شبِ ہجر کی انتہا ہی نہیں کوئی اِس سے بڑھ …
کوئی اِس سے بڑھ کر بلا ہی نہیں
گیا اس طرح دل کہ تھا ہی نہیں
کوئی زندگی کا مزا ہی نہیں
سکھاتے دعا کے وہ آداب کیوں
کہ جب اُن کو سُننا دعا ہی نہیں
خدا جانے جیتے ہیں ہم کس لیے
کچھ اُن سے تو آسرا ہی نہیں
کہیں کا نہ رکھا غمِ ہجر نے
خفا ہے وہ بت بھی خدا ہی نہیں
ادھر انتہا عشق کی ہے تو کیا
اُدھر تو ابھی ابتدا ہی نہیں
ترے عشق میں سب کی سنتا ہوں میں
مگر منہ سے کچھ بولتا ہی نہیں
وہ کچھ بھی سہی لیکن اے پند گو
محبت میں کچھ سوجھتا ہی نہیں
غضب ڈھا رہے ہیں یہ بت اسطرح
زمانے میں گویا خدا ہی نہیں
وہ چھائی ہے افسردگی ہجر میں
کوئی بات دل چاہتا ہی نہیں
بڑی منتوں سے سنا اُس نے حال
سُنا یوں کہ گویا سُنا ہی نہیں
صلہ کیا ملے گا وفا کا مری
تمہاری جفا تو جفا ہی نہیں
بلا سے جو راغب ہورہے خاک ہم
اب اُن کی تو وہ کم نگا ہی نہیں
راغب بدایونی
از:-کلیاتِ راغب بدایونی ص ۱۵۲/۱۵۳
انتخاب
سفیدپوس

