ماجد جہانگیر مرزا کا یومِ پیدائش July 31, 1984 سا…

July 31, 1984
سالگرہ مبارک ہو
…..
(میں ترے ساتھ ہوں)
کیوں پریشان ہو
کتنی نادان ہو
لغو باتوں کو دل میں بساتی ہو کیوں
دل جلاتی ہو کیوں
خود بھی روتی ہو مجھ کو رلاتی ہو کیوں
زیست کٹ جائے گی
رات چھٹ جائے گی
پھر یہ افسردگی کیوں ہے دیوانگی
غم کے اوقات میں حوصلہ شرط ہے
زندگی کے لیے
جسم کا روح سے رابطہ شرط ہے
اک گزارش سنو
اشک کا آنکھ سے رابطہ توڑ دو
اس کی مرضی پہ اپنی خودی چھوڑ دو
جب بھی تنہائی میں سر کھجانے لگو
اپنی روداد خود کو سنانے لگو
یاد اتنا رہے
ہر قدم ہر گھڑی
میں ترے ساتھ ہوں
میں ترے ساتھ ہوں
……..
۔۔۔۔۔بشر کو آزماتا ہے۔۔۔۔۔
خدا تحریریں لکھتا ہے
جسے ہم تم مقدر کا لکھا گردانتے ہیں
خدا تحریریں پڑھتا ہے
جو ماتھے پر ہوں آویزاں
دلوں میں جو پنپتی ہوں
جو ہاتھوں کی لکیروں میں کسی کل کا پتا دیتی نظر آئیں
کسی بھی خواب کی تکمیل ہوگی کن شرائط پر
مسافت مختصر ہوگی یا اس کو طول دینا ہے
وہ حتمی فیصلہ کر کے
فقط ہر فیصلے کے ساتھ لفظِ کُن لگاتا ہے
کسی کو روک لیتا ہے کسے ہر دم بھگاتا ہے
فلک پر بیٹھ کر ماجد ہمیشہ حظ اٹھاتا ہے
بشر کو آزماتا ہے۔بشر کو آزماتا ہے۔
…….
مشورہ
بوۓانفاس پر یاد حاوی ہوئی
وصل کی جھلکیاں جھلملانےلگیں
آنکھ سونے سے قاصر ہوئی ان دنوں
مجھ کو سونے کی تلقین مت کیجیے
نظم کی شکل میں درد بہنے لگا
اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھیے
لفظ میری جگہ کرب سہنے لگا
ایسی صورت میں یہ مشورہ مفت ہے
شب کی دہلیز سے تازہ نظمیں اٹھا
ریزہ ریزہ نہ کر کے بدن کو مٹا
ہوسکے یاد کو اپنی طاقت بنا
ہوسکے یاد کو اپنی طاقت بنا
ماجد جہانگیرمرزا


سالگرہ مبارک ہو بہت بہت
ماشاءاللہ ، یوم پیدائش مبارک ھو ، اللہ کریم صحت ، رزق ، سخن اور عمر میں برکت عطا فرمائے ، آمین
Mashallah Happy birthday majid brother
مبارک۔
Bohat zabrdast