منتخب غزلیں

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی دل ایوبی ڈھن…

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی
دل ایوبی
ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی
ہم نے تو جرم محبت کی سزا مانگی تھی

کیا خبر تھی کہ اندھیروں کو بھی شرما دیں گے
جن اجالوں کے لئے ہم نے دعا مانگی تھی

عشق میں راز بقا کیا ہے خبر تھی ہم کو
ہم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی فنا مانگی تھی

مانگنے والوں میں شامل تو تھے ہم بھی لیکن
ہم نے اس در پہ فقط طرز نوا مانگی تھی

بن گئی حسن طلب بھی تو معمہ اے دلؔ
درد مانگا تھا وہ سمجھے کہ دوا مانگی تھی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/