مختصر کہانیاں

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 15 ت…

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو
#تحریر_فرحت_اشتیاق
قسط 15

تم مجھے پہلی نظر میں ہی اچھی لگی تھی ۔تم اس روز ڈنر میں ایسے بیٹھی تھی ۔تمھارا وہ انداز مجھے اتنا متاثر کرگیا۔اور میں کھنچا تمہارے پاس چلا آیا۔مگر تم ایسے مجھے نظرانداز کر کے چلی گئی میرے اگے پیچھے سب لڑکیاں مجھے کسی میں کوئی کشش نہیں لگی تم نے ایسا کیا کے میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کے یہی وہ ہے جسے اللہ نے میرے لئے بھیجا ہے ۔
وہ جب تک کراچی رہا اسے کھومنے لے جاتا شاپنگ کرواتا اگر اس کے کفٹ سے وہ کچھ پہن لیتی ایسے خوش ہوتا جیسے اسے خزانہ مل گیا ۔اس نے جاتے ہوئے اس سے کہا میں سب کام جلدی مکمل کر کے پھر شادی کے لئے آؤں گا تاکہ ہم دنیا گھومے اور پیچھے کام کی فکر نہ ہو اس نے نے بہت قیمتی نیکلس اسے پہناتے ہوئے سب کہا۔اس نے تیمور سے اپنی جاب کو زکر کیا اسے کوئی اطراز نہیں تھا مگر پھوپھو ناراض ہوئی۔میری ہونے والی بہو ٹکے ٹکے کی نوکری کرے۔جیتنی تمہیں وہ تنخواہ دیں گے اس سے دوگنی تو میں اپنے نوکر کو دیتی ہوں ۔جیتنے پیسے چاہیئے ہم سے لے لو۔ماں کی باتوں کی ہر بار تیمور نے آئلہ سے معافی مانگی ۔میں وعدہ کرتا ہوں شادی کے بعد جو بھی کرنا چاہو گئی میں پورا ساتھ دوں گا ۔۔۔وہ پھوپھو کی باتوں سے ہرٹ ہوئی تھی کے نہیں مگر اس انسان کے انداز سے خود پر شرمندہ تھی کے اتنے اچھے انسان سے وہ منافقت کر رہی تھی ۔
پھوپھو کا اعلیٰ دماغ اور ان کا گھر اسے ڈربے کی طرح لگتا جب تک پاکستان رہی آئلہ کی زندگی عزاب میں کی ۔یہ کیوں پہنا یہ اتنی ہلکی جیولری کیوں استمال کی کپڑے اس کلر کے کیوں پہنے ہماری بہو ہو اب ہمارے جیسی بنو۔فلاں سے اردو میں کیوں بات کی ۔وغیرہ وغیرہ ۔وہ شاید بیٹے کی ضد سے مجبور تھی ورنہ عام سی لڑکی کو اپنے گھر کی اکلوتی بہو کا اعزاز دیتی۔لندن جا کر بھی تیمور میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ویسے فون کرتا تحائف بھی بھیجتا ۔اب وہ بھی اس سے بہت اچھی طرح سب کرتی۔چھ ماہ بعد آئلہ کی سالگرہ تھی تیمور نے خاص طریقے سے منانے کا سوچا اور اچانک پاکستان آ کر سب کو سرپرائز دے دیا ۔لیلی اور دانش چچی کی طبعیت خراب کی وجہ سے آئے ہوئے تھے تیمور کے آنے پر اسے چھیڑنے لگے ۔
تم نے کیا جادو کیا اس پر مجھے بھی بتاو دانش پر کروں یہ تو ساتھ رہ کر بھی میری سالگرہ بھول جاتا ہے ۔یاد آ جائے تو حسان کر کے گفت سے نوازا جاتا ہے ۔تیمور بہت مصروف ہو کر بھی تین دن کے لئے آیا تھا ۔اور آج اس کو واپس جانا تھا ۔اور تیمور اس کو ایک سیمینار میں لے گیا اس کا کوئی دل نہیں تھا مگر تیمور کو خوش کرنے کے لئے اس کے ساتھ چلی گئی وہاں ایسی باتیں کے اس کا دم گھٹتا محسوس ہوا اس نے تیمور سے کہا میں تھوڑا باہر جانا چاہتی ہوں اجازت ملنے کی دیر تھی ۔۔وہاں سے بھاگ نکلی ۔ادھر اُدھر ٹہلنے لگی ۔
سامنے آتے شخص کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی اس سے نظریں چرا کر جانا چاہتی تھی وہاں سے مگر قدم رک گئے ایک ہی لحمے میں وہ بھی اس کے سامنے تھا ۔وہ اسے دیکھ کر بےحد خوش لگ رہا تھا ۔صرف تمہاری وجہ سے روز بی بی سی دیکھتا ہوں کے شاید متحرمہ نے کوئی تیر مارا ہو مگر افسوس ۔
وہ پتہ نہیں کس بات پر بہت خوش لگ رہا تھا ۔کچھ تو بولو یہی کہہ دو کے میں نے تمیں پہچانا نہیں ۔وہ بامشکل بولی
کیسے ہیں آپ؟ وہ اسکے فارمل اندازپر حیرت سے بولا
میں تو خیر ٹھیک ہی ہوں تم اپنی سناؤ اسکے جواب سے پہلے ہی بولا۔میرا خیال ہے کہیں بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں ۔اور چلنے کے لئے قدم یوں بڑھائے جیسے اسے یقین تھا وہ ساتھ چل پڑے گی ۔
وہ اپنے آپ کو اس کے ساتھ جانے سے روکنا چاہتی تھی مگر اس کے قدم خود بخود اس کے پیچھے چل پڑے۔اسے سست چلتا دیکھ کر وہ بھی آہیستہ چلنے لگا ۔پھر ایک جگہ اس بیٹھنے کا بولا وہ بیٹھ گئی ۔
وہ بہت ایکسائیٹڈ لگ رہا تھا زمین کی سطح کو گھورتے ہوئے بولا کے اب پتہ چلا دنیا اتنی واسعی نہیں کے جو کھو جائے پھر ملے نہ۔
تمہیں یقین تھا ہم کبھی دوبارہ ملیں گے ۔وہ عجیب باتیں کر رہا تھا اپنے ملنے پر اسے خوش دیکھ کر تعجب تھا کچھ دیر جواب نہ ملنے پر خود ہی بولا۔تمہیں نہیں لگتا ہم فیلمی انداز میں اچانک مل جاتے ہیں ۔میں نے تو اب سوچ لیا فیلموں کا اب مزاق نہیں اڑاوں گا وہ اپنی بات پر خود ہی ہنسا۔وہ جواب میں مسکرا بھی نہ سکی۔
وہ اسے خاموش دیکھ کر خاموش ہو کر بولا۔
دو سال وقت اتنا طویل نہیں ہوتا کے کوئی پورے کا پورا بدل جائے مگر تم مجھے بہت بدلی لگ رہی ہو ۔ارے لڑکی کچھ تو بولو۔اتنی دیر سے میں ہی بولے جا رہا ہوں ۔وہ خود کو سنھبالتی ہوئی بولی۔
آپ یہاں کیسے آئے کوئی مہم تھی ۔وہ یہ سمجھ رہا تھا ابھی روٹھے انداز میں بولے گی میرا نام لڑکی نہیں آئلہ ہے ۔اس کے غیر متوقع جواب پر وہ کچھ چپ بیٹھا رہا ۔کافی دیر بعد گم صم لہجے میں بولا مہم ہی سمجھ لو۔وہ اب کچھ سرد پڑ گیا تھا ۔آئلہ تمہیں مجھ سے مل کے کوئی خوشی نہیں ہوئی وہ اس کے تاثرات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔جیسے وہ خوش ہونا بھی چاہتی ہے اور نہیں بھی ۔جیسے کوئی بات کوئی چیز اسے روک رہی ہو ۔وہ اس کا چہرہ آسانی سے پڑھ لیا کرتا تھا اس کا چہرہ سچا منافقت سے پاک تھا ۔مگر آج حیران کر رہی تھی ایسے کر کے ۔میں آپ سے مل کر خوش کیوں نہیں ہوں گی آپ تو میرے محسن ہیں ۔آپ کے بہت احسانات ہیں مجھ پر ۔وہ اوپر دیکھو کر بات نہیں کر رہی تھی اپنی آنکھوں کا بھید نہیں دینا چاہتی تھی ۔تم مجھ سے ناراض ہو نا ۔کتنا سمجھایا تھا پٹیر نے مجھے وہ دوست میرا تھا فیور تمہاری کرتا تھا ۔پتہ نہیں وہ کس غلطی کا اعتراف کر رہا تھا ۔۔۔آئلہ مجھے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ہم پھر کبھی ملیں گے ۔اپنے خیال سے میں نے تمہیں ہميشہ کے لئے کھو دیا تھا ۔جب میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا تمہاری ناراض اور شکایت کرتی نظریں میرے ساتھ ہی تھی ۔ان نظروں نے ہمیشہ میرا پیچھا کیا ۔وہ جیسے پتہ نہیں کون سی زبان بول رہا تھا جیسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔مگر اسے اچانک محسوس ہوا اس کے ہاتھ میں پہنی قیمتی انگوٹی اسے چبنے لگی ہے ۔اپنی کیفیت سے گھبرا کر وہ کچھ کہنا چاہتی تھی کے وہ بول پڑا۔

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/