مختصر کہانیاں
Epi 20 ان کی ہر چیز سے محروم کر کے تباہ و برباد ک…

Epi 20
ان کی ہر چیز سے محروم کر کے تباہ و برباد کردیا
وہ خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا جب کال بیل پہ چونکہ دیکھا تو اس کی یونی فیلو رامین کی کال تھی اُف ایک تو اس لڑکی کو آرام نہیں ہے پروجیکٹ کے بارے میں اسے ہمیشہ رات کو ہی کیوں یاد آتا ہے ۔فل حال وہ اب سونا چاہتا تھا فون بند کر کے وہ اپنے بستر کے طرف آیا لیکن وہ جانتا تھا نیند ہمیشہ کی طرح اس پر مہربان نہیں ہوگی ۔
※※※※※※※※※※※
"فون تو کردیا تھا تم نے گھر والوں کو ۔”
اسد کار موڑتے ہوے بولا دین فون پہ ارباز کو ٹیکسٹ کررہا تھا کیونکہ وہ بھی بہت پریشانی سے پانج بار کال کر چکا تھا اور اب ٹرائی مار تھا تو فون نہیں اُٹھا رہا تھا تو میسج کرنا پڑا
"یار لکھا تو تھا ہماری فلائٹ پہنچ گئی تھی پہلے اور وہ ہولینڈ کی فلائٹ تھی مجھے نہیں لگتا پریشان ہونا چاہیے مورے کی ابھی تک کال نہیں آئی اور نہ ہی موشم کی تو وہ ضرور بے فکر ہوگے یا انھیں اب تک خبر نہیں ملی ہوگئ اچھا ہے خوامخواہ انھوں نے پاگل ہوجانا تھا ۔”
"اللہ کا شکر ہے مگر ان بیچارے کے گھر والوں پہ کیا بیتی ہوگی ۔”
"بس اللہ صبر دیں خود بھی خبر نہیں ہوتی کیا سے کیا ہوجاے خوف ہی آجاتا ہے ۔”
دین جھنجھلا کر ثمرن کو کال ملا رہا تھا اور ثمرن دیوانوں کی طرح دین کو کال ملا رہی تھی لیکن نمبر بزی وہ پاگل ہورہی تھی
"پلیز دین ثمرن مر جاے گی پلیز اُٹھاے نا ایک بار آپ کی آواز سُنا چاہتی ہوں مجھے آپ کی منہ سے موشم سُنا ہے ۔”
وہ بار بار کر اپنا سر تھام چکی تھی ٹی وی اس نے آن نہیں کی تھی اگر اس میں دین کی موت کی تصدیق ہوجاے گی تو اس کی سانسیں رُک جاے گی اور اب تک اس کی سانسیں قائم مطلب دین زندہ ہے ابھی بھی وہ پُر امید تھی
مورے کو راستے میں ٹریفک کے باعث دیر ہوگئی تھی اور وہ بھی دونوں کو کال ملا رہی تھی لیکن دونوں کے نمبر بند جارہے تھے
"اللہ خیر کریں دین کو تو اب تک پہنچ جانا تھا اُٹھا کیوں نہیں رہا اور ثمرن بھی نہیں کال اُٹھا رہی ۔”
وہ پریشانی سے بولی
دین اپنے دوست سے مل کر کار سے اپنا بیگ اُٹھانے لگا
اور وہ صوفے پہ بیٹھی رو رو کر پاگل ہورہی تھی کوئی بھی فون نہیں اُٹھا رہا تھا سب اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
※※※※※※※※
"آپی !!۔”
نوری ڈر کر اُٹھ گئی
اس نے دیکھا کمرے میں گِھپ اندھیرا تھا اور اس نے خود کو نرم بستر پہ پایا وہ جلدی سے اُٹھی ۔
"میں کب یہاں آئی اس کا مطلب ہے میں گھر آگئی آپی سے مل سکتی ہوں آپی آپی !۔۔”
وہ تیزی سے آندھیرے میں اُٹھی اور دروازہ ڈھونڈنے لگی
"کمرے میں وہ اینگری مین تو نہیں ۔”
اس نے فون مشکلوں سے فراک کی اندرونی جیب سے نکالا اور ٹارچ آن کر کے وہ ہر طرف دیکھنے لگی تو یہ کسی لڑکے کا کمرہ لگ رہا تھا مطلب گیٹار پنچنگ بیگ سامنے لٹکا ہوا اس نے بٹنز تلاش کر کے لائٹ آن کی اور مڑ کر کمرے کو جائزہ کیا سامنے دیوار پہ خوبصورت گیلگرافی سے لکھا تھا
"ارباز خان !۔”
"یہ کس کا کمرہ ہے ؟۔”
اس نے مڑ کر ایک انلارج تصویر دیکھی جس میں اسامہ بلیو شلوار قمیض میں وہی سڑی ہوئی شکل بناے ہوے کھڑا تھا جبکہ اس کے ساتھ اسی شکل جیسا جس کی آنکھیں بلیو کے بجائے گرین تھی مگر براون شلوار قمیض میں کھڑا اس کے ساتھ کھڑا اسامہ کے کندھے پہ بازو پھیلا کر کھڑا مسکرا رہا تھا
"لگتا ہے اس کا بھائی کتنا جولی لگ رہا ہے مطلب یہ واقعی کریلا ہیں ۔”
اس نے منہ بنایا
اور دیکھا
"آپی ! ہاں آپی ہوں گی میں ان سے ملوں گی ۔”
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر کئ طرف بڑھی اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے
اور وہ اس بڑے سے گھر میں انھیں پکارنے لگی تھی کے وہ ابھی باہر نکلے گی اور اسے اپنے ساتھ لگائی گی اور وہ انھیں پیار سے کہے گی
"میری گُڈو رانی !۔”
وہ ثمرن کو پیار سے گڈو رانی کہا کرتئ تھی جب بہت پیار آیا کرتا تھا
•••••••••••••
دین نے دروازے پہ آیا اور بیل بجائی ثمرن روتے روتے بے ہوش ہوچکی تھی دین کتنی بار بجاتا رہا نیچے اس کی گاڑی پہ کھڑی تھی مطلب وہ گھر پر ہی تھے
اس نے فون نکالا اور گھر کے نمبر پہ کال کرنے لگا لیکن کوئی رسپونڈ نہیں
"اُف ہو کیا رہا ہے اتنی غیر زمہ دارنہ حرکت !۔”
وہ پریشان ہوگیا اور چابی گھما کر دروازہ کھولا اور اندر آیا
"موشی ، مورے !!!۔”
وہ اندر کی طرف بڑھا اندر عجیب سی خاموشی تھئ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ بیگ چھوڑ کر اندر کی طرف بڑھا
اور دروازہ کھلا تو ٹہر گیا
"موشم !!!۔”
پہلے تو وہ شاکڈ ہوگیا اور پھر دل جیسے ڈوبنے کے قریب تھا ثمرن زمین کے بل اس کی قمیض پکڑے بے ہوش پڑی ہوئی تھی
وہ بھاگتے ہوے اس کے پاس آیا
"موشم میری جان !!!”
اس نے اس کو اُٹھا کر بیڈ پہ لیٹایا
اور اس کا چہرہ تھپ تھپایا اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا
اور چہرے پہ آنسو کے نیشان تھے صلاح الدین پاگل ہونے جو تھا
"مورے کہاں ہے ! مورے مورے !!۔”
اس نے اونچی آواز میں کہا وہ کہاں چلی گئی
وئ تیزی سے سامنے پڑی باٹل واٹر کو اُٹھا کر اس پر چھینٹے مارنے لگا
"موشم خدا کے لیں آنکھیں کھولے ۔”
وہ ہاتھ پکڑ رہا تھا اس کے جو ٹھنڈے ہوگے
"د دین آ پ کک کہی نہیں گئے ۔”
وہ بے ربط الفاظ سے کہنے لگی
"آنکھیں کھولو میں پاگل ہوجاو گا ۔” کیسا بے قرار لہجہ تھا
ثمرن کو ہوش آرہا تھا مگر ڈر تھا اگر وہ آنکھ کھولے گی تو وہ غائب ہوگا وہ چلا گیا ہے وہ مر گیا ہے اردگرد یہی الفاظ چیخ رہے تھے دل سسک رہا تھا
"دین !!۔”
"دین کی جان آنکھیں کھولو ۔”
وہ اس کے قریب آیا اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور جھکا
"پلیز میں بالکل ٹھیک ہوں ۔”
"آپ چلے جاے گے !۔”
"موشم اگر تم نے دو سکینڈ کے میں آنکھیں نہ کھولی تو میں واقعی چلا جاوں گا ۔”
وہ جیسے مرنے کو ہورہا تھا ثمرن نے بامشکل اپنی پلکوں کو اُٹھایا آنکھیں خوف کھا رہی تھی وہ روک رہی تھی مگر دل اُمید دلا رہا تھا وہ یہی ہے عکس نمکین پانیوں کے باعث دُنھدلاپن تھا مگر جیسے ہی نظارہ صاف ہوا امیرالڈ آنکھوں نے جیسے رُکتی دھڑکن کو ایک بار پھر چلانا شروع کردیا اٹکی ہوئی جان میں جیسے جان واپس آگئی تھی سانسیں جو ٹہریے تھی چل پڑی تھی اور اسے آج پتا چلا تھا دین سے جسم کا نہیں روح کا رشتہ تھا دل جیسے ایک ہوچکے تھے وہ اقرار کرُچکی تھی دین نے اس کی سیاہ موتی جیسی آنکھیں دیکھی دو اس کی بھی بے قرار دل کو سکون مل گیا وہ خود پہ قابو نہ رکھ پایا اور اس کی سیاہ آنکھوں کو دیوانہ دار چھونے لگے جس میں اب بھی پانی نکل رہا تھا
"دین اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو میں مر جاتی ۔”
وہ اس کے ساتھ لگی رو رہی تھی اور صلاح الدین شدت سے اپنے محبت کی مہر اس کے پیشانی پر چھوڑ رہا تھا
"میرا دل کررہا ہے تمھیں آغا جی کے پاس جاکر تمھارے عقل ٹھکانے لگاو جھلی بیوقوف ، بندریاں !۔”
وہ غصے میں جو دماغ میں آیا
کہتا گیا
"کیا کہا آپ نے ۔”
وہ اب اس سے الگ ہوتے ہوے گھورتے ہوے بولی
"بولوں گا میرے خیال ہے بندریاں میں بھی اتنی عقل ہوگی ٹی وی بھی خبر کیا سُنی یہ بھی نہ جانا کے فلائٹ آئی کہاں سے ہے مگر میں تو بھول گیا تھا یہ نہیں پتا کے فلائٹ اوٹو پائلیٹ پہ ہوتی ہے اور مجھ سے پوچھتی ہو کے اتنے دیر سے کیسے تھامے ہوے ہیں ۔”
اور ثمرن کا منہ کھل گیا
"تو وہ سب ڈرامہ تھا ۔”
"تو اور میں بس تمھیں بیوقوف بنانے کی خاطر ہینڈل کو تھامے رہا اور ایک اور وجہ بھی تھی ہاتھ مچل رہے تھے تمھارے خوبصورت گال بال اور سپیشلی وہ ایررنگز
کو چھوے اس لیے یہ وجہ بھی تھی ۔”
وہ بھر پور شرارت سے بولا اس کا منہ کھل گیا اس نے بڑھ کر صلاح الدین کے بال بگاڑنا شروع کردیں اور سینے پہ خوب مکے برساے اور صلاح الدین دل و جان سے خاضر تھا
※※※※※※※※’
ان کی ہر چیز سے محروم کر کے تباہ و برباد کردیا
وہ خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا جب کال بیل پہ چونکہ دیکھا تو اس کی یونی فیلو رامین کی کال تھی اُف ایک تو اس لڑکی کو آرام نہیں ہے پروجیکٹ کے بارے میں اسے ہمیشہ رات کو ہی کیوں یاد آتا ہے ۔فل حال وہ اب سونا چاہتا تھا فون بند کر کے وہ اپنے بستر کے طرف آیا لیکن وہ جانتا تھا نیند ہمیشہ کی طرح اس پر مہربان نہیں ہوگی ۔
※※※※※※※※※※※
"فون تو کردیا تھا تم نے گھر والوں کو ۔”
اسد کار موڑتے ہوے بولا دین فون پہ ارباز کو ٹیکسٹ کررہا تھا کیونکہ وہ بھی بہت پریشانی سے پانج بار کال کر چکا تھا اور اب ٹرائی مار تھا تو فون نہیں اُٹھا رہا تھا تو میسج کرنا پڑا
"یار لکھا تو تھا ہماری فلائٹ پہنچ گئی تھی پہلے اور وہ ہولینڈ کی فلائٹ تھی مجھے نہیں لگتا پریشان ہونا چاہیے مورے کی ابھی تک کال نہیں آئی اور نہ ہی موشم کی تو وہ ضرور بے فکر ہوگے یا انھیں اب تک خبر نہیں ملی ہوگئ اچھا ہے خوامخواہ انھوں نے پاگل ہوجانا تھا ۔”
"اللہ کا شکر ہے مگر ان بیچارے کے گھر والوں پہ کیا بیتی ہوگی ۔”
"بس اللہ صبر دیں خود بھی خبر نہیں ہوتی کیا سے کیا ہوجاے خوف ہی آجاتا ہے ۔”
دین جھنجھلا کر ثمرن کو کال ملا رہا تھا اور ثمرن دیوانوں کی طرح دین کو کال ملا رہی تھی لیکن نمبر بزی وہ پاگل ہورہی تھی
"پلیز دین ثمرن مر جاے گی پلیز اُٹھاے نا ایک بار آپ کی آواز سُنا چاہتی ہوں مجھے آپ کی منہ سے موشم سُنا ہے ۔”
وہ بار بار کر اپنا سر تھام چکی تھی ٹی وی اس نے آن نہیں کی تھی اگر اس میں دین کی موت کی تصدیق ہوجاے گی تو اس کی سانسیں رُک جاے گی اور اب تک اس کی سانسیں قائم مطلب دین زندہ ہے ابھی بھی وہ پُر امید تھی
مورے کو راستے میں ٹریفک کے باعث دیر ہوگئی تھی اور وہ بھی دونوں کو کال ملا رہی تھی لیکن دونوں کے نمبر بند جارہے تھے
"اللہ خیر کریں دین کو تو اب تک پہنچ جانا تھا اُٹھا کیوں نہیں رہا اور ثمرن بھی نہیں کال اُٹھا رہی ۔”
وہ پریشانی سے بولی
دین اپنے دوست سے مل کر کار سے اپنا بیگ اُٹھانے لگا
اور وہ صوفے پہ بیٹھی رو رو کر پاگل ہورہی تھی کوئی بھی فون نہیں اُٹھا رہا تھا سب اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
※※※※※※※※
"آپی !!۔”
نوری ڈر کر اُٹھ گئی
اس نے دیکھا کمرے میں گِھپ اندھیرا تھا اور اس نے خود کو نرم بستر پہ پایا وہ جلدی سے اُٹھی ۔
"میں کب یہاں آئی اس کا مطلب ہے میں گھر آگئی آپی سے مل سکتی ہوں آپی آپی !۔۔”
وہ تیزی سے آندھیرے میں اُٹھی اور دروازہ ڈھونڈنے لگی
"کمرے میں وہ اینگری مین تو نہیں ۔”
اس نے فون مشکلوں سے فراک کی اندرونی جیب سے نکالا اور ٹارچ آن کر کے وہ ہر طرف دیکھنے لگی تو یہ کسی لڑکے کا کمرہ لگ رہا تھا مطلب گیٹار پنچنگ بیگ سامنے لٹکا ہوا اس نے بٹنز تلاش کر کے لائٹ آن کی اور مڑ کر کمرے کو جائزہ کیا سامنے دیوار پہ خوبصورت گیلگرافی سے لکھا تھا
"ارباز خان !۔”
"یہ کس کا کمرہ ہے ؟۔”
اس نے مڑ کر ایک انلارج تصویر دیکھی جس میں اسامہ بلیو شلوار قمیض میں وہی سڑی ہوئی شکل بناے ہوے کھڑا تھا جبکہ اس کے ساتھ اسی شکل جیسا جس کی آنکھیں بلیو کے بجائے گرین تھی مگر براون شلوار قمیض میں کھڑا اس کے ساتھ کھڑا اسامہ کے کندھے پہ بازو پھیلا کر کھڑا مسکرا رہا تھا
"لگتا ہے اس کا بھائی کتنا جولی لگ رہا ہے مطلب یہ واقعی کریلا ہیں ۔”
اس نے منہ بنایا
اور دیکھا
"آپی ! ہاں آپی ہوں گی میں ان سے ملوں گی ۔”
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر کئ طرف بڑھی اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے
اور وہ اس بڑے سے گھر میں انھیں پکارنے لگی تھی کے وہ ابھی باہر نکلے گی اور اسے اپنے ساتھ لگائی گی اور وہ انھیں پیار سے کہے گی
"میری گُڈو رانی !۔”
وہ ثمرن کو پیار سے گڈو رانی کہا کرتئ تھی جب بہت پیار آیا کرتا تھا
•••••••••••••
دین نے دروازے پہ آیا اور بیل بجائی ثمرن روتے روتے بے ہوش ہوچکی تھی دین کتنی بار بجاتا رہا نیچے اس کی گاڑی پہ کھڑی تھی مطلب وہ گھر پر ہی تھے
اس نے فون نکالا اور گھر کے نمبر پہ کال کرنے لگا لیکن کوئی رسپونڈ نہیں
"اُف ہو کیا رہا ہے اتنی غیر زمہ دارنہ حرکت !۔”
وہ پریشان ہوگیا اور چابی گھما کر دروازہ کھولا اور اندر آیا
"موشی ، مورے !!!۔”
وہ اندر کی طرف بڑھا اندر عجیب سی خاموشی تھئ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ بیگ چھوڑ کر اندر کی طرف بڑھا
اور دروازہ کھلا تو ٹہر گیا
"موشم !!!۔”
پہلے تو وہ شاکڈ ہوگیا اور پھر دل جیسے ڈوبنے کے قریب تھا ثمرن زمین کے بل اس کی قمیض پکڑے بے ہوش پڑی ہوئی تھی
وہ بھاگتے ہوے اس کے پاس آیا
"موشم میری جان !!!”
اس نے اس کو اُٹھا کر بیڈ پہ لیٹایا
اور اس کا چہرہ تھپ تھپایا اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا
اور چہرے پہ آنسو کے نیشان تھے صلاح الدین پاگل ہونے جو تھا
"مورے کہاں ہے ! مورے مورے !!۔”
اس نے اونچی آواز میں کہا وہ کہاں چلی گئی
وئ تیزی سے سامنے پڑی باٹل واٹر کو اُٹھا کر اس پر چھینٹے مارنے لگا
"موشم خدا کے لیں آنکھیں کھولے ۔”
وہ ہاتھ پکڑ رہا تھا اس کے جو ٹھنڈے ہوگے
"د دین آ پ کک کہی نہیں گئے ۔”
وہ بے ربط الفاظ سے کہنے لگی
"آنکھیں کھولو میں پاگل ہوجاو گا ۔” کیسا بے قرار لہجہ تھا
ثمرن کو ہوش آرہا تھا مگر ڈر تھا اگر وہ آنکھ کھولے گی تو وہ غائب ہوگا وہ چلا گیا ہے وہ مر گیا ہے اردگرد یہی الفاظ چیخ رہے تھے دل سسک رہا تھا
"دین !!۔”
"دین کی جان آنکھیں کھولو ۔”
وہ اس کے قریب آیا اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور جھکا
"پلیز میں بالکل ٹھیک ہوں ۔”
"آپ چلے جاے گے !۔”
"موشم اگر تم نے دو سکینڈ کے میں آنکھیں نہ کھولی تو میں واقعی چلا جاوں گا ۔”
وہ جیسے مرنے کو ہورہا تھا ثمرن نے بامشکل اپنی پلکوں کو اُٹھایا آنکھیں خوف کھا رہی تھی وہ روک رہی تھی مگر دل اُمید دلا رہا تھا وہ یہی ہے عکس نمکین پانیوں کے باعث دُنھدلاپن تھا مگر جیسے ہی نظارہ صاف ہوا امیرالڈ آنکھوں نے جیسے رُکتی دھڑکن کو ایک بار پھر چلانا شروع کردیا اٹکی ہوئی جان میں جیسے جان واپس آگئی تھی سانسیں جو ٹہریے تھی چل پڑی تھی اور اسے آج پتا چلا تھا دین سے جسم کا نہیں روح کا رشتہ تھا دل جیسے ایک ہوچکے تھے وہ اقرار کرُچکی تھی دین نے اس کی سیاہ موتی جیسی آنکھیں دیکھی دو اس کی بھی بے قرار دل کو سکون مل گیا وہ خود پہ قابو نہ رکھ پایا اور اس کی سیاہ آنکھوں کو دیوانہ دار چھونے لگے جس میں اب بھی پانی نکل رہا تھا
"دین اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو میں مر جاتی ۔”
وہ اس کے ساتھ لگی رو رہی تھی اور صلاح الدین شدت سے اپنے محبت کی مہر اس کے پیشانی پر چھوڑ رہا تھا
"میرا دل کررہا ہے تمھیں آغا جی کے پاس جاکر تمھارے عقل ٹھکانے لگاو جھلی بیوقوف ، بندریاں !۔”
وہ غصے میں جو دماغ میں آیا
کہتا گیا
"کیا کہا آپ نے ۔”
وہ اب اس سے الگ ہوتے ہوے گھورتے ہوے بولی
"بولوں گا میرے خیال ہے بندریاں میں بھی اتنی عقل ہوگی ٹی وی بھی خبر کیا سُنی یہ بھی نہ جانا کے فلائٹ آئی کہاں سے ہے مگر میں تو بھول گیا تھا یہ نہیں پتا کے فلائٹ اوٹو پائلیٹ پہ ہوتی ہے اور مجھ سے پوچھتی ہو کے اتنے دیر سے کیسے تھامے ہوے ہیں ۔”
اور ثمرن کا منہ کھل گیا
"تو وہ سب ڈرامہ تھا ۔”
"تو اور میں بس تمھیں بیوقوف بنانے کی خاطر ہینڈل کو تھامے رہا اور ایک اور وجہ بھی تھی ہاتھ مچل رہے تھے تمھارے خوبصورت گال بال اور سپیشلی وہ ایررنگز
کو چھوے اس لیے یہ وجہ بھی تھی ۔”
وہ بھر پور شرارت سے بولا اس کا منہ کھل گیا اس نے بڑھ کر صلاح الدین کے بال بگاڑنا شروع کردیں اور سینے پہ خوب مکے برساے اور صلاح الدین دل و جان سے خاضر تھا
※※※※※※※※’


