یار… میں اس گھر کے لیے کتنی قربانیاں دیتا ہوں ا…
چائے کا دوسرا کپ ہمیشہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔
عالیہ نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا۔ صبح وہ دو کپ چائے بناتی۔ ایک کپ نوید کے سامنے رکھ دیتی، دوسرا اپنے لیے۔ نوید اخبار، موبائل اور گھڑی کے درمیان اپنی چائے ختم کر لیتا، جبکہ عالیہ کا کپ کبھی برتن دھوتے، کبھی بچوں کے بستے باندھتے، کبھی دودھ ابلنے سے پہلے چولہے کی طرف دوڑتے دوڑتے کہیں رہ جاتا۔ شام تک وہی کپ سنک میں پڑا ہوتا، اوپر ملی ہوئی دودھ کی باریک سی جھلی کے ساتھ۔
پندرہ سال میں شاید اس نے ایک بھی کپ گرم چائے سکون سے نہیں پی تھی۔
مگر اسے کبھی اس کا دکھ نہیں ہوا۔
دکھ تو اسے اُس دن ہوا جب نوید نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے بےساختہ کہا،
"یار… میں اس گھر کے لیے کتنی قربانیاں دیتا ہوں اور پھر بھی۔۔۔۔”
عالیہ نے صرف دال کی پیالی اس کی طرف سرکا دی۔
بات وہیں ختم ہو جانی چاہیے تھی۔
مگر بعض جملے ختم نہیں ہوتے، گھر کی دیواروں میں جذب ہو جاتے ہیں۔
—
نوید بینک میں اسسٹنٹ منیجر تھا۔
ہر صبح استری شدہ قمیض، چمکتے جوتے، گاڑی کی چابی، اور بیس منٹ کا سفر۔
دفتر میں لوگ اسے "سر” کہتے تھے۔
دوپہر کو کینٹین میں بیٹھ کر چائے پیتا، کبھی سیاست پر بحث، کبھی کرکٹ، کبھی مہنگائی۔
شام پانچ بجے کمپیوٹر بند کرتا تو دفتر اس کی پشت پر رہ جاتا۔
گھر آتے ہی وہ تھکا ہوا آدمی بن جاتا۔
عالیہ گھر سے کبھی باہر نہیں نکلتی تھی، مگر اس کا دن کبھی ختم نہیں ہوتا تھا۔
ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک اس کے قدموں کی چاپ ہی اس کی ملازمت تھی۔
کوئی حاضری رجسٹر نہیں۔
کوئی تنخواہ نہیں۔
کوئی چھٹی نہیں۔
صرف اگلا کام۔
اور اس کے بعد اگلا۔
—
اس دن محلے کی مسجد سے ظہر کی اذان آ رہی تھی۔
دال چڑھی ہوئی تھی۔
واشنگ مشین آخری چکر کا شور کر رہی تھی۔
چھوٹا بیٹا فرش پر دودھ گرا چکا تھا۔
بڑی بیٹی اسکول کے پروجیکٹ کے لیے چارٹ پیپر مانگ رہی تھی۔
اسی شور میں عالیہ کو محسوس ہوا کہ اس کے کانوں میں ایک عجیب سی خاموشی اتر رہی ہے۔
اس نے دیوار کا سہارا لیا۔
پھر خود کو سنبھال لیا۔
گھر کو عورتوں کے چکر آنے کی عادت نہیں ہوتی۔
—
رات کو اس نے پہلی بار الارم نہیں لگایا۔
بس اتنا سا واقعہ تھا۔
لیکن بعض اوقات ایک چھوٹا سا بٹن پورے گھر کی ترتیب بدل دیتا ہے۔
—
صبح سات بجے نوید کی آنکھ کھلی۔
سورج پردوں سے اندر آ چکا تھا۔
بچے ابھی تک سو رہے تھے۔
باورچی خانہ خاموش تھا۔
چولہے پر رکھی کیتلی خالی تھی۔
اور سنک میں دو کپ رکھے تھے۔
کل والے۔
وہی دوسرا کپ، جسے کسی نے چھوا بھی نہیں تھا۔
"عالیہ!”
اس نے آواز دی۔
جواب نہ آیا۔
کمرے میں گیا تو عالیہ پسینے میں بھیگی ہوئی لیٹی تھی۔
ہونٹ خشک۔
سانس تیز۔
نوید نے گھبرا کر ماتھا چھوا۔
آگ۔
"تم نے بتایا کیوں نہیں؟”
عالیہ نے آنکھیں کھولیں۔
مسکرانے کی کوشش کی۔
"وقت نہیں ملا۔”
بس اتنا ہی۔
—
اس دن نوید دفتر نہیں گیا۔
اس نے پہلی بار بچوں کے ٹفن بنائے۔
نمک دو بار ڈال دیا۔
چھوٹے نے کہا،
"امی ایسے پراٹھے نہیں بناتیں۔”
بڑی بیٹی نے آہستہ سے پلیٹ ایک طرف کر دی۔
واشنگ مشین چلائی تو سفید کپڑوں میں سرخ دوپٹہ بھی ڈال دیا۔
دوپہر تک سب کپڑے ہلکے گلابی ہو چکے تھے۔
گیس والا آیا۔
پانی والا آیا۔
اسکول سے فون آیا۔
امی کی دوا ختم ہو گئی۔
چھوٹے نے قینچی سے پردہ کاٹ دیا۔
اور دو بجے نوید کو پہلی بار یاد آیا…
اس نے آج تک پانی بھی سکون سے نہیں پیا۔
وہ باورچی خانے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
گھر عجیب جگہ تھا۔
یہاں وقت گھڑی سے نہیں، ضرورتوں سے چلتا تھا۔
—
شام کو ڈاکٹر نے کہا،
"زیادہ فکر کی بات نہیں۔ جسم تھک گیا ہے۔ آرام چاہیے۔”
نوید نے پہلی بار محسوس کیا کہ "آرام” بھی شاید ایک ایسی چیز ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔
—
اگلے کئی دن وہ جلدی گھر آنے لگا۔
بچے حیران تھے۔
پڑوسی حیران تھے۔
سب سے زیادہ حیران خود نوید تھا۔
اسے معلوم ہوا کہ گھر میں سب سے مشکل کام برتن دھونا یا جھاڑو لگانا نہیں۔
سب سے مشکل کام ہر وقت دستیاب رہنا ہے۔
کوئی آپ کو ہر پانچ منٹ بعد پکارے…
اور آپ ہر بار جواب دیں۔
—
ایک رات بجلی چلی گئی۔
گرمی نے پورے گھر کو سانس لیتا ہوا تنور بنا دیا۔
بچے سو گئے۔
عالیہ اور نوید صحن میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔
نوید اندر گیا اور دو کپ چائے بنا لایا۔
ایک اس کے ہاتھ میں دیا۔
دوسرا خود لے لیا۔
کافی دیر دونوں خاموش رہے۔
اس بار عالیہ نے اپنی چائے گرم گرم ختم کی۔
نوید نے اپنا کپ جان بوجھ کر آہستہ آہستہ پیا۔
جب عالیہ نے خالی کپ نیچے رکھا تو نوید نے پہلی بار اس کی طرف دیکھ کر کہا،
"میں نے ہمیشہ سمجھا، میں اس گھر کا سہارا ہوں۔”
وہ رکا۔
"پھر ایک دن تم بستر پر لیٹ گئیں… اور مجھے معلوم ہوا، سہارا تو وہ چیز ہوتی ہے جس کے ہٹتے ہی پوری چھت ہلنے لگتی ہے۔”
عالیہ نے کچھ نہیں کہا۔
صرف دونوں خالی کپ ایک دوسرے کے ساتھ رکھ دیے۔
اب ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔
اسی لمحے نوید کو احساس ہوا کہ قربانی وہ نہیں ہوتی جس کا انسان اعلان کرے۔
قربانی وہ ہوتی ہے جس کا پتا صرف اس دن چلتا ہے…
جب وہ خاموشی سے رک جائے، اور پورا گھر اپنی آواز کھو دے۔
افسانہ: قربانی
©️ انتخاب سخن
#household #relationships #life #urduadab
