منتخب غزلیں

مجاز لکھنوی کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے گردش…

مجاز لکھنوی

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے گردشِ دوراں بھول گئے
وہ زلفِ پریشاں بھول گئے، وہ دیدہء گریاں بھول گئے

اے شوق نظارہ کیا کہیے، نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں
اے ذوقِ تصور کیا کیجئے، ہم صورتِ جاناں بھول گئے

اب گُل سے نظر ملتی ہی نہیں، اب دل کی کلی کِھلتی ہی نہیں
اے فصلِ بہاراں رخصت ہو! ہم لطفِ بہاراں بھول گئے

سب کا تو مداوا کر ڈالا، اپنا ہی مداوا کر نہ سکے
سب کے تو گریباں سی ڈالے، اپنا ہی گریباں بھول گئے

یہ اپنی وفا کا عالم ہے، اب ان کی جفا کو کہا کہیے!
اک نشترِ زہر آگیں رکھ کر نزدیکِ رگِ جاں بھول گئے

ہم اپنی کہانی کس سے کہیں، خود ہم کو بھی جھوٹی لگتی ہے
وہ کون تھا کس کو چاہا تھا، اے عمر گریزاں بھول گئے


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/