منتخب غزلیں

طوطئ ہِند یمین الدین ابو الحسن خُسرو رحمتہ اللہ عل…

طوطئ ہِند یمین الدین ابو الحسن خُسرو رحمتہ اللہ علیہ پر خصوصی تحریر

حالاتِ زِندگی ۔۔

امیر خسرو کی وِلادت یکم محرم الحرام 651ھ بمطابق 1253ء میں پٹیالی کے مقام پر ہوئی۔ اُن کے والد کا نام امیر سیف الدین محمود تھا۔ دراصل امیر سیف الدین محمود لاچین قبیلہ کے سردار تھے۔ 1220ء میں چنگیز خان نے سمر قند و بُخارا کو تہس نہس کر دیا تھاچنانچہ لاچین قبیلہ اپنے سردار کے ہمراہ ہندوستان منتقل ہوا۔ سلطان التمش نے اِس قبیلے کو اپنی پناہ میں لے لیا۔سردار امیر سیف الدین محمود التمش کے دربار میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر شاہ کے اقربا
میں شُمار ہونے لگے اور اسی قربت کی بناء پر شاہ نے سیف الدین کو ایک جاگیر بھی عطا کی جس میں پٹیالی جسے بعد میں مومن آباد بھی کہا گیا عطا کی اور بارہ سو تنکے وظیفہ مقرر کر دیا۔ اسی جگہ امیر سیف الدین محمود کی شادی اُس دور کے ایک اور امیر عماد المُلک راوت کی بیٹی "دولت ناز” سے ہوئی۔
امیر خسرو کی پیدائش پر اُن کے والد نے اُن کا نام ابو الحسن رکھا اور لقب یمین الدولہ قرار پایا۔ امیر خسرو کے دو بڑے بھائی بھی تھے ایک کا نام عزالدین اور دوسرے کا نام حسام الدین تھا اگرچہ یہ دونوں بھائی بھی اپنی علمی قابلیت کی بناء پر بڑے محترم مانے جاتے تھے لیکن جو مقام امیر خسرو کو نصیب ہوا وہ دوسرے بھائیوں کو نہ مل سکا۔ امیر خسرو ابھی آٹھ برس کے ہی تھے کہ اِن کے والد سردار سیف الدین محمود 659ھ میں بقضائے اِلٰہی وفات پا گئے۔ اس وقت سیف الدین کی عمر 85 سال کی تھی۔ والد کی وفات کے بعد امیر خسرو کی پرورش آپ کے نانا عماد المُلک نے کی۔
چونکہ آپ کے نانا بذاتِ خود صاحبِ علم و فضل تھے اور صاحب جاہ و ثروت بھی۔
انھون نے امیر خسرو کی تعلیم و تربیت بہت احس انداز میں کی اور ان کی تربیت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔ خسرو نے پندرہ سال کی عمر میں تمام مروج و متداول علوم میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ فطری طور پر امیر خسرو ایک شاعر پیدا ہوئے تھے۔ بہت چھوٹی عمر میں شعر گوئی کا آغاز کر دیا تھا وہ خود "غرة الکمال” میں فرماتے ہیں "دراں صغر سن کہ دندان می افتاد سخن می گفتم”
ڈاکٹر وحید مرزا لکھنؤ یونیورسٹی میں پروفیسر تھے اور انھون نے خسرو کی حیات و اثرات پر ڈاکٹریٹ کی ہے۔ اپنے تحقیقی مقالے میں گویا ہیں کہ خسرو کی عمر ابھی دَس سال کی نہ ہو گی کہ اُن کے اُستاد قاضی اسدالدین انھیں اپنے ہمراہ قاضی عزیزالدین کے گھر لے گئے اور ان سے کہا یہ بچہ بھی بہت اچھے شعر کہتا ہے ذرا اس سے بھی ایک دو شعر پڑھوا کر دیکھئے چنانچہ عزالدین نے ایک کتاب امیر خسرو کے ہاتھ میں دی اور کہا کہ اس کو پڑھو۔ خسرو نے اس کتاب کو نہایت مُترنم اور سُریلی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا جس پر سامعین پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔ تاہم قاضی صاحب کے ایک اور دوست جو اس محفل میں تشریف فرما تھے کہنے لگے کہ گا کر شعر پڑھ لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ اس سے کہا جائے کہ چار متفرق چیزوں کے نام جن میں بظاہر کوئی مناسبت نہ ہو ایک ہی شعر میں اسی طرح بیان کرے کہ آپس میں مربوط مضمون کی شکل میں نظر آنے لگیں چنانچہ جن چار چیزوں کے نام لئے گئے وہ یہ تھیں۔ بیضہ،تیر،خربوزہ اور مُو۔۔۔
امیر خسرو نے برجستہ ایک رُباعی کہہ دی۔

ہر موی کہ در دو زُلف آن صنم است
صد بیضۂ عنبرین بر آن موی صنم است
چوں تیر مدان راست دلش را زہرا
چوں خربوزہ دندانش میانِ شکم است

یہ رُباعی سُن کر سب لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ خود قاضی صاحب نے فرمایا کہ اس شخص کا شہرہ بڑے بڑے اساتذۂ کلام میں بلند ترین ہو گا۔
فارسی زبان کے علاوہ امیر خسرو ہندی زبان میں بھی بہت اچھے شعر کہتے تھے۔ جِس طرح مذکور بالا غیر مربوط فارسی الفاظ کو خسرو نے شعر کی لڑی میں مربوط کر کے پرو دیا اسی طرح ایک ایسی ہی نشست میں انھیں چار چیزوں کے نام ہندی میں دئیے گئے کہ انھیں مربوط انداز میں شعر میں پرو دیا جائے۔ وہ الفاظ یہ تھے کُتا، چرخہ، ڈھول ، کھیر ۔۔۔۔ آپ نے فوراً فی البدیہہ یہ شعر کہہ دیا۔

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جَلا
آیا کُتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

جب تک اَمیر خُسرو کے نانا اُن کے سر پر سلامت رہے اُس وقت تک اُن کے روز و شب بڑے آرام و آسائش سے گزرے۔ اگرچہ چھوٹی عمر میں والد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے تھے لیکن نانا نے انھیں بہت احسن طریقے سےسنبھالا تھا اور ان کی تعلیم و تربیت میں مکمل التفات سے کام لیا تھا۔ چنانچہ خسرو کے دِل سے باپ کی فُرقت کا صدمہ اگرچہ محو نہیں ہوا تھا لیکن اس غَم کی شِدت میں کمی واقعی آ گئی تھی۔ نانا کی شفقت اور احسان نے ان کے دِل کو بہت زیادہ تسکین بخشی تھی۔ 671ھ میں جبکہ امیر خسرو کی عمر بیس سال تھی عماد المُلک بھی اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گئے۔

مُختلف درباروں سے وابستگی۔۔۔۔

نانا کے انتقال کے بعد خُسرو نے اس وقت کے ایک اہم اَمیر ملک چھجو کی مُلازمت اختیار کر لی لیکن یہ مُلازمت زیادہ دیر تک نہیں چل سکی۔ دوسال کے بعد ملک چھجو امیر خسرو سے ناراض ہو گیا یہ ناراضگی دراصل ایک حسد کا نتیجہ تھی، ایک دِن ملک چھجو کے ہاں محفلِ شعر و سُخن سجی ہوئی تھی اُس میں اُس وقت کی مشہور شخصیات شمس الدین دَبیر، قاضی اثیر ، بغرا خان اور کشلو خان بھی موجود تھے۔ ان سب حضرات نے امیر خُسرو کا کلام بہت پسند کیا اور بغرا خان نے خوش ہو کر سفیدجغراتی سکوں کا ایک تھال خسرو کو پیش کیا۔ جِسے چھجو خان نے حاسدانہ انداز میں پسند نہ کیا اور وہ خسرو سے جلنے لگا امیر خسرو کو خبر پہنچی کہ چھجو خان ناراضگی کا بدلہ لینا چاہتا ہے تو خطرہ محسوس ہونے پر وہ بغرا خان کے پاس سامانہ چلے گئے اور بغرا خان نے بھی خسرو کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے مصاحبوں میں شامل کر لیا کچھ عرصہ بعد بغرا خان کو بلبن نے بنگال کا حاکم مقرر کر دیا چنانچہ امیر خسرو بنگال جانے کی بجائے بلبن کے ہمراہ دہلی آ گئے۔ دہلی میں بلبن نے ایک عظیم الشان جشن منایا۔ اس جشن میں شِرکت کرنے کے لئے اس کا بیٹا محمد قآن حاکمِ مُلتان بھی آیا۔ امیر خسرو کی جب شہزادہ قآن سے مُلاقات ہوئی تو راہ و رسم احسن انداز میں بڑھنے لگی یہاں تک کہ شہزادہ قآن امیر خسرو کو اپنے ہمراہ مُلتان لے گیا اور وہاں مصحف داری کا منصب عطا کیا۔ مُلتان اِن دِنوں علم و ادب کا گہوارہ تھا۔
شہزادہ بذاتِ خود بہت اعلٰی درجے کا سُخن سنج تھا اور دادِ کلام دیتا تھا شہزادے کے دربار میں دو ہی شاعر تو عظیم تھے ایک امیر خسرو اور دوسرے خواجہ حسن سجزی
خواجہ سجزی کااصل نام نجم الدین تھا حَسن تخلص کرتے تھے۔
687ھ میں امیر تیمور نے ملتان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں شہزادے کی فوج کے ہمراہ شہزادے کےساتھ ساتھ امیر خسرو میں شاملِ جنگ تھے۔ شہزادہ اس جنگ میں مارا گیا اور امیر خسرو تیموری لشکر کے ہاتھوں قیدی بن گئے۔ تاتاری اُنھیں قید کر کے تبریز لیجا رہا تھے کہ راستے میں کسی جگہ خسرو تاتاریوں سے رہائی پا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور سیدھے اودھ میں خان جہان امیر علی حاکمِ اودھ کے پاس پہنچے امیر علی سر جاندار سلطان غیاث الدین بلبن کا چچا زاد بھائی تھا۔ وہ تقریباً دو سال تک خانِ جہاں امیر علی کے ہاں مقیم رہے۔ امیر خسرو نے رہائی پانے کے بعد شہزادہ کی وفات پر پُر درد مرثیہ لکھا ایسا مرثیہ جس کو پڑھنے کے بعد ہندوستان کا ایک ایک بشر زار زار رویا۔ امیر علی کے پاس دو سال قیام کے بعد اپنی والدہ کے حُکم اور اصرار پر خانِ جہاں امیر علی سے اِجازت لی اور دہلی آ گئے۔ دہلی میں سلطان معزالدین کیقباد حاکم تھا۔ سلطان نے امیر خسرو کو اپنے دربار میں آنیکی دعوت دی اور ملک الشعرا کا خطاب دے کر اپنے دربار سے وابستہ کر لیا۔ 689ھ میں جب کیقباد قتل ہو گیا تو جلال الدین فیروز شاہ خِلجی بادشاہ بن گیا امیر خصرو کے تعلقات پہلے سے ہی فیروز شاہ کے ساتھ خوشگوار تھے۔ بادشاہ بنتے ہیں فیروز شاہ نے خسرو کو امیر کا خطاب سرکاری طور پر عطا فرمایا اور اُن کو اپنے دربار میں مصحف داری منصب پر متمکن کیا۔ 698ھ میں فیروز خِلجی ایک سازش کا شکار ہو کر قتل ہو گیا، علاؤالدین خِلجی اس کی جگہ بادشاہ بن گیا۔ علاؤالدین خِلجی نے فیروز خِلجی کے بیشتر مصاحبوں اور عہدے داروں کو تہہ تیغ کر دیا اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا لیکن امیر خسرو کو بہت احترام سے نوازا اور دربار میں بطور ملک الشعراء وابستہ رہنے کی تلقین کی۔ اسطرح امیر کا نام پورے ہندوستان میں بہت وقار سے لیا جانے لگا۔ علاؤالدین خِلجی نے 21 سال تک حکومت کی 716ھ میں وہ بقضائے اِلٰہی فوت ہو گیا تو ملک کانور نے تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایک سال کی تگ و دو کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور 717ھ میں قتل ہو گیا۔ اس کے قتل کے بعد علاؤالدین خِلجی کا بیٹا قطب الدین مبارک تخت نسین ہوا۔ قطب الدین مبارک نے بھی امیر خسرو کی بہت زیادہ عزت افزائی کی اور اپنے دربار سے باقاعدہ منسلک رکھا اس نے امیر خسرو کا اس قدر احترام کیا کہ 718ھ میں "مثنوی نہ سپہر” لکھنے پر آپ کو ہاتھی برابر سونا انعام میں دیا۔ 720ھ میں قطب الدین مبارک کے ایک وزیر خسرو خان نے اس کو قتل کروا دیا اور خود ناصرالدین کے لقب سے تخت نسین ہو گیا لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد وہ خود بھی قتل ہو گیا بعد اَزاں غیاث الدین تغلق تختِ دہلی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ امیر خسرو اس کے دربار میں بھی اسی عزت و جاہ کے حامل رہے۔ جو پہلے بادشاہوں کے دور میں تھا۔ 725ھ میں غیاث الدین تغلق ایک حادثے میں مارا گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا جونا خان ناصرالدین محمد تغلق دہلی کا حُکمران بن گیا۔ امیر خسرو کو محمد تغلق نے بھی وہی اعزاز بخشا جو اس کے پیش رو اُن کو دے چُکے تھے۔ اس طرح امیر خسرو یکے بعد دیگرے کئی بادشاہوں کے دربار میں غیر متنازعہ طور پر وابشتہ رہے۔

اَمیر خسرو اور تصوف :

ایک رِوایت کیمطابق خسرو جب آٹھ سال کے تھے تو اپنے والد کے ہمراہ حضرت نِظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ دروازے پر رُک گئے اور اپنے والد کے ہاتھ پر مندرجہ ذیل رُباعی تحریر کر کے جناب نِطام الدین اولیاء کے حَضور پیش کی۔

تو آں شاہی کہ بر ایوانِ قصرت
کبوتر گر نشیند باز گردد
فقیرے مستمندے بر در آید
بیابد اندروں یا باز گردد

حضرت نِطام الدین اولیاء نے یہ رُباعی پڑھی تو بہت خوش ہوئے۔ اُسی دِن وہ اَمیر خسرو کی صلاحیتوں کے قائل ہو گئے اور رُوحانی طور پر اُن کی جانب مائل بھی ہو گئے۔ تاہم انھون نے فی البدیہہ مذکورہ بالا رُباعی کا جواب کچھ یوں دیا۔۔

بیابد اندروں مردِ حقیقت
کہ با ما یک نفس ہمراز گردد
اگر آبلہ بود آں مردِ ناداں
ازاں راہے کہ آمد باز گردد

"سیر الاولیا” میں محمد سعید مارہروی گویا ہیں کہ اَمیر خسرو 685ھ سے قبل ہی حضرت نطام الدین اولیاء کے مُریدوں میں شامل ہو چُکے تھے آپ حضرت نِطام الدین اولیاء کے بہت چہیتے مُرید تھے وہ اپنی نوعیت کے واحد مُرید تھے کہ حضرت نظام الدین اولیاء اُنہیں "ترک” (محبوب) کے نام سے یاد کرتے تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالٰی ایک قبر میں دو مُردوں کو دفن کرنے کی اِجازت دیتا تو میں امیر خسرو کی قُربت کو پسند کرتا۔ وہ اَمیر خسرو کی شخصیت کے دلدادہ تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جِس شخص سے وہ ہمکلام ہوتے ہیں وہ نہ صرف رُوحانی طور پر عالی مقام ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں بلند مقام کا حامل ہے۔ خسرو نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ وہ ایک صوفی بھی تھے۔ وہ ایک دلیر سپاہی اور مخلص دوست بھی تھے۔
وہ ایک دیانتدار مصاحب اعلٰی درجہ موسیقار،بلند مرتبہ مبلغ ، بہترین رازدان ، ایک نکتہ شناس اور بلند فکر رکھنے والے انسان تھے۔
بہرحال خؤاجہ نظام الدین اولیاء کے نزدیک وہ ایک معتبر شخصیت کے مالک تھے کتابی علوم کے علاوہ علومِ دینوی کے بھی ماہر تھے اور خؤاجہ صاحب کے نظر میں ایک ایسی شخصیت تھے جو کسی بھی موضوع پر کُھل کر لکھ سکتے تھے یہی وجہ ہے کہ اَمیر خسرو نے خواجہ صاحب کی ہدایت و فرمایش پر کئی مثنویاں اور اشعار تحریر فرمائے۔ امیر خسرو نے اپنی بیشتر تصانیف میں اپنے پیرو مُرشد کی مدح سرائی کی ہے بالخصوص دیوان غرة الکمال، مثنوی شیریں و خسرو، لیلٰی مجنوں، مثنوی مطلع الانوار، آئینۂ سکندری اور دول رانی خضر خان میں بہت مدح سرائی کی۔

حضرت نظام الدین اولیاء کی مدح کے چند اشعار مُلاحظہ ہوں،

چوں دم الِہام زدہ کام اُو
نائبِ وَحی آمدہ الہام اُو
سر کہ بزیرِ قدمش گشت خاک
مُوئے بمو از سر سودا ست پاک
مفتخر از وے بہ غُلامی منم
خواجہ نِطام است و نِطامی منم

پناہ جہان دینِ حق را نِطام
رہِ قُدس راہِ پیشوائے تمام
جہان زندہ از جانِ بیداد اُو
زمین روشن از روز با زاد اُو
جہان زو ہمہ وقت پُر نور باد
زمین را درش بیتِ معمور باد

نِطام الدین حق فرخندہ نامے
کہ دینِ حق گرفت از وے نِظامے
ز علمش در دو عالم روشنائی
دو عالم علم کسبی و عطائی
خدایا آن گزیدہ بندۂ خاص
کہ ہست الحمد اللہ جفت اخلاص
بہ قُربت ہم نشینِ مصطفٰی باد
دراں قُرب ایستادش بر ما باد

ایک روز حضرت نِطام الدین اولیاء نے امیر خسرو سے از رہِ تفنن دریافت فرمایا کہ اچھے اشعار سُنانے کا آپ کو کیا صِلہ چاہئیے تو آپ نے فرمایا کہ "میں کلام میں شیرینی سخن چاہتا ہوں” خواجہ صاحب نے فرمایا جاؤ اندر میرے پلنگ کے نیچے ایک برتن پڑا ہے اس میں شکر رکھی ہے اس کو جا کر چکھ لو۔ آپ نے ایسا ہی کیا چنانچہ خسرو کی شیریں زبانی آج تک مستند ہے۔ ان کی تاریخِ وفات بھی اسی لفظ میں پوشیدہ ہے یعنی "طوطئ شکر مقال” ۔ خواجہ نظام الدین کو نِطامی گنجوی کا :خمسہ” بہت پسند تھا اس میں نِطامی نے پانچ مثنویوں کا مجموعہ تیار کیا تھا۔ امیر خسرو نے جب اپنے مُرشد کی طبیعت کو اس طرف مائل دیکھا تو خود اس کے جواب میں پانچ مثنویوں کا مجموعہ لکھ دیا۔ اس کو خمسۂ امیر خسرو کا نام دیا۔ وہ مثنویاں حسبِ ذیل ہیں۔

1: مَثنوی مطلع الانوار بجواب مخزن الاسرار (نظامی گنجوی)
2: مثنوی شیری و خسرو بجواب خسرو و شیریں ( نِطامی گنجوی)
3؛ مَثنوی مجنوں و لیلٰی بجواب لیلٰی و مجنوں (نِطامی گنجوی)
4: مثنوی آئینہ سکندری بجواب سکندر نامہ (نِطامی گنجوی)
5: مَثنوی ہشت بہشت بجواب ہفت پیکر (نِطامی گنجوی)

جاری ہے

ملک حبیب
Malik Habib


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/