#تیرے_عشق_میں #از_اقراء_خان #قسط_نمبر_11 #حصہ…

#از_اقراء_خان
#قسط_نمبر_11
#حصہ_اول
کیا مجھے تو سر کوئی نہیں بتایا ۔اس دن کے بارے میں
وشمہ نے حیرانی سے کہا ۔
چلیے ۔۔۔ابھی کچھ دیر میں سارے آفس کا سٹاف اکھٹا بیٹھا گا ۔تب آپ بھی کہہ لیجیے گا ۔
سٹاف ممبر نے کہا اور چلا گیا ۔۔۔
کیا مانگو ۔۔۔ ۔
وشمہ نے منہ بسورتے ہوے کہا ۔
***********************
سر آپ نے مجھے بتایا نہیں تھا ۔اس دن کے بارے میں
وشمہ نے شکایت والے انداز میں کہا
اشر ۔۔نے فاعل چیک کرتے ہوے کہا
کیا مس وشمہ کس دن کے بارے میں ۔
سر خدا کی قسم جب آپ آگے سے ایسا کہتے ہیں
تو میرا دل کرتا ہے کہ میں آپکا گلا دبا دوں
وشمہ نے دونوں ہاتھ آگے کرتے کہا ۔
اشر نے حیرانگی سے دیکھا ۔
آپ مجھے بتائی گی تو مجھے پتا چلے گا ناں
سر سارا سٹاف بزی ہے ۔۔آپ نے سال میں ایک دن ایسا رکھا ہوتا ہے جس میں سارا سٹاف ممبرز اپنی اپنی راے بتاتے ہیں
کہ آفس میں یہ ہونا چاہیے ۔
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا میں پہلے سے کسٹ بنا کے رکھتی ۔کوئی حال ہے ویسے
وشمہ نے چرتے ہوے کہا اس وقت اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ واقعی اشر کا گلا دبا دے ۔
(او شٹ اسکو کس نے بتا دیا ۔۔۔پتا نہیں یہ کیا کہے گی )
اشر نے دل میں سوچا ۔۔۔
ایک لمبی آہ بھری اور کہا
مس وشمہ آپ ایسا کریں ۔۔جو ۔چیزیں آپ کو لگتا ہے آفس میں ہوں
آپ مجھے پیج پہ لکھ دے ٹھیک ہے میں الگ بیٹھ کے پڑوں گا ۔
جیسے اشر نے کہا ۔۔وشمہ نے سر ہلایا اور اپنی کیبن کے جانب مڑی
*********************
سارا پروجیکٹ صیح سے ہونا چاہیے ۔
اشر میٹنگ میں مصروف تھا ۔
کہ باہر سے وشمہ ہاتھ میں شیشے کا مگ لیے ارہی تھی
میٹنگ روم کی دیواریں شیشے کی ہونے کی باعث اندر بیٹھے سب کچھ دیکھائی ۔۔دیا جا سکتا تھا
وہ اپنی دھن میں مگن مگ لیے آرہی تھی اشر نے ایک سرسری نظر اس پر ڈالی اور پھر وہ میٹنگ میں مصروف ہو گیا ۔
ہیل پہنے کی وجہ سے ۔وہ اپنے توازن کو برقرار نہ رکھ پائی کے اچانک
وہ نیچے گری جس کی وجہ سے وہ شیشے کا مگ اس کے ہاتھ پر اس قدر زور سے لگا ۔
کہ کچھ شیشے کی کرچیاں بری طرح اسکے ہاتھ پر خوبی
اور وشمہ کے منہ سے بے اختیار آہ نکلا
وہ میٹنگ روم کے سامنے رکھی چیر پر بیٹھ گئ ۔۔
ہاتھ سے بہتا ہوا خون ۔۔۔
وہ کرہا رہی تھی
کہ اچانک ۔۔اشر نے وشمہ کی طرف دیکھا ۔۔
(یہ کیا کر لیا ہے اس نے) اشر نے دل میں سوچا ۔
لیکن میٹنگ تھی وہ باہر بھی نہیں آسکتا تھا ۔
اشر کی بار بار نظریں وشمہ کی طرف جاتی ۔۔جو
اپنے ہاتھ
میں خوبی شیشے کی کرچیوں کو نکال رہی تھی
وہ جتنا مزضی خود کو میٹنگ میں مصروف کرتا لیکن بار بار ۔۔
اسکا دل ۔۔دکھ تا اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اسے تکیلف ہو رہی ہو ۔۔
اسکی آنکھیں بار بار اسکی طرف متوجہ ہوتی ۔۔
آخر ۔۔۔جیسا ۔۔اس دل نے چاہا ۔۔وہ خود کو روک نہ پایا ۔
اور اشر درمیان ہی میٹنگ میں اٹھا ۔
اور ساتھ بیٹھے زریاب کو کہا ۔۔
مسڑ زریاب آپ آگے کے پروجیکٹ کا بتائیں ۔۔میں ۔۔ابھی ضروری کال کر کے
آتا ہوں ۔۔۔
ایکسیوز می
اشر نے معذرت کی اور ۔۔میٹنگ روم سے باہر آیا ۔۔
وہ ابھی بھی اپنے ہاتھ کو آگے لیے بیٹھی ۔۔تھی
جیسے اشر بایر نکلا ۔۔
وشمہ نے اشر کی طرف دیکھا
سر کی میٹنگ ختم بھی ہو گئ
اس نے دل میں سوچا ۔۔
اشر پہلے اس سے تھوڑا اگے بڑھا ۔۔
جیسے وہ میٹنگ روم کے سامنے سے اوجھل ہوا ۔
اس نے وشمہ کا ۔
ہاتھ ۔۔فورا ۔سے پکڑا ۔
اور اپنے آفس میں لے گیا ۔۔
سارا سٹاف ممبرز میٹنگ روم میں تھے ۔۔
بیٹھو یہاں
اشر نے وشمہ کو چیر پر بیٹھایا ۔۔
اور فسٹ ایڈ بکس لیے اس کے قریب ۔پڑی چیر کو وشمہ کے سامنے رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔
کو اگے دو ہاتھ ۔
وشمہ حیران تھی ۔۔اسے سمجھ نہیں آتہی تھی کہ اشر میٹنگ چھوڑ کر صرف میرے لیے آے کیوں کہ مجھے چوٹ لگی تھی
وشمہ مسلسل اشر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
جو بڑی نفاست سے اس کے ہاتھ پر پایو ڈین لگا رہا تھا ۔
جیسے اسے جلن ہوتی ۔۔
اشر ہر دفعہ وشمہ کی طرف دیکھتا اور کہتا
تکلیف تو نہیں ہوئی ناں
کچھ نہیں ہوتا ابھی صیح ہو جاے گا
وشمہ ہر دفعہ نہیں میں سر ہلاتی وہ بلکل ساکت ہو گئ تھی اسکے دل کی دھڑکنے زور زور سے دھڑک رہی تھی
اسکے دل میں کئ طرح کے سوالات پیدا ہو رہے تھے ۔
سر اشر میرا اتنا خیال کیوں رکھتے ہیں
وہ میری ہاتھ کی بنی کالی چائے تک کی تعریف کرتے ہیں
وہ میری پاگلوں والی حرکتوں پر بجاے مجھے ڈانٹنے کہ ہس دیتے ہیں
میری لائی ہوئی لوکل مٹھائی کی ۔۔اتنی تعریف کرتے ہیں اور پھر مجھے منانے کے لیے گھر تک چلے آتے ہیں
ایسا کیوں ۔۔
وشمہ ۔۔کیا واقعی ۔۔۔تم بھی اشر سے محبت کرنے لگی ہو
ہاں
میں اشر سے محبت کرتی ہوں
وہ اسی خیالات میں گم تھی
کہ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا
سر آپ اپنی میٹنگ چھوڑ کر کیوں آے میں خود کر لیتی
اشر اب پٹی کر رہا تھا
کیسے کر لیتی خود مجھے پتا تھا تمھیں تکلیف کو رہی ہے ۔۔
کتنی دفعہ کہ چکا ہوں میں
دھیان سے چلا کرو
نہیں کہا بست ماننی ہے ۔۔
تمھیں پتا ہے میٹنگ میں اسی ٹنشن میں تھا کہ تمھیں چوٹ لگ گئ ہے
جیسے اشر نے کہا ۔۔
ایک دم خاموشی چھاہ گئ ۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔
وشمہ ۔۔بلکل چپ تھی ۔۔
کہ
اچانک زریاب کمرے میں داخل ہوا ۔۔
او ۔۔مس وشمہ آپ کو چوٹ کیسے لگی ۔
زریاب نے آکر ان دونوں کے درمیان ایک خاموشی کو توڑا اشر جلدی سے ۔۔
چیر سے اٹھا ۔۔
اور کہا
آئیندہ سے دھیان رکھیں اوکے ۔۔
آو
زریاب ۔۔
وشمہ وہاں سے چلی گئ ۔جیسے وہ جانے لگی
پیچھے سے پھر سے کیسی نے روکا
اچھا بت سنیے ۔۔وشمہ پلٹی
وہ آواز اشر کی تھی ۔۔جو سامنے بیٹھا ۔۔تھا
رات کو جا کر ۔۔بینڈج ۔۔ڈاخٹر سے چینج کروایے گا خود مت کریے زخم بہت گہرا ہے
اوکے
وشمہ نے سر ہلا دیا ۔۔وہ ابھی بھی ۔۔چپ تھی ۔
زریاب ۔۔نے مسکراتے ہوے اشر کی طرف دیکھا ۔۔
کیا ہوا ہس کیوں رہے ہو ۔
یہ تو تمھیں بھی پتا ہے
مطلب؟
مطلب یہ کے ۔۔اشر گیلانی۔تمھیں وشمہ کی اتنی فکر کیوں ہوئی کہ اسے چوٹ لگی تھی ۔۔
او ۔۔ہو زریاب ۔۔وہ آفس ممبر ہیں اور ویسے میں نے ان کو کہہ دیا ۔۔
ایک بات پوچھوں
ہا پوچھو ۔
تم ۔۔وشمہ کو پسند کرتے ہو ؟
یہ کیا ۔بکواس ہے زریاب ۔۔
بکواس نہیں ہے ۔۔سچ ہے تم وشمہ کو ہسند کرتے ہو
شٹ اپ زریاب ۔۔اور پلیز اپنی یہ فالتو ۔ڈسکشن میرے ساتھ مت کرو ۔۔
کتنی دفعہ کہہ چکا ہوں میں وشمہ کو پسند کرتا ہوں ۔
ہاں یہی بات ۔۔۔یہی بات میرے یار میں نے سننی تھی ۔
اشر تم ۔۔۔کیوں ۔۔خاموش ہو ۔۔اس سے کہہ کیوں نہیں دیتے وشمہ بہت ہی اچھی لڑکی ہے ۔۔
میں نے دیکھا وہ تمھاری زندگی میں واحد ایسی لڑکی ہے جس کے بارے میں تم بات کرتے ہو ۔۔
تو
پھر کیوں اشر کیوں چپ ہو کچھ نہیں کہے گے تمھارے بزنس رایئول ۔۔
زریاب ۔۔۔میں وشمہ کو پسند نہیں کرتا ۔
جھوٹ صاف جھوٹ ۔۔دیکھو ۔۔تم مجھ سے آنکھیں تک نہیں ملا پا رہے
اچھا تم اس سے ۔۔پیار نہیں کرتے تو ۔
پھر ۔
میٹنگ کیوں چھوڑ کے آئے ۔۔
کس لیے
صرف وشمہ کے لیے
کیوں
کیونکہ اسے چوٹ لگی تھی اور تکلیف تمھیں ہو رہی تھی ۔
تم ۔نے اسے افس سے نکالا ۔۔اور جب پتا چلا ۔کہ وہ سب جھوٹ تھا تم آج تک کیسی لڑکی کو منانے نہیں گے
کس کے لیے گئے
وشمہ کے لیے ۔
تم ۔ پہکے جب مجھ سے ملتے تھے نا مسکراتے تھے ۔
اور بس ایسی باتوں میں ٹائم گزر جاتا تھا
اور اب تم گھنٹوں باتوں میں ۔
ہر بات میں کس کی
باتین ہوتی ہیں
وشمہ کی
کہ وشمہ ایسے ہے اسکی بلیک کافی سے لے کر ۔
اسکی ہر بات ۔۔ہر بات پر تم ہستے ہو ۔۔
اب بتاو ۔۔یہ پیار نہیں تو کیا ہے ۔۔
اشر گیلانین۔۔چاہے تم خود کو جتنا مرضی کہہ لو سچ تو یہ ہے کہ وشمہ ولید ۔۔تمھارئ زندگی کا نا چاہتے ہوے بھی ایک ایسا حصہ بن گئ ہے ۔۔جیسے تم اپنے دل میں بسا بیٹھے ہو
اور میرے یار جو دل میں بس جاتے ہیں ۔۔ناں ۔
ان سے محبت ہو چکی ہوتی ہے ۔۔
پھر ان جھکی ہوئی آنکھوں سے جھوٹ نہیں بولا جاتا
جیسے زریاب نے کہا وہ افس سے باہر کی جانب بڑھ گیا ۔۔
یہ زریاب کیا کہہ گیا ۔۔واقعی ۔۔
ہاں ۔۔
مجھے وشمہ ولید سے محبت ہے ۔۔
اس نے ۔۔اپنے ہاتھ سے آنکھوں کو مسلا ۔
************************
وشمہ اپنے گھر کا دروازہ بند کیے ۔۔باہر نکلی تھی
جیسے اشر نے کہا
وہ ڈاکٹر کے پاس جانے لگی تھی
ابھی وہ باہر نکلی تھی ۔۔
کہ سامنے اشر گاڑی لیے کھڑا ۔۔تھا ۔۔
وہ وشمہ کو دیکھتے مسکرایا ۔
اور کہا ۔
آو ۔۔
میں لے جاتا ہوں ۔۔ڈاکٹر کے پاس
ا
ابھی وہ کچھ کہتی کہ اشر نے اسکو یہ کہتے ہوے چپ کروا دیا
اب تم یی کہو گی سر
آپ یہاں
تو میں یہاں ۔۔۔کیسی کام سے آیا تھا
تو سوچا آپ کا حال پوچھتا جاوں
شکریہ
وشمہ نے مسکراتے ہوے کہا
اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔مس وشمہ
آپ نے کچھ کھایا ہے ۔۔
وشمہ بولنے لگی کے اشر نے روکا
اب
جھوٹ مت بولیے گا
کہ میں نے کھایا ہے ۔
ہاتھ ۔۔پہ چوٹ کیسے کھایا ہو گا
چلیے میں اج اپ کو ڈنر کرواتا ہوں
نو سر ۔۔
رہنے دیں
مجھے بھوک نہیں ہے ۔
وشمہ نے کلینک سے باہر نکلتے ہوے کہا ۔
کیسے
نہیں ہے بھوک ۔
چلے آئیں ۔۔
***********************
اوے ۔۔
اوے ۔۔ چور چور ۔
میرا بھیگ ۔۔سر ۔۔جلدی کریں ۔
وشمہ
یہ کہتے ہوے ۔
کار میں بیٹھی ۔
سر جلدی چلائیں ۔۔
فادٹ وہ اگے ہی ہیں ۔۔
سر ۔۔
آپ کی گاڑی کی سپیڈ نہیں ہے کیا ۔۔
وشمہ یہ گاڑی ہے جہاز نہیں ہے ۔۔
تو گھر سے جہاز لے آنا تھا ناں
استغفراللہ ۔۔
کتنے پیسے ہیں والٹ میں
کیا مطلب سر جتنے بھی ہوں
پھر بھی ۔۔
کتنے ہیں زیادہ اماونٹ تو نہیں
سر پورے
1000 روپیا ہے میرے والٹ میں ۔۔
جیسے وشمہ نے کہا
اشر نے گاڑی کو بریک لگائی اور بے اختیار کہا
توبہ استغفراللہ
جاری ہے


