مرات رمزی ۔۔ بشکیر عوام کا عظیم سپوت باصلاحیت اور…

مرات رمزی ۔۔ بشکیر عوام کا عظیم سپوت
باصلاحیت اور نامور افراد کی زندگی کا اختتام اکثر ڈرامائی سانحات پر ہوتا ہے۔ ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں مشکل امتحانات اور نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ پر ان کی ہمہ گیر ذات ثقافت میں اپنا حصہ ڈال دیتی ہے تاہم وہ لوگوں کی تاریخ سے متعلق یاد سے محو ہو جاتے ہیں، کیا یہ تلخ ترین بے انصافی نہیں؟
ایسا ہی ایک بھلایا گیا شخص بشکیر قوم کا سپوت تھا۔ اس کی زندگی تاریخ روس کے انتہائی ڈرامائی ادوار سے گذری تھی یعنی اکتوبر انقلاب کے شوریدہ سر سال، خانہ جنگی اور پورے ملک کی سماجی معاشی اتھل پتھل۔ ان ہی واقعات کو مرات رمزی کے حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کیونکہ ان ادوار میں نہ صرف لوگوں کی ذات محو ہو گئی تھی بلکہ ہزاروں لوگ مارے گئے تھے اور سماجی معاشی بنت کا ایک پورا سلسلہ معدوم ہو گیا تھا۔
ان کا پورا نام مراداللہ ابن بہادرشاہ عبداللہ شیخ مرات رمزی تھا۔ وہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں مروّج اسلامی علوم کے ماہر تھے۔ انہوں نے نہ صرف تاتار اور بشکیر اقوام کی ثقافتی و مذہبی اقدار کو بلند کیا تھا بلکہ وہ سلطنت روس میں بسنے والی مسلمان قوموں میں روحانی نشاۃ ثانیہ کے امین بھی تھے۔ انہیں آج مغرب اور عرب کے علمی حلقوں میں مسلمان عالم، مورّخ اور دو جلدوں پر مشتمل تاریخی تحریر، کتاب "تلفیک الاکبر" کے مصنّف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ کتاب سلطنت روس میں بسنے والی ترک اقوام بشکیر، کازخ، تاتار، اور ازبکوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ سلطنت روس سے وابستہ وسیع خطے میں اسلام کی تاریخ سے متعلق ہے۔
مرات رمزی کو شیخ کا لقب مسلمانوں کو روشن فکر کرنے کی خاطر تاریخ کے ضمن میں کیے گئے کام پر ملا تھا۔
خود شیخ موصوف کی زندگی سے متعلق معلومات جزئیات میں ہے اگرچہ انہیں جوڑ کر ان کی سوانح حیات کے بارے میں جانا جا سکتا ہے۔
مرات رمزی1854 میں بشکیریا کی ایک بستی میں پیدا ہوئے۔ قوم سے بشکیر تھے۔ ان کے والد اور چچا مولوی تھے جو بشکیر عوامی فوج کے دستوں میں امام کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے۔ ان کے اجداد میں ایک بکسور خان کا نام بشکیر داستانوں میں بھی آتا ہے۔
بچپن میں انہوں نے شہر تروئتسک کی مسجد کے ساتھ وابستہ مدرسے میں تعلیم پائی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم شہر بخارا میں جاری رکھی تھی۔ کچھ سال دریائے والگا کے ساتھ والے علاقے اور یورال میں بھی بتائے تھے، جہاں انہوں نے تاریخ سے متعلق کام کیا تھا اور پھر مدینہ منورہ جا کر وہاں مستقل قیام کر لیا تھا۔ شیخ مراد رمزی نے 1936 میں وفات پائی۔
شیخ رمزی کی تحقیق بنیادی طور پر پاوولژے، یورال اور مغربی سائیبیریا میں روسی ترک اقوام اور اسلام کی تاریخ رہی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب "تلفیک الاکبر" لکھنے کی شروعات 1892 میں کی تھیں اور اسے 1907 میں مکمل کیا تھا۔ یہ کتاب 1908 میں منصہ شہود پر آئی تھی۔
شیخ مراد کی کتاب منظر عام پر آنے سے خاصی ہلچل ہوئی تھی۔ بادشاہ کے سنسر سے متعلق اہلکاروں نے اس کتاب کو " قدامت پرست کلیسا کی کھلی توہین اور روس میں بسنے والے مسلمانوں کو روسیوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش" قرار دیا تھا۔ بیشتر کتابیں ضبط کرکے جلا دی گئی تھیں۔
جہاں تک کتاب کے اصل مواد کا تعلق ہے تو وہ ہن، ترک، سلاو اور مادیار نسلوں کی تاریخی پیشرفت پر روشنی ڈالتی ہے۔ قرون وسطیٰ کے بعد کے دور میں انہوں نے "زریّں غول" کی تاریخ اس کی ثقافت، اس سے وابستہ اقوام کے بارے میں لکھا تھا اور پھر ترک خانوادہ کی تیزی سے ترقی کرتی روسی حکومت کے ساتھ اشتراک عمل کے بارے میں تحریر کیا تھا۔ پاولژے اور یورال میں بسنے والی قوموں پر شیخ رمزی نے زیادہ توجہ دی تھی۔ انہوں نےاٹھارویں اور انیسویں صدی کے تاتار اور بشکیر علمائے دین کی شخصیات اور کارگزاری کو زیادہ نمایاں کیا تھا۔
ان کی یہ کتاب اس خطے میں لکھی جانے والی ایسی دوسری کتابوں سے ممتاز ہے۔ انہوں نے اپنی یہ کتاب عربی زبان میں تحریر کی تھی جو بعد میں روسی اور مغربی یورپی زبانوں میں بھی منتقل ہوئی تھی۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2796068150623700



