برسوں بعد… ارسلان کے پاس اب اپنا گھر تھا۔ بینک ا…
ارسلان کے پاس اب اپنا گھر تھا۔
بینک اکاؤنٹ تھا۔
گاڑی تھی۔
اور وہ سب کچھ تھا جس کے لیے اس کے باپ نے پوری زندگی اینٹیں ڈھوئی تھیں۔
لوگ کہتے تھے،
"دیکھا؟ محنت رنگ لے آئی۔”
مگر ہر رات جب وہ سونے لگتا تو ایک عجیب سا خوف اس کے بستر میں پہلے سے لیٹا ہوتا۔
وہ اپنے بیٹے حمزہ کے کمرے کے باہر کھڑا رہتا۔
حمزہ کمپیوٹر پر کچھ سیکھ رہا ہوتا۔
ارسلان دروازہ کھولے بغیر واپس آ جاتا۔
اسے ڈر لگتا تھا۔
کہ کہیں اس کا بیٹا بھی اس جیسا نہ بن جائے۔….
ایک دن حمزہ نے آہستہ سے کہا،
"ابو… میں مصوری پڑھنا چاہتا ہوں۔”
ارسلان کے ہاتھ سے چائے کا کپ لرز گیا۔
اس نے برسوں پہلے اپنے باپ کا چہرہ دیکھا…
"فن سے گھر نہیں چلتے، مزدوری سیکھ۔”
وہ جملہ اس کے باپ نے کہا تھا۔
اور آج…
وہی جملہ اس کے اپنے ہونٹوں پر آ کر رک گیا۔
اس نے پوری طاقت سے اسے نگل لیا۔
مگر کچھ دیر بعد صرف اتنا کہہ سکا،
"اس میں مستقبل نہیں ہے۔”
حمزہ خاموش ہو گیا۔
بالکل ویسے ہی…
جیسے کبھی ارسلان خاموش ہو گیا تھا۔
…
اسی رات ارسلان کو نیند نہ آئی۔
اس نے پہلی بار آئینے میں اپنے باپ کو دیکھا۔
چہرہ اس کا اپنا تھا۔
آنکھیں رشید کی تھیں۔
آواز بھی۔
حتیٰ کہ خوف بھی۔
تب اسے سمجھ آیا…
غربت صرف خالی جیبوں میں نہیں رہتی۔
وہ امیر گھروں میں بھی زندہ رہتی ہے۔
بس وہاں اس کا نام بدل جاتا ہے۔
وہ احتیاط کہلاتی ہے۔
خوف کہلاتی ہے۔
محفوظ مستقبل کہلاتی ہے۔
…
کچھ دن بعد حمزہ نے مصوری چھوڑ دی۔
اکاؤنٹنگ میں داخلہ لے لیا۔
سب نے مبارک دی۔
صرف ارسلان خاموش رہا۔
اسے معلوم تھا…
اس دن اس کے بیٹے نے کوئی مضمون نہیں بدلا۔
اس نے اپنے خواب کی لاش دفن کی تھی۔
اور اس قبر پر سب سے پہلا مٹی کا ڈھیلا خود ارسلان نے ڈالا تھا۔
…
برسوں بعد…
ارسلان مر گیا۔
الماری میں اس کی وصیت ملی۔
صرف ایک صفحہ۔
اس پر لکھا تھا:
"میرے بیٹے…
میں نے تمہیں غربت سے بچا لیا۔
مگر شاید آزادی سے بھی محروم کر دیا۔
مجھے معاف کر دینا اگر تم نے کبھی محسوس کیا ہو کہ تمہاری زندگی میرے ڈروں نے لکھی ہے، تمہارے خوابوں نے نہیں۔
میرے باپ نے مجھے بھوک وراثت میں دی تھی۔
میں نے تمہیں خوف دے دیا۔
اور اب مجھے سمجھ آیا ہے…
وراثت صرف وہ نہیں ہوتی جو ہم اپنے بچوں کو دیتے ہیں۔
وراثت وہ بھی ہوتی ہے جس سے ہم کبھی خود آزاد نہیں ہو پاتے۔”
حمزہ نے خط پڑھا۔
خاموشی سے اسے تہہ کیا۔
اور اپنے بیٹے کے کمرے کی طرف چل پڑا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
اندر اس کا بارہ سالہ بیٹا دیوار پر ایک تصویر بنا رہا تھا۔
حمزہ کے ہونٹوں تک ایک جملہ آیا۔
"بیٹا… اس سے کچھ نہیں ملے گا…”
وہ جملہ کئی نسلوں سے سفر کرتا ہوا اس کے گلے تک پہنچ چکا تھا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
بچہ پلٹ کر باپ کو دیکھنے لگا۔
حمزہ نے اپنے بیٹے کی تصویر پر ایک لمبی نظر ڈالی۔
پھر خاموشی سے کمرے کی بتی بجھا دی۔
اندھیرے میں صرف ایک چیز زندہ رہ گئی تھی…
وراثت۔
#storytelling #urduadab