منتخب غزلیں
یوم وفات سحاب قزلباش 27 جولائی 2004 بڑھے چلو کہ ت…

یوم وفات سحاب قزلباش
27 جولائی 2004
بڑھے چلو کہ تھکن تو نشے کی محفل ہے
ابھی تو دور بہت دور اپنی منزل ہے
یہ بے قرار تبسم ترے لبوں کا فسوں
یہی تو چاک گریباں کی پہلی منزل ہے
کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی
خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے
کسی نے چاند پہ لہرا دیا ہے پرچم وقت
کوئی ہماری طرح سہل جس کو مشکل ہے
اک آبشار پہ مانند برگ آوارہ
کوئی مقام ہے اپنا نہ کوئی منزل ہے
…
غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے
ترس گئے ہیں محبت کی زندگی کے لیے
کلی تبسم بے ساختہ سے پھول بنی
یہ لمحہ کافی ہے اب پوری زندگی کے لیے
غروب مہر پہ کس نے لہو چڑھایا ہے
یہ کس نے خون جلایا ہے روشنی کے لیے
یہ کیسی دل کی لگی ہے کہ اپنی عمر عزیز
مٹائے دیتے ہیں ہم ایک اجنبی کے لیے
خود اپنے جیسا ہی انسان زندگی مانگے
یہ کیسا وقت خدائی ہے آدمی کے لیے
ابھی نہ توڑو امید وفا کے پھولوں کو
مجھے تو ان کا بھروسہ تھا زندگی کے لیے
………………
27 جولائی 2004
بڑھے چلو کہ تھکن تو نشے کی محفل ہے
ابھی تو دور بہت دور اپنی منزل ہے
یہ بے قرار تبسم ترے لبوں کا فسوں
یہی تو چاک گریباں کی پہلی منزل ہے
کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی
خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے
کسی نے چاند پہ لہرا دیا ہے پرچم وقت
کوئی ہماری طرح سہل جس کو مشکل ہے
اک آبشار پہ مانند برگ آوارہ
کوئی مقام ہے اپنا نہ کوئی منزل ہے
…
غموں کے زخم اٹھاتے رہے خوشی کے لیے
ترس گئے ہیں محبت کی زندگی کے لیے
کلی تبسم بے ساختہ سے پھول بنی
یہ لمحہ کافی ہے اب پوری زندگی کے لیے
غروب مہر پہ کس نے لہو چڑھایا ہے
یہ کس نے خون جلایا ہے روشنی کے لیے
یہ کیسی دل کی لگی ہے کہ اپنی عمر عزیز
مٹائے دیتے ہیں ہم ایک اجنبی کے لیے
خود اپنے جیسا ہی انسان زندگی مانگے
یہ کیسا وقت خدائی ہے آدمی کے لیے
ابھی نہ توڑو امید وفا کے پھولوں کو
مجھے تو ان کا بھروسہ تھا زندگی کے لیے
………………



