“مدرز ڈے کے لیے میں نے سب کچھ بک کر لیا تھا… ریسٹو…
میں 37 سال کا ہوں۔
ایک بیٹا ہے، عمر 13 سال۔
میری پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا… اور اُس کے بعد زندگی جیسے رک گئی تھی۔
پھر میری دوسری شادی ہوئی۔
وہ اپنی 16 سالہ بیٹی کے ساتھ آئی۔
گھر میں شور آ گیا، رنگ آ گئے… مگر سکون کہیں پیچھے رہ گیا۔
میرا بیٹا… علی…
وہ خاموش ہے۔
لوگ اسے "انٹروورٹ” کہتے ہیں۔
مگر میں جانتا ہوں—
وہ ٹوٹا ہوا نہیں ہے… وہ بس دنیا کو آہستہ محسوس کرتا ہے۔
کتابوں میں خوش رہتا ہے، اپنی جگہ چاہتا ہے، کم بولتا ہے… مگر جب بولتا ہے تو دل سے بولتا ہے۔
میری بیوی اور اُس کی بیٹی…
بالکل الٹ۔
پارٹیاں، مہمان، قہقہے، ہر وقت لوگوں کے بیچ رہنا۔
اور پچھلے کچھ مہینوں سے وہ دونوں علی کو "نارمل” بنانے کی کوشش میں لگی تھیں۔
“لوگوں میں جایا کرو”
“اتنا چپ رہنا عجیب لگتا ہے”
“تھوڑا سوشل بنو”
ایک دن علی میرے پاس آیا… آنکھوں میں آنسو تھے۔
“بابا… کیا میں گھر میں بھی اپنی مرضی سے نہیں رہ سکتا؟”
اُس دن میں نے پہلی بار اپنی بیوی سے سختی سے بات کی۔
میں نے کہا، “اسے اس کی جگہ دو۔ وہ ٹھیک ہے جیسے ہے۔”
انہوں نے معذرت کی۔
وعدہ کیا کہ اب پریشر نہیں ڈالیں گی۔
میں مان گیا۔
شاید مجھے نہیں ماننا چاہیے تھا۔
مدرز ڈے آنے والا تھا۔
میں نے سوچا، اس بار سب کچھ خاص ہونا چاہیے۔
ایک اچھے ریسٹورنٹ میں بُکنگ کروائی۔
اُس کے پورے خاندان کو بلایا۔
سرپرائز پلان کیا۔
میں چاہتا تھا… وہ خوش ہو۔
اور علی بھی اُس کے ساتھ کھڑا ہو۔
ایک مکمل فیملی کی تصویر…
جو شاید میں نے دل میں بہت پہلے بنا لی تھی۔
مدرز ڈے سے ایک دن پہلے…
میں جلدی گھر آ گیا۔
دروازہ کھولا… اور اندر جاتے ہی آوازیں سنائی دیں۔
کچن سے۔
میں رُک گیا۔
میری بیوی… اُس کی بیٹی… اور علی۔
میری بیوی کہہ رہی تھی،
“تم اپنے بابا سے کہہ دو کہ تم نہیں جانا چاہتے کل۔”
علی کی آواز آئی… ہلکی، مگر صاف۔
“میں جانا چاہتا ہوں… میں آپ کے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہوں.”
میری سانس رک گئی۔
وہ پھر بولی،
“نہیں، تمہارا وہ خاموش اور awkward رویہ سب کو uncomfortable کرے گا۔”
علی نے جلدی سے کہا،
“میں کوشش کروں گا… میں بات کروں گا… پلیز مجھے لے جائیں.”
ایک 13 سال کا بچہ…
اپنی جگہ مانگ رہا تھا۔
میری بیوی نے آہ بھری…
پھر وہ جملہ کہا جس نے سب کچھ توڑ دیا۔
“Technically… میں تمہاری ماں نہیں ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تم اتنا insist کیوں کر رہے ہو.”
خاموشی۔
پھر اُس کی بیٹی ہنسی،
“Exactly… اب تم اتنے بھی چھوٹے نہیں ہو کہ ‘ماما’ کے پیچھے گھومو.”
اور دونوں ہنسنے لگیں۔
ہنسی…
ایک بچے کی خودداری کے اوپر۔
میں اندر گیا۔
ہنسی فوراً رک گئی۔
تینوں نے میری طرف دیکھا۔
میں نے آہستہ سے کہا،
“علی، اپنے کمرے میں جاؤ۔”
وہ چپ چاپ چلا گیا۔
میں نے اپنی سوتیلی بیٹی کو بھی بھیج دیا۔
پھر میں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔
“کل کا فنکشن کینسل ہے.”
وہ چونکی۔
“کیا؟ کیوں؟”
میں نے صرف ایک جملہ کہا،
“کیونکہ میں اپنے بیٹے کی بے عزتی کا جشن نہیں منا سکتا.”
وہ فوراً دفاعی ہو گئی۔
“تم نے پوری بات نہیں سنی… تم غلط سمجھ رہے ہو…”
میں نے سر ہلایا۔
“میں نے اتنا سن لیا ہے جتنا کافی تھا.”
وہ غصے میں آ گئی۔
“میں اپنے فیملی کو کیا بتاؤں گی؟ تم میرا دن خراب کر رہے ہو!”
میں نے پہلی بار اُس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھ کر کہا،
“اور تم نے ایک بچے کا دل توڑا ہے… وہ بھی اپنے ہی گھر میں.”
اُس نے آواز بلند کر دی۔
“وہ بہت sensitive ہے! میں بس ماحول خراب ہونے سے بچا رہی تھی!”
میں ہنس دیا… تلخی سے۔
“ماحول بچانے کے لیے تم نے ایک بچے کو نکال دیا؟”
اُس رات وہ چیختی رہی۔
میں خاموش رہا۔
اگلی صبح… مدرز ڈے تھا۔
میں نے دیکھا، وہ اپنا سامان پیک کر رہی تھی۔
اُس نے علی کو بھی نہیں دیکھا۔
اپنی بیٹی کو لیا… اور چلی گئی۔
ایک کال نہیں۔
ایک میسج نہیں۔
بس چلی گئی۔
گھر میں خاموشی پھیل گئی۔
میں لاؤنج میں بیٹھا تھا۔
مدرز ڈے کی دوپہر تھی۔
میرا بیٹا اپنے کمرے میں تھا۔
میں اُس کے دروازے کے پاس گیا… آہستہ سے کھٹکھٹایا۔
“علی…؟”
اندر سے ہلکی آواز آئی،
“جی بابا…”
میں اندر گیا۔
وہ بیڈ پر بیٹھا تھا… آنکھیں لال تھیں۔
میں اُس کے پاس بیٹھ گیا۔
کچھ دیر ہم دونوں خاموش رہے۔
پھر اُس نے آہستہ سے پوچھا،
“بابا… کیا میں واقعی عجیب ہوں؟”
میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔
میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا۔
“نہیں بیٹا… تم وہ ہو جو لوگ سمجھ نہیں پاتے.”
وہ خاموش رہا۔
پھر اُس نے ایک اور سوال کیا،
“میں نے تو بس انہیں خوش کرنا چاہا تھا…”
میں نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“اور تم نے کر دیا… مگر کچھ لوگ خوش ہونے کے لیے نہیں، دوسروں کو کم محسوس کروانے کے لیے جیتے ہیں.”
وہ میرے کندھے سے لگ گیا۔
اور پہلی بار… میں اور وہ اُس دن گلے لگ کر رو پڑے۔۔۔
مدرز ڈے پر۔
ایک ماں کے لیے نہیں…
بلکہ اُس بچے کے لیے…
جو ماں کہلانے والی عورت کے ہوتے ہوئے بھی ماں سے محروم تھا۔
اور اُس دن میں نے فیصلہ کیا:
کچھ رشتے نام سے نہیں بنتے۔
اور کچھ لوگ…
ماں کہلانے کے قابل نہیں ہوتے۔
مدرز ڈے ہر سال آئے گا…
مگر اب میں صرف ایک چیز سیلیبریٹ کروں گا۔۔۔
اپنے بیٹے کی عزت۔
©️ ~Intikhaab-E-Sukhan~
#urdu #afsana #urdustories #emotional

