مختصر کہانیاں

Epi 21 وہ پورا گھر دیکھ چکی تھی کوئی نہیں تھا کچن…

Epi 21
وہ پورا گھر دیکھ چکی تھی کوئی نہیں تھا کچن میں کسی کی آواز آئی
"شاہد آپی وہاں ہوگی آپی !!!۔”
وہ چلتے ہوے کچن میں آئی دیکھا تو وہاں کوئی اٹھارہ سال کا نوجوان لڑکا کچن میں ناشتہ بنا رہا تھا نورِصبح کی آواز سُن کر بے اختیار مڑا اور گڑبڑا گیا
"جی بی بی !۔”
نوری نے گھورا
"میری آپی کہاں ہے ؟۔”
"کک کون آپی ؟؟”
"ثمرن آپی ؟۔”
"بی بی ہم نہیں جانتا !۔”
"وہ بڈھے انکل کہاں ہیں اور اسامہ ؟۔”
وہ سینے پہ ہاتھ باندھے پورے کچن کا جائزہ لے رہی تھی جو بہت ہی بڑا تھا اور ہر چیز صرف وڈ سے بنائی گئی تھی
"اسامہ لالہ تو اوپر سو رہے ہیں ہم اب اُن کا ناشتہ بنا رہا آپ ہم کو بتاو آپ کیا کھاے گا ۔”
"میں وہاں نہیں آئی جہاں سب رہتے ہیں آپی اور صلاح الدین !۔”
"آپ دین لالہ کی بات کررہی ہیں وہ تو جہاز اُڑاتا ہے اب تو بہت عرصہ ہوگیا ہے ان سے ملے ہوے سُنا ان بچارے کا شادی ہوگیا ہے ۔”
نوری چونک پڑی
"وہ پائلیٹ ہیں ؟۔”
"او ہو جی ہم سب ان کو کپتان بلاتا ۔”
"اٹس کیپٹن !!!۔”
نوری نے بڑھ کر سیب اُٹھایا اور آنکھیں گھماتے ہوے کہا
"نہیں وہ تو فوج میں نہیں ہوتا !۔”
نوری کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی یعنی آپی کی خواہش پوری ہوگی مگر الادین بھائی زیادہ اچھے تھے انھوں نے آپی کو گفٹس لے کر دیں تھے آپی کو گھوڑے پہ بھی بٹھایا تھا آپی اب کہاں ہے ؟
"میرے لیے چیز سینڈویچ بنا دیں گے ۔”
"آپ بھی کھاتا ہے ؟۔”
وہ حیرت سے مڑا نوری بڑھ کر سٹول پہ بیٹھ چکی تھی
"کیا کھاتا ہے ؟۔”
"اسامہ بھائی کو پنیر سینڈویچ بہت پسند ہے اور اس کے ساتھ وہ اورنج جوس پیتا ہے ۔”
"مجھے بھی دیں دوں وہ کون سے کمرے میں ہیں ۔”
گل شیر ایک بار پھر حیرت سے مڑا
"آپ کے کمرے کے تو ساتھ ہے بی بی ۔”
"مجھے نوری بلاؤ میں بڈھی آنٹی تھوڑی ہوں ۔”
"آپ کو کیسے ؟۔۔”
وہ سٹول سے اُتری اور کہتے ہوے اس کی سُنے بغیر اوپر کی طرف بڑھی ۔
•••••••••••••
وہ سویا ہوا تھا جب دروازے پہ زور دار دستک ہوئئ وہ مندی مندی آنکھیں کھولے پہلے اپنا وہم سمجھتا رہا اس نے کروٹ بدلی تو دروازہ دستک روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا اسامہ کو غصہ آیا
"گیٹ لاسٹ !!!۔”
وہ چیخ کر کہتے ہوے تکیہ اپنے منہ پر رکھ چکا تھا
"دروازہ کھولو !۔”
نوری نے زور سے دستک کی اور وہ کرتی رہی جب تک وہ اُٹھ نہیں جاتا اسامہ تیش میں آکر تکیہ پھینک کر اُٹھا اور دروازے کو کھولا اور اس چھوٹی چڑیل کو دیکھا جسے زرا آرام نہیں ہے
"کیا تکلیف ہے ؟۔”
وہ دھاڑا تھا
"یہ مجھے کہاں لے آو ہو یہاں میری آپی نہیں ہے ۔”
وہ بھی غصے سے بولی چھوٹی سفید پیشانی پہ بل پڑ گئے
"تم اتنی دیر سے اس لیے دروازہ پیٹ رہی تھی کہ تمھاری وہ منہوس آپی نہیں ملی ۔”نورِصبح کو ایک دم غصہ آگیا
"کیا کہا آپ منہوس ہے اگر میری بہن کے لیے آپ نے ایک لفظ کہا تو میں ۔”
نوری کو تو جلال آگیا اس کے بہن کو اگر کچھ کہے تو بس اس کی خیر نہیں تیش تو اسامہ کو بھی آگیا
"تو میں کیا اتنی چھوٹی چونٹی کی طرح ہو جسے ایک منٹ میں پیروں سے مسل دیا جاے ۔”
وہ نہ صرف بولا تھا بلکہ اشارے سے بھی اسے سمجھتا ہوا بولا نور نے سر اُٹھا کر اسے اونچی لمبے لڑکے کو دیکھا جو اس کا شوہر تھا اور اس کے دل سے یہ نکلا تھا امی بابا بہت بُرے ہیں انھیں میرج زرا پروا نہیں تھی پھینک دیا کسی کو دیں کر (بچوں کی سائیکی )
"ہاتھی اور چونٹی کے کہانی سُنی ہے آپ نے ۔”
جس نے کمرے پہ دو ہاتھ رکھے ہوے تھے ایک دم اس کی بات پر رُکا
"مجھے چونٹی کہتے ہے نا آپ ابھی بتاتی ہوں آپ کو ۔”
وہ کہتے ہوے مڑ گئی اور نیچے کی طرف بڑھی اور اسامہ پہلے اسے دیکھتا رہا پھر غصے سے دروازہ پھٹک کر بند کیا اس کا دل کررہا تھا اس چھوٹی کو اُٹھا کر زمین پہ پٹھک دیں
وہ بڑھتا ہوا واش روم کی طرف بڑھا ۔
※※※※※※※※※
"مجھے آغا جان پہ غصہ آرہا ہے دو کوڑی کا نہیں چھوڑا ان کی بہن نے خود بھی ان کی سُنتے رہے مجھے بھی کھڑا کردیا سُنانے کے لیے ۔”
تایا کا غصے سے بُرا حال ہورہا تھا اور تائی کا خود چہرہ سُرخ ہوا تھا
"میں نے کہا کہ میرا بیٹا مرا ہے تو بجاے افسوس کرنے کے کہنے لگی سب کے بچے مرتے ہیں میں نے بھی اپنا بیٹا کھویا ہے ہونو میں سمجھی تھی میرا دُکھ سمجھے گی اور دین کو بلا کر اس لڑکی کو پیس کے رکھ دیں گی لیکن نہیں انھوں نے تو ہمیں زلیل کرنا شروع کردیا کے ہم ظالم ہے بھلا بتاو کیا ظلم کیا ہے میرے جسم کے حصے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کہتے ہیں ہم ظالم ہے بھئی ٹھیک ہے ۔”
تائی کے آنکھوں میں پھر آنسو آگئے تایا نرم پڑ گئے
"او ہو مت رو میں کل آغا جان سے بات کرتا ہو اور اس اسامہ کی خبر لیتے ہیں کہ اس نے اس کا کام تمام کیا ہے کہ نہیں کم سے کم روح کو تو ٹھنڈک مل جاے صلاح الدین نے تو ہماری ناک کٹوادی بس اللہ اسامہ کو عقل دیں اور اب تک اس کو دو کوڑی کا کر چکا ہو ۔”
تایا نفرت سے کہتے ہوے سگار سلگانے لگے جبکہ ان کو یہ نہیں پتا تھا کے اسامہ کے بجاے نور صبح اس کا جینا حرام کرنے لگی ہے ۔
••••••••••••••••••••
"خدا کا شکر ہے میرا بیٹا صحیح سلامت واپس آگیا مگر مجھے ان حادثے میں لوگوں کا آفسوس ہورہا ہے کیا بیتی ہوگی ان سے جڑے ہوے رشتوں پر اللہ صبر دیں ۔”
"امین !۔”
صلاح الدین چاے کے سپ لے رہا تھا ان کے کہنے پر بولا
"ویسے یہ موشم کدھر ہے ؟۔”
"نماز پڑھ رہی ہے ۔”
وہ اس کے بال سنوار کر کہنے لگی
"ابھی تو پڑھی تھی اس نے عیشا کی اب کون سی ۔”
وہ ٹی وی سے نظریں ہٹا کر مڑ کر کمرے کو دیکھنے لگا
جہاں ہلکہ سا دروازہ کھلا ہوا تھا
"پڑھنے دوں اسے پہلے بیچاری کی کیا حالت ہوگئی مجھے تو اس کی حالت دیکھ کر دل بیٹھ گیا شرمندگی ہوئی اسے ایسے چھوڑنا نہیں چاہیے تھا ۔”
وہ شرمندگی سے بولی صلاح الدین نے انھیں اپنے ساتھ لگایا اور سر پہ پیار کیا
"آپ پریشان تو نہ ہوے مورے اچھا تھا اس کے اندر جمع غبار بلا آخر پھٹ پڑا اس طرح مجھے اندازہ بھی ہوگیا وہ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہے اب تو وہ مجھے بالکل نارمل لگ رہی ہے ۔”
"مجھے بہت فکر ہے اس کی وہ نارمل کے بجاے مجھے خاصی چُپ لگ رہی تھی ۔”
"تھوڑا شاکڈ ہوجاتا ہے بندہ لیکن آپ سے کھانے پہ بھی بات کی ہے کیا ہوا مورے میرے نہیں خیال آپ کو اس بات کی پریشانی ہے ۔”
"مجھے پتا نہیں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا جیسے کچھ بہت کچھ ہوچکا ہے اور ہم اس سے بے خبر ہے میں نے خواب میں اسامہ دیکھا ۔”
اب صلاح الدین ٹہر گیا
"اسامہ ؟۔”
"ہاں اسامہ وہ ایک چھوٹی سے گڑیا کو توڑ رہا تھا اور بڑی ہی بے دردی اور نفرت سے توڑ رہا تھا میرے دل میں خوف آگیا ہے ۔”
وہ اس سے الگ ہوتے ہوے آہستہ سے کہنے لگی اب یہ بات ثمرن کو تو نہیں بتا سکتی تھی دل کی بات ہمیشہ اپنے بیٹے سے کرتی تھی
"آپ نے کچھ زیادہ ہی سوچا ہوگا اسامہ کو اس لیے ۔”
وہ انھیں تسلی دیتے ہوے کپ سائڈ پہ رکھتے ہوے بولا
"شاہد ایسا ہی ہو مگر پتا نہیں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے بہت کچھ ہوچکا ہے اور ہم اس اے بے خبر ہے ۔”
صلاح الدین نے ان کا ہاتھ چوم کر اس تھپکا
"کچھ نہیں ہوا ! اگر ہوتا تو پتا چل جاتا ارباز سے میری بات چیت ہے مادر بزرگ آگئی ہے ۔”
اس کی بات پہ مورے کے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ آگئی
"اچھا وہ آگئی ہے تو تم ان سے بات کرو نا !۔”
"ابھی فل حال نہیں وہ حویلی آنے کی ڈیمانڈ کریں جو کہ میں نہیں جانا چاہتا اور رہی بات ابھی ثمرن کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہوئی اور میں اس طرح نہ اسے چھوڑ کر جاسکتا ہوں نہ لے کر ۔”
وہ کہنے لگا جب ثمرن کمرے سے باہر آئی وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا
※※※※※※※※※※※※※※
"تمھیں اسامہ نے بلایا ہے ۔”
نوری فورن کچن میں آئی
وہ اب ٹرے سجا رہا تھا
"اسامہ لالہ نے بلایا ہے ہاں ناشتہ بن چکا ہے ابھی لایا آپ کا بھی بن گیا ۔”
"ٹھیک ہے جاو !! "وہ جانے لگا تو نوری نے روکا نہیں ایسے نہیں
"بات سُنو !۔”
"جی بی بی !۔”
"نوری !!۔”
وہ تیزی سے کہنے لگی
"تم یہ اِدھر رکھو اسے کچھ چاہیے تھا وہ نیچے کھاے گا ۔”
"اچھا ٹھیک ہے !۔”
وہ ٹرے کاونٹر پہ رکھ کر چلا گیا اب نوری نے تیزی سے جوس دیکھا تو اس کے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ آئی اس نے سامنے پڑا سالٹ پڑا دیکھا اور اُٹھایا
"اسامہ خان اب تمھیں پتا چلے گا مجھے چونٹی کیا کرتی ہے ۔”
"جی لالہ !۔”
"ناشتہ لے آئے !!۔”
وہ اب تیار ہوکر سپرے کررہا تھا جب گل شیر اندر آیا
"وہ بی بی ۔”
"کیا بی بی جلدی کرو بلکہ ایک کام کرو ناشتہ تیار ہے۔”
"جی لالہ جی نیچے پڑا ہے ۔”
"اچھا تم بستر ٹھیک کروں , میں نیچے جاتا ہوں ۔”
وہ اپنا لیپ ٹاپ نکال رہا تھا نوری نے اس کا کہنا سُنا اور جلدی سے سڑھیوں سے اتری مگر آخری دو والے میں بڑے اختیاط سے کیونکہ وہاں وہ تیل گرا چکی تھی
اسامہ جانے والا تھا جب اس فون بیل پہ رُک گیا آغا جان کی کال تھی وہ باہر نہیں سُن سکتا تھا
"گل !۔”
جو بسترا ٹھیک کررہا تھا رُک گیا
"جی !۔”
"تم نیچے جاو بعد میں کر لینا ۔”
"مگر ۔”
"جاو !!۔”
وہ سختی سے بولا اور کال سُنے لگا
"توبہ کاش دین لالہ ساتھ ہوتے مٹھاس ہی مٹھاس ان کے لہجے میں ہوتی ہے اور انھوں نے مرچے ہی چبائی ہوتی ہے ۔
وہ کہتے ہوے نیچے اُترا لیکن بچارے کے نصیب میں لکھا تھا گل شیر کا پیر پھسلا اور دھڑم کر کے گرا
(او مر گیا ہوے )
وہ چیخا اسامہ بات کرتے ہوے رُکا اور نوری سینڈوچ کھاتے ہوے رُکی
"آغا جان میں بات کرتا ہوں آپ سے نیچے لگتا ہے کچھ ہوا ہے ۔”
وہ باہر کی طرف بڑھا جبکہ نوری خود کچن سے باہر آئی تو اسامہ کے بجاے بچارے گل شیر کو کمر اور سر پکڑے ہوے دیکھا تو اس نے منہ پہ ہاتھ رکھا
"گل شیر !۔”
اسامہ پریشانی سے بھاگا
"تو تو گئی نوری ! نہیں میں اس چکی (Chucky )سے نہیں ڈرو گی ۔”
وہ کہہ کر جلدی سے کچن کی طرف مڑی
••••••••••••

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/