اظہر ادیب کا یومِ پیدائش July 31, 1949 سالگرہ مبا…

July 31, 1949
سالگرہ مبارک ہو
…..
لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے
اب تو زہر الفاظ میں رکھا جاتا ہے
….
ہم نے گھر کی سلامتی کے لئے
خود کو گھر سے نکال رکھا ہے
…..
ایک لمحے کو سہی اس نے مجھے دیکھا تو ہے
آج کا موسم گزشتہ روز سے اچھا تو ہے
….
تو اپنی مرضی کے سبھی کردار آزما لے
مرے بغیر اب تری کہانی نہیں چلے گی
….
ہمیں روکو نہیں ہم نے بہت سے کام کرنے ہیں
کسی گل میں مہکنا ہے کسی بادل میں رہنا ہے
….
جو زندگی کی مانگ سجاتے رہے سدا
قسطوں میں بانٹ کر انہیں جینا دیا گیا
….
کسی کی ذات میں ضم ہو گیا ہوں
میں اپنے آپ میں غم ہو گیا ہوں
…
ذرا سی دیر تجھے آئنہ دکھایا ہے
ذرا سی بات پر اتنے خفا نہیں ہوتے
…..
ہوا کو ضد کہ اڑائے گی دھول ہر صورت
ہمیں یہ دھن ہے کہ آئینہ صاف کرنا ہے
…
کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ
اپنے شہر کی مٹی بھی سامان میں رکھ
سارے جسم کو لے کر گھوم زمانے میں
بس اک دل کی دھڑکن پاکستان میں رکھ
جانے کس رستے سے کرنیں آ جائیں
دل دہلیز پہ آنکھیں روشندان میں رکھ
جھیل میں اک مہتاب ضروری ہوتا ہے
کوئی تمنا اس چشم حیران میں رکھ
ہم سے شرط لگانے کی اک صورت ہے
اپنے سارے خواب یہاں میدان میں رکھ
جب بھی چاہوں تیرا چہرا سوچ سکوں
بس اتنی سی بات مرے امکان میں رکھ
تتلی رستہ بھول کے آ بھی سکتی ہے
کاغذ کے یہ پھول ابھی گلدان میں رکھ
اپنے دل سے رسوائی کا خوف نکال
اظہرؔ اب تصویر مری دالان میں رکھ


ماشاءاللہ بہت خوبصورت ❤
بس اک دل کی دھڑکن پاکستان میں رکھ
مبارک۔
Bohat zabrdast bohat khoob
واہ….
Wah, Mola slamat rkhay.