مختصر کہانیاں

من_درِعشق_باشما_ھستم ثمرین_شاہ قسط نمبر 07 "زرا …

من_درِعشق_باشما_ھستم
ثمرین_شاہ
قسط نمبر 07

"زرا اس کو ڈھونڈو کدھر دفعان ہوئی ہے میرے خیال میں ضرور اس کوئلی کے پاس گئی ہوگی آئی ہمدرد بنے دل تو کررہا ہے اس کو ختم کر ڈالوں ۔”
وہ نفرت سے کہتے ہوے بستر پہ بیٹھی تھی ساتھ میں حرا ان کی ٹانگیں دبا رہی تھی
"مورے یہ صلاح الدین تو آج اتنے غصے میں تھے انھیں تو کھبی غصہ ہی نہیں آیا آج اس لڑکی کئ خاطر کیا لڑکی مجھ سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔”
"چُپ کر وہ ایسا شخص نہیں ہے بس ہمدردی دل میں بھری ہے اپنی ماں کی طرح ورنہ تمھارا اور اس موئی کا کیا مقابلہ تم بنو گئ صلاح الدین کی دلہن ۔”
وہ پیار سے دیکھتے ہوے کہنے لگی لیکن ان کئ سوچ ابھی تک صلاح الدین کے رویے پہ تھی .
※※※※※※※※
وہ تقریباً پندرہ منٹ سے تیز رفتار میں گھوڑا چلا رہا تھا اس نے ایک بار بھی لگام سے روکنے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی رفتار کم کی اس پر جنون سوار ہوا وا تھا
آغا جی گراونڈ کی طرف ہے آئے اور اس دیکھنے لگے جو کافی دور تک لے گیا تھا آج انھیں ساری خبر ملی تھی اور صلاح الدین کا رویہ ان کے لیے پریشان کُن تھا کیونکہ وہ ایسا کھبی نہیں تھا آج ایک لڑکی کے سلوک پہ اتنا ریئکائٹ اتنا تو اس نے اپنی ماں کی وقت پر نہیں کیا تھا اور آج ایک ان دیکھی انجانی سئ لڑکی کے لیے اتنا غصہ کچھ تو گڑبڑ ضرور تھی
صلاح الدین اس طرف آیا تو آغا جی کو دیکھ کر اس نے تیزی سے لگام سے گھوڑے کو روکا ورنہ گھورے نے سیدھا آغا جان کے کپڑے مٹھی اور گرد سے خراب کردینے تھے اس نے روک دیا مگر ایک بار بھی آغا جان کی طرف نہیں دیکھا
"خان ! ناراض ہو ؟۔”
آغا جان نے سپاٹ لہجے میں کہا صلاح الدین کھاٹی سے اُترا اور اس کی طرف مڑا اس کی پشت پہ ہاتھ پھیر کر ملازم کو اشارہ کیا اب اسے لے جائے ۔
"دین بات کررہا ہم تم سے ۔”
"بولیے آغا جان سُن رہا ہوں میں ۔”
"تم ناراض ہو ؟۔”
وہ تصدیق چارہے تھے
"نہیں میں نے بھلا کیوں ناراض ہونا ہے ۔”
"تو آج اتنا غصہ کیوں چڑھا تھا جبکہ میرے دین کو غصہ نہیں چڑھتا ۔”
"انسان ہوں غصہ آجاتا ہے ۔”
وہ اپنے جینز کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا مگر وہ آغا جان کو نہیں دیکھ رہا تھا
"تم اس لڑکی سے ملے کیا ۔”
وہ اب کی بار ان کئ طرف دیکھنے لگا
"سب سے پہلے بات وہ اس لڑکی وہ لڑکی کو اب رہنے کیوں نہیں دیتے زندگی اس کی قید کردی آپ نے وہ کہی نہیں جائے گئ مورے کی طرح لیکن پلیز سٹاپ اٹ اٹس آ ریکویسٹ اچھا ایک بات بتائیں ویسے ثمرن پہ ظلم کرنے سے ہادی واپس آتے ہے تو آپ اپنی پستول نکالے اور خون کا بدلا خون کردیں حساب برابر بٹ میں غیر انسانی سلوک ہرگز برداشت نہیں کرو گا ۔”
"تو وہ خبیث کی بچی تمھارے پاس آئی تھی ۔”
وہ دھاڑے صلاح الدین کا چہرہ سُرخ ہوگیا
"لنگیوج آغا جان ! ”
وہ اس سے زیادہ دھاڑا آغا جان رُک گئے صلاح الدین فل حال مزید کوئی بات کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس کی تربیت اسے اجازت نہیں دیں رہی تھی کے وہ بڑوں سے بدتمیزی کریں اس لیے تیزی سے چل پڑا
****************
آج اس کی امریکہ سے واپسی تھی اس نے ماموں سے ریکویسٹ کی تھی وہ کوک پٹ میں ان کی ساتھ ہونا چاہتی ہے ماموں چونکہ کو پائیلٹ ہیں اس لیے اس نے کچھ سوچتے ہوے کہا ماموں تو پریشان ہوگئے یہ کیسی خواہش ہے بھلا لیکن نانو نے بھی بلا آخر ماموں کو منوا لیا اور وہ اب ماموں کے ساتھ ایرپورٹ میں تھی ماموں کسی کام سے گئے تھے اس لیے وہ وی آئی پی روم میں بیٹھی ان کا انتظار کررہی تھی جب اسے دل کیا امریکہ کے ایک چپس اور کافی کیوں نہ پی لی جائے تو وہ چلتے ہوے کنیٹین ایڑیا آگئی اور وہاں کوئی نہیں تھا وہ ان کے پاس آکر کافی کا بولنے لگی کوئی اس کے ساتھ تیزی سے بولا
"بلیک کافی پلیز !۔”
اس نے مڑ کر دیکھا تو رُک سی گئی وہ کوئی بہت لمبا بندہ تھا اتنا لمبا کے اسے منہ اُٹھا کر اوپر دیکھنا پڑا
پھر اس نے سٹبل سے بھرے خوبصورت چہرے والے پائلیٹ کو گھور کر دیکھا
"پہلے کافی کا میں نے کہا تھا اس لیے آڈر پہلے میرا آبا چاہیے ۔”
وہ پیسے نکلاتے ہوے بولی
"سوری مس پہلے میں نے منگوائی تھی پھر مجھے پلین میں پہنچنا ہے ۔”
"تو فلائیٹ میری بھی ہے اور میں نے پہلے منگوایا تھا اس لیے میرا آڈر پہلے ۔”
"سُنو میری کافی پہلی آنی چاہیے۔”
وہ کہتے ہوے ثمرن کے دائے طرف سے بائے آگیا
"نہیں میری کافی پہلے ۔”
وہ اس سے زیادہ تیزی سے بولی آڈر لینے والا پریشان ہوگیا کیونکہ دونوں کی کافی بالکل الگ تھی ایک کو زیادہ ٹائیم لگنا تھا
"میری !”
"میری !”
"اُف کون سی بلا ہو تم کافی پیے بغیر نہیں چلا سکتے ہوائی جہاز ۔”
وہ غصے سے بولی
"میری صحت میرا خیال رکھنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ میری جان بہت سی جانوں سے جڑی ہوئی ہے ۔”
ثمرن نے نیم پلیٹ میں اس کا نام دیکھا صلاح الدین خان ہو تو یہ پٹھان تبھی بعث کررہا ہے
"بات سُنو مسڑ الادین جاکر اپنے جن کو بولو مجھے کافی دیں لیکن میری کریم کافی پہلے بنے گی ۔”
صلاح الدین اسے پہلی بار دیکھنے لگا وہ اس وقت امیرالڈ گرین شیفون سادہ سی فراک اور تنگ پجامے کے ساتھ ڈارک گرین ڈوپٹے میں تھی لائٹ بروان بال جس میں ہلکی سی شیڈنگ ہوئی وی تھی اس وقت سٹریٹ ہوے کھلے ہوے تھے وہ بہت صاف معصوم چہرہ جو غصے سے لالی میں پھوٹا ہوا تھا اس پل صلاح الدین کو کچھ ہوا دل نے جیسے زور سے دھڑکنا شروع کردیا
ثمرن نے اس کی خاموشی سے فائدہ اُٹھا کر تیزی سے اشارہ کیا وہ بھی تیزی سے مڑا تاکہ وہ کوئی حُکم نہ دیں
"ویسے میرے الادین کہنے سے واقی ان میں کوئی جن تو نہیں گھس آیا ہلیو مسڑ الادین ۔”
وہ چونکہ جب اس نے چٹکی بجائی
"میری کافی ۔”
وہ اس سے نظر ہٹا کر بولا وہ بندہ وہاں موجود نہیں تھا ثمرن کھلکھلا کر ہنس پڑی
"ویسے مجھے ایک منٹ کے لیے لگا تھا آپ کے اندر کوئی گھس آیا تھا ویسے آپ کی آنکھوں کا رنگ میرے کپڑوں کے ساتھ کتنا میچ کررہا ہے ۔”
صلاح الدین نے ایک دم حیرانگی سے دیکھا وہ اس کپڑے میں شرمائی لہجائی والی پوٹریٹ لگنی چاہیے تھی مگر وہ تو بہت بولڈ تھی ، امپریسو ویسے بھی دین امریکہ ہے یہ وہ دل میں بولا پھر اس طرف دیکھا
"اب تو بغیر کافئ کے چلانا پڑیں گا ۔”
وہ آہستہ سے کہتے ہوے جانے لگا
"ارے ارے پائلیٹ صاحب آپ کو تو غصہ آگیا یہ لے میری کافی آگئی ہے یہ پی لے ۔”
اس نے اپنی کریم سے بھرئ کافئ صلاح الدین کی طرف بڑھائی
"میں کافی دودھ کی بغیر چینی کے بغیر پیتا ہوں اور اس میں تو کریم ہی اتنئ ہے ۔”
"اچھا اپنے مزاج کے مطابق والی کافی خیر پی لیا کریں اور کافی تو میٹھی اور کریم سے بھرئ اچھی لگتی ورنہ بلیک کافی بھی کوئی کافی ہے یہ لے میں اپنی دوسری منگوا لو گی ۔”
اسے کہہ نہیں سکتا تھا وہ کریم کافی اسے حد سے زیادہ بُری لگتی ہے مگر اس کی معصوم سے چہرے کئ خاطر مجبو ہوگیا اس نے کپ پکڑ لیا اور مسکرایا
"ٹھیک ہے میں آپ کی کافی پیتا ہوں آپ میری پیے گا حساب برابر ۔”
"ہاے اللّٰلہ میں نے مر جانا ہے ایک دفعہ ایسی ہی کوا سمجھ کر پیا تھا میں نے ممانی کو پتا تھا پورا دن دانت برش مار کر ، کھبی منٹ کھبی فلیور والی چیز کھائی تبھی کڑواہٹ نہیں گئی میری توبہ آپ میری پیے میں اپنے لیے منگواتی ہوں ۔”
صلاح الدین ہنس پڑا اس نے مسکراتی نظروں سے دیکھا جو اب کافئ کے ساتھ کچھ اور بھی منگوارہی تھی صلاح الدین اسے مزید دل بھر کر دیکھنا چاہتا تھا
مگر اسے جانا تھا لیکن دل سے دعا نکلی تھی اور بڑی شدت سے نکلی تھی کے وہ اسے دوبارہ دیکھ سکے
*******************
"شکر ہے اللّٰلہ کا کے تمھارا بخار کم ہوا، ورنہ میں دین کو کہنے والی تھی کے تمھیں ڈاکڑ کے پاس لے جائے ۔”
"آنٹی مجھے تو اب بہت کڑی سزا ملے گی نا ۔”
وہ بھاری آواز میں بولی کیونکہ اس کا گلا بھی بہت خراب ہوگیا تھا
"نہ میری چندا کوئی ہاتھ تو لگائے تمھیں اور خبردار تم نے مار کھائی کسی سے انسان جب تک خود نہیں چاہتا کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتئ اس لیے اب تم ان کی ظالم کے ظلم نہیں سہو گی اور ان کا کوئی حق نہیں بنتا تم پر ۔”
وہ اس کا ماتھا چومتے ہوے بولی
"مگر آنٹی بے بسی اور رشتہ ایسی زنجیر ہے جو آپ کو باندھ دیتی ہے جو آپ کو ہر ایکش کا ریکائشن کرنے سے روک دیتی ہے میں کھبی بھی اپنے اوپر ظلم نہ ہونے دیتی مگر اچانک ہی میرے ماں باپ کے ساتھ میرے بہن بھائی کی قمیتی جانیں نظر آتی ہے جو میرے ہی ہاتھوں سے گنوائی جائی گی اگر میں نے اپنے آپ سے محبت کی ۔”
دروازے پہ کھڑا صلاح الدین غور سے اس کی بات سُن رہا تھا کچھ سوچتے ہوے اس نے دروازہ کھول دیا تھا
اور اندر داخل ہوا ثمرن سمجھی وہ ہوگی وہ ڈر گی اور واقی کسی مرد کو دیکھ کر پہلے تو اس کا دل بند ہونے لگا تھا اب ٹہر گیا تھا وہ ان آنکھوں کو کیسے بھول سکتی تھی جو اس کے فیورٹ کپڑوں سے ملا کرتی تھی
بے بے نے مڑ کر دیکھا اور مسکرائی
"یہ ہے میرا بیٹا اور تمھارا شوہر ثمرن صلاح الدین ۔”
وہ جھٹکے سے پھر اس چہرے کو دیکھنے لگی بنا پلکے جھپکاے وہ اس کا چہرہ بیشک بھول گئی تھی لیکن جو اس کی آنکھیں نام ، اور کام نے کیا تھا اسے ایک سکینڈ میں سارا یاد آگیا تھا وہ ہی تو تھا پائلیٹ جس کے ساتھ وہ کوک پٹ میں بیٹھی تھی
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/