منتخب غزلیں

نرگس دت: مدر انڈیا تحریر:خوشونت سنگھ (ہندوستان) ا…

نرگس دت: مدر انڈیا

تحریر:خوشونت سنگھ (ہندوستان)
اردو ترجمہ: محمد احسن بٹ

کئی برس تک نرگس کی تصویر نے میری راتوں کی نیند اڑائے رکھی۔ وہ مجھ جیسے زمین کے رہنے والے فانی انسانوں کی پہنچ سے باہر ایک آسمانی مخلوق تھی ۔ پھر یوں ہوا کہ ایک صبح میرے فون کی گھنٹی بجی اور ایک دلکش آواز آئی: "نرگس دت بول رہی ہوں۔ کیا میں مسٹر فلاں سے بات کرسکتی ہوں؟”
"میں فلاں ہی بول رہا ہوں۔ کیا آپ فلم سٹار نرگس ہیں؟”
"جی ہاں۔”
"مدر انڈیا؟”
"جی ہاں۔ کیا میں آپ سے ملنے کے لیے آسکتی ہوں؟”
ایک گھنٹے بعد وہ کئی دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب کرتی صبا کی طرح میرے دفتر میں داخل ہوئی۔ وہ انتہائی دوستانہ مزاج کی حامل اور بے حد حسین تھی۔
"میں آپ سے ایک مہربانی کی درخواست کرنے آئی تھی۔ مجھے علم ہے کہ کسولی میں آپ کا ایک مکان ہے۔ میرے بچے سناور میں ہیں اور مجھے اسکول فونڈرز ویک کی تقریبات میں شرکت کرنے کے لیے قیام گاہ درکار ہے۔ اگر آپ مجھے اپنے گھر میں قیام کی سہولت مہیا کریں تو بڑی عنایت ہوگی۔”
میں نے کہا: "ضرور، ضرور لیکن ایک شرط ہے۔” اتنا کہہ کر میں سسپنس پیدا کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوگیا۔
اس نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا "کیا؟”
"شرط یہ ہے کہ اس کے بعد آپ مجھے اجازت دیں گی کہ میں لوگوں سے کہوں کہ نرگس میرے بستر میں سوچکی ہے۔”
وہ بچیوں کی طرح بے ساختہ ہنسنے لگی۔ پھر ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بولی "ٹھیک ہے! میں آپ کے گھر میں رہوں گی۔ آپ لوگوں سے کہیں گے کہ میں آپ کے بستر میں سوچکی ہوں۔”
نرگس نے ہماری اس گفتگو کا تذکرہ بغیر شرمائے کئی بار کیا۔ اسے لوگوں کو خوش کرنے کا شوق تھا۔ وہ مزاج کی ایک کینہ پرور حس کی حامل تھی۔ تاہم جب وہ آخری مرتبہ راجیہ سبھا کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئی تو اپنے معمول کے مطابق چہک نہیں رہی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا:
"مجھے یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا۔ میرے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ مجھے یرقان ہوگیا ہے لیکن میں یہاں آنے کا وعدہ کرچکی تھی اور میں اپنے وعدے توڑا نہیں کرتی۔۔۔۔ اور یہاں بحث بھی بھا گپت پر ہونا ہے۔”
یہ بحث اس واقعے پر ہونا تھی جس میں ایک پولیس سٹیشن میں مایا تیاگی کے ساتھ زنا بالجبر ہوا تھا اور تین آدمیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ حزبِ اختلاف نے اس پر کافی شور مچایا تھا۔ ایوان کی فضا جذبات سے بھری ہوئی تھی۔
ایک خاتون رکن نے سخت اشتعال کے عالم میں تقریر کی اور کہا کہ ایک عورت کی حکومت میں کسی عورت کے ساتھ زیادتی ناقابلِ برداشت ہے۔ اس نے کہا: "ہر روز زنا کی خبریں آرہی ہیں۔ کسی کے ساتھ یہاں زنا ہوتا ہے، کسی کے ساتھ وہاں۔۔۔۔۔”
نرگس دت، جو میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھی تھی، اچانک کھڑی ہوئی اور چیخ کر بولی: "تم اتنی مضطرب کیوں ہورہی ہو؟ کیا کسی نے تمھارے ساتھ زنا کیا ہے؟”
قریب بیٹھے ہوئے اراکین نے یہ سُنا تو بے تحاشا ہنسنے لگے۔
نرگس بہت بیمار تھی۔ میں نے نیویارک میں اس سے ملنے کی کوشش کی۔ میں نے سلوآن کیٹرنگ کی ری سپشنسٹ کو بتایا کہ میں اس سے ملنے کے لیے آدھی دنیا کا فاصلہ طے کرکے آیا ہوں لیکن وہ میری بات سے متاثر نہیں ہوئی۔ اس نے میرے اصرار کے مدِنظر مجھ سے پوچھا: "کیا آپ اس کے شوہر ہیں؟”
میں نے کہا: "افسوس! ایسا نہیں ہے۔ میں تو صرف اس کا دوست اور مداح ہوں۔”
نرگس جاچکی ہے۔ سلوآن کیٹرنگ سے اسے صحت یاب قرار دے کر فارغ نہیں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ اس کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا اور اس نے مرنے کے لیے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
موت اب تو شیخی بگھار کہ
ایک بے مثال حسن کی مالک لڑکی
تیرے قبضے میں ہے

وہ نہایت حسین و جمیل تھی۔ اس کے سانچے میں ڈھلے جسم میں ایک سونے کا دل تھا، جو غریبوں، نابیناؤں اور محتاجوں کے لیے ہمدردی سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی مسکراہٹ سحر طاری کردینے والی اور اس کی ہنسی دوسروں کو ہنسانے والی تھی۔
وہ لازوال شباب کی مالک تھی، وہ پچاس سال سے زیادہ کی عمر میں فوت ہوئی لیکن ایسا لگتا تھا جیسے بیس سال سے بھی کم عمر ہو۔
مجھے اس عقیدے کے حوالے سے یقینی علم نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلمان تھی یا ہندو، دونوں ہی تھی یا کچھ بھی نہیں تھی؟ وہ ماتھے پر بندی لگاتی تھی، اس نے ایک برہمن سے شادی کی، اپنے بچوں کے ہندوانہ نام رکھے اور اسے گنیش پوری کے سوامی مکت آنند آشرم میں اکثر دیکھا گیا۔
تاہم اسے مسلمانوں کے قبرستان میں مسلم رسوم کے ساتھ دفنایا گیا جبکہ اس کے ہندو شوہر نے فاتحہ خوانی کی۔ میں اس سے بہتر کسی اور ہندوستانی خاندان کا سوچ نہیں سکتا کہ جو سرودھرم سمبھو (سب مذاہب کے یکساں احترام) کے اصول پر کاربند ہو۔
راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے میرے لیے شہرت حاصل کرنے کا سب سے بڑا دعویٰ یہ تھا کہ میں نرگس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھتا تھا اور اپنے ساتھی پارلیمنٹرینز کے حسد کا نشانہ تھا۔
وہ نشست گزشتہ اگست تک خالی رہی۔ بلاشبہ اس کی جگہ پُر کرنے کے لیے کسی نہ کسی کو نامزد کردیا جائے گا۔ تاہم جو خلا وہ اپنے لاکھوں ہم وطنوں کے دلوں میں چھوڑ گئی ہے، وہ کبھی پُر نہیں ہوگا۔

(خوشونت سنگھ کی کتاب “Death at my door step” سے اقتباس)

بشکریہ ” عالمی ادب کے اردو تراجم ”

ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/