#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 14 و…

#تحریر_فرحت_اشتیاق
قسط 14
وہ تو اب تک بھول بھی گیا ہو گا ۔اگر دوستوں میں کبھی کسی بات میں میری یاد آ بھی گئی تو سر جھکا کر سوچتا ہو گا کتنی بےوقوف اور بزدل لڑکی تھی جو خوامخواہ میرے گلے پڑ گئی تھا ۔
اور پٹیر پتہ نہیں میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گا وہ اکثر خود سے سوال کرتی ۔تمہاری طرح مجھے بھی یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ساری زندگی بھی ساتھ رہیں تو اجنبیت برقرار رکھتے ہیں ۔وہ اپنے اور دوسرے لوگوں میں ایک دیوار قائم رکھتا تھا ۔کسی کو اجازت نہیں دیتا تھا کے وہ دیوار پار کر جائے ۔۔کاش میں چچا گھر نہ جاتی اگر گئی تو لیلی کے ساتھ نہ جاتی تو یہ درد میرے ساتھ نہ ہوتا ۔امی اسے ساتھ لے جانے کے لئے بضد اور وہ سو بہانے نہ جانے کے آخر ہار مان کر کپڑے نکال کر پوچھنے لگی وہاں کیا کوئی فینس شو ہے یہ ڈریس کیسا ہے وہاں جانے کے لئے ۔اسکی بات پر بھابی ہنس پڑی میری جان فینسی ڈرسی شو، ہی سمجھوآج تووہاں پریاں جلوہ فروز، ہو رہی ہیں ۔سچ میں اسکی تیاریاں تو ہفتے بھر سے جاری ہیں ۔وہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے کسی کی شادی میں جانا ہے ۔وہ بغیر موڈ کے جا رہی تھی اسی لئے تیار ہونے کو بالکل دل نہیں تھا اسے ۔وہاں جا کر اس کا موڈ مزید خراب ہو گیا اس کی کزنز کی گٹھیا حرکتیں اسے ناگوار گزر رہی تھی ۔لڑکیوں کو کم سے کم اپنے نسوانیت کا خیال رکھنا چاہئے وہ ایک کونے میں بیٹھ گئی امی بھابھی سب سے ملنے ملانے لگے۔ساحرہ پھوپھو جو ابو کی فرسٹ کزن تھی بہت عرصے
بعد پاکستان آئی تھی ۔تو پورا خاندان انکی خدمت میں لگا ہوا تھا ۔
جن جن گھروں میں کنواری تھی وہ ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش میں تھے ۔اس خدمت کی بڑی وجہ پھوپھو کا بیٹا تیمور تھا ۔جو ساری زندگی لندن رہا ہے ۔پہلی بار پاکستان آیا تھا ۔پھوپھو نے آتے ہی بتایا تھا کے وہ اس کی شادی کرنا چاہتی ہیں ۔آج انھوں نے ہی تمام فیملی والوں کو پی سی میں ڈینر دیا تھا ۔ اسی لیے ایک سے بڑ کے ایک تیار ہو کے آئی تھی ۔لڑکیاں ساری تیمور کے اگے پیچھے منڈلا رہی تھی ۔اور ان کی امیاں پھوپھو کے گلے کا ہار بنی ہوئی تھی ۔ان لوگوں کی باتوں اور حلیے سے بے زار امی کے پاس آکر چلنےکا کہنے لگی تو وہ انکار میں سر ہلاتی بولیں
کھانا کھاتے ہی چلیں غزلوں کا پروگرام ہے سن کر چلیں گے ۔امی اور غزلیں وہ سمجھ گئی کے امی بھی اپنی بیٹی کو مقابلے میں لائی ہے ۔بےزار ہو ک پیچھے کونے میں جا بیٹھی۔کوئی اسکے برابر والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟
آئلہ نے اپنی کسی سوچ سے چونک کر دیکھا ۔تو تمام لڑکیوں کا سورج اس کے پاس آ بیٹھا۔جہاں غزل اپنا جادو جگا رہی تھی ۔
ہاتھ دیا اس نے میرے ہاتھ میں
میں تو ولی بن گیا ایک ہی رات میں
وہ غزل کے بولوں کی طرف متوجہ ہوئی تو وہ پھر سے مخاطب ہوا ۔آپ کو شاید غزلیں پسند نہیں اسی لیے بور ہو رہی ہیں ۔اسے خوامخواہ اس سے چڑ ہونے لگی جو سر پر سوار ہو گیا ۔غزلوں سے سب کی توجہ ہٹ گئی محفل کی جان ایک اندھیرے کونے میں عام سی لڑکی کے پاس لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔اسکے جواب نہ دینے پر خود بولا مجھے بھی غزلیں نہیں پسند۔ مجھے فوک میوزک پسند ہے ۔اگر غزلیں پسند ہوتی تو شاید فوک سنتے۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔واہ بھئ جیتنی خوبصورت ہو اتنی زہین بھی اور زہین لڑکیاں مجھے بہت پسند ہیں ۔وہ جہاں سے آیا، تھا اس کے لیے عام سی بات تھی آئلہ ایک دم کھڑی ہو گئی تو وہ بھی کھڑا ہو گیا ۔اسکے چہرے کی ناراضگی دیکھ کر کچھ کہنا ہی چاہتا تھا ۔تو وہ فوراً اگلی نشستوں کی طرف بڑھ گئی جہاں امی لوگ بیٹھے تھے ۔
تمام لوگوں کے چہرے بجھے نظر آرہے تھے ۔تو وہ امی سے ضد کر کے جانے کو راضی کر لیا ۔اگلا دن پورے خاندان کی لڑکیوں کے لئے صدمہ لے کر آیا تھا ۔پھوپھو اپنے لاڑلے کے لئے آئلہ کا رشتہ مانگنے آئی
امی کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے لاڑلی بیٹی کے لیے جیسا سوچا تھا لڑکا اس سے بڑ کے تھا ۔اچھا تو جان کے سادے حلیے میں گئی تھی تاکہ دوسروں سے الگ لگو بھابھی نے اسے چھڑا۔
امی ابو نے رسمی سا سوچنے کو بولا سب کو یقین تھا مان جائیں گے ۔اس نے بھابھی سے اس رشتے سے انکار کر دیاکیا تو وہ ایسے دیکھنے لگی جیسے اس کے دماغی حالت پر شک ہو۔
پاگل ہو کیا ایسے رشتے نصیب سے ملتے ہیں ۔ایسا شاندار بندہ ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے ۔کوئی پاگل ہی انکار کرے گی۔
اس کے انکار کی وہاں کوئی حیثیت نہیں تھی سب خوش تھے ۔اس کے چہرے کی اداسی سب کے بےتحشا خوشی میں کسی کو نظر نہیں آئی۔
ان ہی دنوں لیلی اور دانش شادی کے بعد پہلی بار پاکستان آئے تھے ۔لیلی یہ خبر سنتے ہی سب سے پہلے اس سے ملنے چلی آئی۔
وہ اپنے کمرے میں تکیے میں منہ چھپا کر لیٹی تھی لیلی نے آتے ہی تکیہ کھنچ لیا۔بہت خوب ساری دنیا کو بےآرام کر کے خود آرام فرما رہی ہو۔وہ بہت خوش نظر آرہی تھی ۔تم نے پورے خاندان کی لڑکیوں میں مقابلہ جیتا ہے سب کی امیاں بدعائیں دے رہی ہوں گی ۔وہ اپنی بات تو انجوائے کر کے خود ہنسنے لگی ۔پھر بولی
آج کل تمہیں ہچکی ضرور آتی ہو گی
اچانک اس کی نظر اس کے روئے ہوئے چہرے پر پڑی تو وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگی کیا بات ہے تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور سر جھکا کر بیٹھی رہی۔تو اس نے اس کا چہرہ اوپر کرتے بولی
تم روئی تھی؟
وہ اپنے آنسو اس وقت لیلی سے بھی چھپانا چاہتی تھی ۔اس لئے اس کا ہاتھ جھٹک کر کھڑی ہو گئی ۔بڑے افسوس کی بات ہے میں نے آج تک تمیں اپنی سب سے اچھی دوست سمجھا اور اپنی ہر ہر بات تم سے شئیر کی اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا جلدی بتاؤ مجھے سے کیا کیا چھپایا ہے ۔ورنہ ابھی اور اسی وقت دوستی ختم کر کے یہاں سے چلی جاؤں گئی ۔آئلہ بھی کب سے کسی کے کندھے کی متلاشی تھی اس کے کندھے سر رکھ کر روتی ہوئی بولی
لیلی میں یہ منگنی نہیں کرنا چاہتی پلیز اسے رکوا دو۔تم تو کچھ بھی کر سکتی ہو۔اس نے اسے رونے دیا جب دل کا غبار ہلکا ہواتوخاموشی سے اس کے کندھے پر سر رکھے رہی وہ بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوئے بڑے پیار سے بولی۔
آئلہ تم مجھ سے شئیر نہیں کرو گی جو تمہارے دل میں ہے ۔
لیلی وہ بہت اچھا تھا اس کے جیسا کوئی نہیں ہو سکتا وہ جیسے سرگوشی میں بول رہی تھی ۔جواب میں اس نے گہری سانس لی اور بولی
ظاہر ہے اچھا ہو گا تو تمہیں پسند آیا۔
وہ تیمور کی طرح ہینڈ سم نہیں تھا شاید دولت مند بھی نہ ہو مگر میرے لیے دنیا کا سب سے اچھا انسان تھا ۔
محبت یہ نہیں ہوتی شکل دولت دیکھو وہ دھیرے دھیرے سب بتا رہی تھی اور وہ غور سے سن رہی تھی ۔
میں تین دن اسکے ساتھ رہی وہی مجھے زندگی لگتی ہے یہ تو جیسے کوئی سزا ہے ۔۔وہ جیسے کہیں کھو گئی تھی ۔لیلی نے ایک بار بھی ٹوکا نہیں بس چپ چاپ سنتی رہی۔وہ باظاہر بہت اکھڑا سا مگر حساس ہمدرد عام لوگوں جیسا نہیں تھا وہ
میں تہنا جنگل میں روکنے والا کوئی نہیں تھا اس نے ایک بار بھی غلط نظر سے نہیں دیکھا ۔اسکی نگاہوں میں پاکیزگی تھی ۔کیا کوئی اور ایسا ہو سکتا ہے ۔اتنا باکردار کون لگتی تھی میں اسکی اپنی جان پر کھیل کر میری عزت بچائی اس نے اسے کیا جیسے میں اس کی زمہداری ہوں ۔میرے لئے اس نے اپنا قیمتی لہو پانی کی طرح بہایا مگر مجھ پر انچ نہیں آنے دی۔لیلی نے پوچھا تو پھر کیا وہ اچانک بچھڑ گیا تھا ۔بچھڑا تو تھا مگر اچانک نہیں ۔
ہم نے باقاعدہ ایک دوسرے کو الوداع کیا تھا ۔وہ بڑے دکھ سے بولی تو لیلی حیران نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ وہ میرے ساتھ ہمدردی اور خلوص سے خیال رکھتا تھا اسے تم جیسی بہادر لڑکیاں پسند تھی ۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں کتنی خوش قسمت ہو گی وہ لڑکی جیسے اس کی رفاقت ملے گی۔میں اس کے مقدر پر رشک کرتی ہوں ۔
اور اس کی بات پر لیلی نے اپنا سر پیٹ لیا۔یعنی تم یہاں بیٹھی یکطرفہ محبت کا سوگ مناتی رہو گی۔اکسویں صدی ہے یار
انسان بھی وہی ہیں ان کے جزبات بھی اکیسویں صدی ہو یا بائیسویں
وہ ہنس پڑی اور بولی
اچھا سہی ہے مگر تم یہ تو کر سکتی تھی اپنی محبت کا اظہار ہی کر لیتی
میں اگر بول بھی دیتی تو وہ یہی کہتا کے میں نے جو کیا اسکی امید اپ نے یہ لگا لی میں اس میں پورا نہیں اتر سکتا، تو میں اپنی نظروں میں گرتی۔لیلی اس کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے بولی
ایک ایسا شخص جس کا تمہیں پتہ نہیں کے محبت کرتا بھی تھا کے نہیں اور تم سے کھو گیا۔تو کیا اس سے بہتر نہیں جو بہت خلوص سے تمھاری طرف بڑھ رہا ہے ۔جس نے تم تک آنے کے لئے درست رستے کا انتخاب کیا ۔ہمیں زندگی میں بہت سی چیزیں بہت لوگ اچھے لگتے ضروری نہیں وہ مل بھی جائیں ۔زندگی اسی کا نام ہے ۔ہمیں اکثر وہ زندگی گزارنی پڑتی ہے جو ہم نہیں چاہتے ۔تم تو بہت خوش قسمت ہواس نے کتنی لڑکیوں میں تمارا انتخاب کیا ۔تمارا ساتھ مانگا
یقین کرو چاہنے سے چاہئے جانے کا احساس خوش کن ہوتا ہے ۔آپ کس کے لئے بہت اہم ہیں ۔اس کی خوشیاں اور غم آپ سے وابستہ ہیں ۔یہ بات تم جانو گی تو میری ساری باتیں تمیں سہی لگیں گی ۔
وہ اسکی رازدار اسے بہت آرام سے سمجھا رہی تھیوہ اسے بہت دیر سمجھاتی رہی اسکے جانے کے بعد اس نے دل ڈٹولا تو اس میں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی پھر سوچا زندگی ایسے ہے تو ایسے ہی سہی۔عزیز دوست کے لئے لیلی نے بہت دل سے دعا دی ماتھاچوما اسکے ساتھ بیٹھا بہت خوش نظر آ رہا تھا ۔ہر کوئی رشک کی نظر سے دیکھ رہے کوئی حسد کی نظر سے دیکھ رہا تھا ۔وہ ان تمام باتوں سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھی تھی ۔ساتھ بیٹھا انسان اتنا خوش جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہے پھر اس نے اسے ڈائمڈ رنگ ہاتھ دبا کر پہنائی۔محبت کی نظروں سے جھک کر اسے دیکھا ۔رات کو اس نے فون کیا اسے اور کہا کے میں اتنا خوش ہوں اپنے اپ کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں جو زندگی میں چاہا مل گیا پر آج مجھے واقعی ہی احساس ہو رہا ہے میں بہت لکی ہوں ۔ادھر اس کا یہ حال تھا جیسے اس کے اندر کوئی بین کر رہا ہو۔زندگی نے کتنا عجیب مزاق کیا ۔یہ بات جن لبوں سے سننا چاہتی تھی کبھی سن نہیں پائی۔
جاری ہے


