منتخب غزلیں
ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں یہ فرصتیں ہمیں…

ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں
خالد شریف
…….
غیر ممکن ہے تیرے غم کو منجمد کر دے
رگوں میں خون جماتا یہ دسمبر جاناں….
عنبرین_خان
……
پچھلے دسمبر میں جو خواب دیکھے تھے
اب کے دسمبر میں اس کے عذاب دیکھے ہیں
شاعر نامعوم
……
یوں تو چاہت میں نہاں جون کی حدت ہے مگر
سرد لہجے میں دسمبر کا اثر لگتا ہے
پریا تابیتا
……
"دسمبر مجھے راس نہیں آتا”
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے
چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیں
مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر
اب تک وہی جستجو کا سفر کررہا ہوں
گزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرا
مگر سال کے آخری دن
نہایت کٹھن ہیں
میرے ملنے والو!
نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئے
تو ملنا
کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہوا دل
دھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں
” محسن نقوی”
…..
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں
ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جاگے گا
اسے کہنا، ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی
دیواروں میں لرزاں ہے
اسے کہنا، شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے
عرش صدیقی (مرحوم) ملتان
….
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں
خالد شریف
…….
غیر ممکن ہے تیرے غم کو منجمد کر دے
رگوں میں خون جماتا یہ دسمبر جاناں….
عنبرین_خان
……
پچھلے دسمبر میں جو خواب دیکھے تھے
اب کے دسمبر میں اس کے عذاب دیکھے ہیں
شاعر نامعوم
……
یوں تو چاہت میں نہاں جون کی حدت ہے مگر
سرد لہجے میں دسمبر کا اثر لگتا ہے
پریا تابیتا
……
"دسمبر مجھے راس نہیں آتا”
کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے
چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیں
مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر
اب تک وہی جستجو کا سفر کررہا ہوں
گزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرا
مگر سال کے آخری دن
نہایت کٹھن ہیں
میرے ملنے والو!
نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئے
تو ملنا
کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہوا دل
دھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں
” محسن نقوی”
…..
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں
ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جاگے گا
اسے کہنا، ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی
دیواروں میں لرزاں ہے
اسے کہنا، شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو برف کیسے پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے
عرش صدیقی (مرحوم) ملتان
….


