھکانے لگا دیے*
*تم نے تو آتے آتے زمانے لگا دیے*
—
*یہ جو محفل میں مرے نام سے موجود ہوں میں*
*میں نہیں ہوں مرا دھوکا ہے کوئی دیکھ نہ لے*
—
گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگی
نشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی
—
*مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں*
*یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں*
—
مدھم مدھم سانس کی خوش بو میٹھے میٹھے درد کی آنچ
رہ رہ کے کرتی ہے بیکل اور میں لکھتا جاتا ہوں
—
*ﺗﺮﺍ ﻧﯿﺎﺯ ﻣﻨﺪ ﮨﻮﮞ ﻧﯿﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ*
*ﺩﻟﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ*
—
وحشت کا یہ عالم کہ پس چاکِ گریباں
رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے
—
*مسجد ہے، قبلہ پیرِ مغاں خیریت تو ہے*
*اس وقت آپ اور یہاں، خیریت تو ہے*
—
ڈر رہا ہوں کہ سرِ شام تری آنکھوں میں
میں نے جو وقت گزارا ہے کوئی دیکھ نہ لے
—
*ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﮈﻭﺑﮯ ﮔﯽ*
*ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﮈﻭﺑﮯ ﮔﯽ*
—
*ﺑﺮ ﻃﺮﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﮑﻠﻒ ﺍﮎ ﻃﺮﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮯ*
*ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮯ ﯾﺎ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﯿﮯ*
—
ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭ ﻭ ﺑﺎﻡ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﮯ
ﺁﻭﺍﺯ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ
—
*ﺍِﺱ ﻗﺪﺭ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﮨﻢ ﮐﻮ*
*ﮨﻢ ﻣﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ ﺫﺭﺍ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ*
*انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*


