منتخب غزلیں
زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں اب تو وہ …
زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں
اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں
اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں
انتہا عشق کی ہے آئینۂ دل پہ مرے
ما سوا اس کے کوئی عکس ابھرتا ہی نہیں
میرے افکار کو دیتی ہے جِلا اس کی جفا
غم نہ ہوتے تو یہ قرطاس سنورتا ہی نہیں
مجھ کو حق بات کے کہنے میں تامل کیوں ہو؟
میں وہ دیوانہ ہوں جو دار سے ڈرتا ہی نہیں
ہم کہ خوابوں سے بہل جاتے تھے لیکن افسوس
جاگتی آنکھوں سے تو خواب کا رشتہ ہی نہیں
میں، کہ سورج ہوں اِدھر ڈوبا اُدھر ابھروں گا
میں وہ تیراک نہیں ہوں جو ابھرتا ہی نہیں
وقت کے ساتھ بدلنے لگا ہر ایک شفیق
جیسے اب مجھ سے کسی کا کوئی رشتہ ہی نہیں
(شفیق جونپوری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

