یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش) قسط نمبر 6 اگلے دن ان…

قسط نمبر 6
اگلے دن انکا ولیمہ تھا.عباسی ہاؤس کے سب لوگ ہال جانے کے لئے نکل چکے تھے سواۓ حیات صاحبہ اور شیرافگن کے ، ہمیشہ کی طرح حیات آج بھی لیٹ تھی.دادو نےشیرافگن کو اسے ساتھ لانے کا کہا پھر باقی سب چلے گئے.حیات اس بات سے بے خبر تیار ہونے میں لگی تھی.شیرافگن ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا کہ کب مہارانی تیار ہو کر آۓ اور کب وہ لوگ گھر سے نکلیں. وہ بلیک سوٹ پہنے ہوئے تھا.بلیک میں وہ ہمیشہ حد سے بڑھ کر گڈ لوکنگ لگتا تھا.اسنے ایک بار پھر گھڑی دیکھی اور غصہ قابو کرتے اٹھ کھڑا ہوا.یہ لڑکی ہمیشہ اسکی ناک میں دم کرتی تھی.وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا پر حیات کو نیچے آتا دیکھ کر رک گیا.
"اماں کب جانا ہے ویسے” وہ اپنے خیال میں دوپٹہ ٹھیک کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی. شیرافگن نے اسے دیکھا وہ بھی بلیک کپڑوں میں ملبوس تھی.جواب نہ پاکر اسنے سنہری آنکھیں اٹھائیں گھر بالکل سنسان تھا.وہ جلدی سے باقی سیڑھیا ں طے کرتی اسکے سامنے کھڑی ہوئی.”ہاۓ افگن بھائی مجھے سب چھوڑ کر چلے گئے” وہ پریشانی سے بولی.شیرافگن جو سحر میں کھویا تھا ایک دم چونک کر ہوش میں آیا "کیامیں تمہیں نظر نہیں آ رہا؟” اسنے تیکھے لہجے میں پوچھا.وہ کب سے اس محترمہ کا انتظار کر رہا تھا اور اب اسے کیا سننے کو مل رہا تھا.
"اف میں اب آپکےساتھ جاؤں گی کیا؟” اسنے افسوس سے گردن ہلائی شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑے کیا مطلب تھا اس لڑکی کی بات کا اسے تو غصہ ہی آگیا.
"اچھاٹھیک ہے تمہیں میرے ساتھ نہیں جانا تو بیٹھی رہو گھر میں میرا وقت فضول میں برباد کیا تم نے گڈ بائے!!!”وہ اسے گھور کرکہتا وہاں سے نکلا .حیات ہوش میں آکر اسکے پیچھے بھاگی "افگن بھائی میرا وہ مطلب نہیں تھا سچی”وہ تیزی سے اسکے پیچھے چل رہی تھی پر وہ پورچ کی طرف بڑھتا رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.
"افگن بھائی سنیں تو” اسنے تیزی سے بڑھ کر اسکے بائیں بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھاما. شیرافگن ایک دم رکا گردن موڑ کر اسے دیکھا
"مجھےبھی ساتھ لے کر جائیں..اب میں نے ایسا تو نہیں کہا تھا کہ مجھے آپکے ساتھ نہیں جانا” اسنے منہ بسورا سنہری آنکھیں گھما کر اسکو دیکھا.یہ منظر شیرافگن کے دل میں اتر گیا.
"جلدی چلیں” وہ اسکا بازو چھوڑتی کار کی طرف بڑھی جبکہ وہ جیسے کھو سا گیا تھا. حیات کے دوبارہ پکار نے پر ہوش میں آیا پھر سر جھٹک کر کار کی طرف بڑھا.
ہال میں وہ دونوں ساتھ داخل ہوئے گہما گہمی عروج پر تھی. اسٹیج پر ایمان اور مجتبیٰ بیٹھے تھے.سب انھیں وش کر رہے تھے.وہ دونوں بھی انکی طرف بڑھ کر انسے ملے "آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں” حیات نے پیار سے کہا. ایمان مسکرا کر سر جھکا گئی.وہ سیلور خوبصورت سی ڈریس پہنے ہوئے تھی.مجتبیٰ کی نظریں اسکے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں.کچھ دیر بعد مجتبیٰ اور شیرافگن اسٹیج سے اٹھ کر نیچےچلے گئے.حیات ،ایمان کے ساتھ بیٹھی باتیں کرتی رہی پھر حیات کی چڑیلیں بھی آگئیں. وہ سب بھی وہی بیٹھ کر گپیں لگانے لگیں.”بڑی میچنگ میچنگ چل رہی ہے تم دونوں کی اہم..دال میں کچھ بلیک بلیک سا ہے”تابی نے اسکے کان میں سر گوشی کی. حیات نے اسکی بات سمجھ کر پہلےدور کھڑے شیرافگن کو دیکھا پھر نظر گھما کر اسے
"کچھ بلیک نہیں دال میں یہ صرف ایک اتفاق ہے سمجھی”اسنے گھور کر سر جھٹکا. "حسین اتفاق” حریم نے لقمہ دیا سب کھلکھلا کر ہنسی.حیات نے برا سا منہ بنایا. سبین نے ایمان کی طرف اشارہ کر کے انھیں اسکی طرف متوجہ کیا.جو چپکے سے مجتبیٰ کو دیکھ رہی تھی.مجتبیٰ کی نظریں بھی اس پر تھی.وہ سب شرارت بھری ہنسی روکے سب دیکھتی رہیں.مجتبیٰ کو کسی نے آواز لگائی تو وہ اس طرف متوجہ ہوا.ایمان نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کر کے کھولیں وہ ان شیطانوں کی نگاہوں سے انجان تھی.
"ڈھانپ لیا پلکوں میں تجھ کو”
"بندکر لئے نین”
"تومجھ کو میں تجھ کو دیکھوں”
"غیروں کا کیا کام”
میناکی سنگر والی رگ بھڑکی تو اسنے نے گانا ،گانا شروع کیا سب نے تالیاں بجاکر اسکا ساتھ دیا.ایمان نے چونک کر انھیں دیکھا سب کے چہروں پر شریر سی مسکراہٹ چمک رہی تھی. وہ ان کے بیچ پھنس چکی تھی.
"واہ واہ مینا”انہوں نے داد دی.مینا نے سر کو خم دے کر وصول کی
"ہاں تو آپی آپ مجتبیٰ بھائی کو آنکھوں میں چھپا رہی تھیں”حیات نے آنکھیں جھپک کر کہا ایمان گلابی چہرہ جھکا گئی.
"آپی کا حق ہے مجتبیٰ بھائی پر” حریم نے ایمان کاساتھ دیا.”بالکل بالکل”ایک ساتھ کہا گیا. "پر آپی چُپ کر نہیں پورے حق سے دیکھیں ناں” تابی نے کہا تو ایمان نے اسے گھورا پر ان پر اثر کہاں ہونا تھا.کافی دیر وہ ایمان کا سر کھاتیں رہیں پھر دادو نے انہیں ڈانٹ کر وہاں سے ہٹایا تو انھیں صبر ہوا.ان سب نے مل کر کھانا کھایا.حیات امل کو ڈھونڈھ رہی تھی. جو مریم کے ساتھ گھومتی نجانے کہا تھی. حیات ارد گرد دیکھتی گزر رہی تھی.جب کسی سے ٹکرائی پھر ایک دم سنبھل کر پیچھے ہوئی سامنے دیکھا تو علی کھڑا تھا.اس کے چہرے پر نظریں جماۓ مسکرا رہا تھا.”کیسی ہیں آپ” اسنے لگاؤ سے پوچھا
"میں ٹھیک”اسنے دھیمے سے مسکراکر مختصر جواب دیا.اسے جانے کی جلدی تھی.امل کو دادو نے بلایا تھا.اگر دیر ہوتی تو دادو نے اسے سنانی تھیں اور وہ علی سےگپیں لگا بھی نہیں سکتی تھی. اسے علی سے چڑ سی تھی.
"بہت پیاری لگ رہی ہیں”علی نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا. حیات نے لاپرواہی سے شکریہ کہا جبکہ دور کھڑاشیرافگن ماتھے پر شکنیں ڈالے انھیں گھور رہا تھا.وہ جلدی سے علی سے جان چھڑا کر بھاگی.شیرافگن بھی اسکے پیچھے گیا.حیات امل کو پورے ہال میں ڈھونڈھ چکی تھی پر وہ کہیں نہ ملی .وہ ہال سے باہر آئی کہ شاید باہر ہو وہ آگے بڑھ رہی تھی.جب اسکا بازو ذور سے کھینچا گیا.
"کیا مسئلہ ہے!!”اس نے غصے سے پلٹ کر کہا وہ کب سے امل کو تلاش کر کے جھنجھلا اٹھی تھی.اور اب یہ کون ہے.جب اسنےسامنے دیکھا تو شیرافگن صاحب اسے گھور رہے تھے.
"اب کیا کر دیا میں نے”وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بڑبڑائی اسکابازو شیرافگن کی گرفت میں تھا.
"کتنی بار کہا ہے دیکھ کر چلا کرو…میری بات سمجھ نہیں آتی تمہیں…کبھی ان آنکھوں کا استمعال بھی کر لیا کرو…ویسے ٹکرانا تمہیں بہت اچھا لگتا ہے.ہاں بولو؟” اسکےبازو کوجھٹکا دے کر اسنے دانت پیس کر پوچھا "پر میں آپ سے کب ٹکرائی”وہ حیران تھی. "آنکھیں کھول کر چلا کرو سمجھی مجھے ذرا پسند نہیں تمہاری یہ بچوں والی حرکتیں” اسنے چبا کر کہا حیات کا دماغ گرم ہوا.یہ کیا ہے جب مرضی اسے ڈانٹ دیا جائے جبکہ اس نے کچھ کیا بھی نہ تھا.اسنے اپنا بازو جھٹکے سے اسکی گرفت سےچھڑایا.پھر بغیر کچھ کہے پلٹ کرچلی گئی.شیرافگن نے اسکی پشت کو گھورا حیات کے ساتھ علی کو دیکھ کر اسے آگ ہی تو لگ گئی تھی.
"دیکھ کر نہیں چل سکتی یہ لڑکی اب کیا ہر کسی سے ٹکراتی پھرے گی پاگل لڑکی”وہ غصے سے بڑبڑاتا اندر کی طرف بڑھ گیا.
حیات نے امل اور مریم کو سامنے سے آتے دیکھا تو تیز قدموں سے انکی طرف بڑھی
"امل یہاں کیا کر رہی ہو کب سے تمہیں ڈھونڈھ رہی ہوں پرتم نے تو نہ ملنے کی قسم کھائی تھی حد ہوگئی”حیات نے اپنا غصہ امل پر اتارا.وہ دونوں حیران تھی کہ حیات کو کیا ہوگیا.” آپی مریم کا موبائل کار میں تھا بس وہی لینے آۓ تھے.آپ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہیں”اسنےمنہ بنا کر کہا.حیات نے آج سے پہلے اسے نہیں ڈانٹا تھا.
"آئی ایم سوری گڑیا چلو آؤ دادو بلا رہی ہیں” اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا.وہ شیر مار کا غصہ اس پر اتار رہی تھی.اسنے امل کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے کہا دوسرے ہاتھ میں مریم کا ہاتھ لیا پھر مسکرا کر ان سے باتیں کرتی اندر بڑھ گئی.
احمر جمالی زخمی شیر کی مانند ہو گیا تھا. اپنے اپارٹمنٹ میں وہ تینوں دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا.آج دوسرا دن تھا.اسکے سر کا زخم اب بھی دکھ رہا تھا.پر اس سے زیادہ اسے یوں شکار کے ہاتھ سے جانے کا دکھ پاگل کر رہا تھا. اپر سے دوست اسکے غصے کو اور ہوا دے رہے تھے.اس دن کے بعد وہ آج انسے ملا تھا.
"چھی یار بہت برا کیا شازمہ نے تو نے سبق سکھانا تھا ناں اسے”ندیم نے اسے بھڑکایا
"بچ نکلی…” اسنے گالی دے کر منہ پر ہاتھ پھیرا ناخن لگنے کے نشان چہرے پر اب بھی تھے.اسے وہ درد یاد آنے لگا جب خون اسکے سر سے نکل کر فرش کو لال کر رہا تھا.
"کیا حال کیا ہے تیرا "سلمان نے چنگاری کو ہوا دی. احمر جمالی نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا کانچ کا گلاس دور پھینکا جو ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا”شازمہ کی ایسی کی تیسی اور اس لڑکی کو نہیں چھوڑوں گا.اسکی ہمت کیسے ہوئی وہ میرے خلاف بکواس کرتی رہی.اب اسےبتاؤں گا کہ احمر جمالی کوئی چھوٹی چیز نہیں وہ حال کروں گاکہ یاد رکھے گی”لاوا پھٹا تھا.اسکے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی.آنکھیں غصے سے لال ہو رہیں تھیں.” ویسے وہ لڑکی کون ہے؟”وقاص نے آگے ہو کر تجسس سے پوچھا
"ہے کوئی حیات…جو کافی حد تک مجھے جانتی ہے تبھی شازمہ کو سبق دیتی رہی اب میں بھی اسے اچھے سے جان لونگا.اسنے شازمہ کو توبچا لیا پراسے میرے ہاتھوں سے کون بچاۓ گا "وہ ہاتھ میں پکڑے سیگریٹ پر نظریں جماۓ چباکر بولا "واہ یار اب آۓ گا کھیل کا اصل مزہ” سلمان نے کمینگی سے ہنس کر اسکا شانہ تھپکا.احمر جمالی آنکھوں میں شیطانی چمک لئے خاموش بیٹھا سوچ رہا تھا. شازمہ کوچھوڑکروہ حیات کےپیچھےپڑگیا تھا.
"سنو میری بات” اسنے تینوں کو متوجہ کیا
"کل پتہ لگاؤ یہ حیات کون ہے”اسنے انگلی اٹھا کر کہا” اوکے باس "سلمان نے سر ہلایا
"ایسا سبق سکھاؤں گا اسے کہ وہ دوسروں کو سمجھانا بھول جائے گی” اسکا شیطانی دماغ بہت کچھ سوچ رہا تھا.
"اہم کل ہی پتہ لگاتے ہیں کون ہے وہ بد نصیب جسنے تجھ سے پنگا لیا ہے”ندیم نے ہنس کرکہا "آگے آگے دیکھو ہوتا ہےکیا”اسنے سیگریٹ کا کش لے کر منہ سے دھوا اڑایا.تینوں اسے مذید بھرکانے کا کام اچھے سےکر رہے تھے. احمرجمالی انکی باتیں سن کر اور خطرناک ہوتاجارہا تھا.
وہ لوگ گراؤنڈ میں ایک سائیڈ پر کھڑیں باتوں میں مگن تھیں.جب شازمہ انکے سامنے آ کر کھڑی ہوئی.سر سے پیر تک بدلی ہوئی لگ رہی تھی.انھیں لگا شاید لڑائی کا پروگرام ہوگا محترمہ کا پر وہ خاموش کھڑی بولنے کے لئے الفاظ تلاش کر رہی تھی.سر اٹھا کر انھیں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں.
"حیات آئیم سوری”اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں وہ سب حیران تھیں.حیات نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما” کیا ہوا شاز مہ تم ایسے…یہ سب”اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شازمہ کے یوں اچانک اتنا بدل جانا پر کیا کہے.
"میں اپنی کہی تلخ باتوں کی معافی مانگنے آئی ہوں تم سب سے اسپیشلی تم سے حیات” اسنے سب کو دیکھا "ایٹس اوکے”حیات نے کہا
"مجھے افسوس ہے خود پر کہ میں نے تم لوگوں کی بات نہ مانی اور احمر جمالی کو صحیح سمجھتی رہی پر اب میری آنکھوں سے پٹی اتر چکی ہے.تم سب کا شکریہ کہ تم لوگوں نے میرے برے رویے کےباوجود میرا بھلا چاہ کر مجھے سمجھایا” اسنے نم آنکھوں کے ساتھ نرمی سے کہا. پھر سب بتاتی چلی گئی. وہ حیران تھی.احمر جمالی کی گری ہوئی حرکت پر شاک تھیں پر انھیں خوشی تھی کہ اللّه نے شازمہ کو ہدایت دی.اسکی عزت اس شیطان سے محفوظ رہی.
"چلو یار جانے دو گزری باتوں کو”حریم نے ماحول پر چھائی اداسی کو مٹانے کے لئے مسکرا کرکہا پھر شازمہ کوگلے لگایا.دیر تک وہ سب باتیں کرتیں رہیں.”تم سب بہت اچھی ہو”شازمہ نے انھیں پیار سے دیکھا.
"وہ تو ہیں یار” حیات نے شوخی سے کہا
"بالکل بالکل” مینا نے تعریف وصول کی تو شازمہ انھیں دیکھ کر ہنسنے لگی.وہ سب واقعی بے مثال تھیں.کاش اسکے پاس بھی اچھی دوستیں ہوتیں جو ہر قدم پر اسکا ساتھ دیتیں.”کاش میری بھی تم سب جیسی پیاری فرینڈز ہوتیں”اسکے دل کی بات زبان پر آئی
"ارے ہم بھی تمہاری فرینڈز ہی ہیں” حیات نے اسکے بازو کو تھام کر کہا
"بالکل یار” باقی سب نے بھی ہاں میں سرہلایا. وہ ہلکی پھلکی ہو کر مسکرائی.اس دن احمر جمالی کے ہاتھ سے بچ جانے کے بعد وہ بہت مشکل سے گھر پہنچی تھی.اسکا دل ٹوٹ گیا تھا.احمر جمالی سے اسنے محبت کی تھی پر اسنے کیا کیا ؟ اسے بد کردار قرار دیا؟ بھلے ہی اسکی لڑکوں سے دوستی تھی پر وہ بد کردار نہ تھی.اس رات اس پر واضح ہوا کہ کیوں اللّه نے عورت کے لئے کچھ حدود رکھیں ہیں.تا کہ وہ احمر جمالی جیسے برے لوگوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں.شازمہ بھی اپنی حدود بھول چکی تھی.پر اللّه نے اسے ٹھوکر لگا کر گرایا نہیں تھا بلکہ پھر سے کھڑا کر دیا تھا کہ وہ سنبھل جائے اور وہ سنبھل گئی تھی.وہ اس پاک ذات کی شکر گزار تھی جسنے اسے سنبھلنے کا موقع دیا تھا.”شازمہ” سبین کے پکارنے پر وہ چونک کر خیالوں سے نکلی.
"کہاں کھوئی ہو” تابی نے ہاتھ لہرایا
"کہیں نہیں… میں کل سے یونیورسٹی چھوڑ کر جارہی ہوں بس آخری بار تم سب سے ملنے آئی تھی” اسکی بات پر سب نے اسے دیکھا
"ارے پر کیوں جارہی ہو”حیات نے پوچھا
"امریکہ جا رہی ہوں ماما ، بابا کے پاس” اسنے ہلکی مسکان کے ساتھ بتایا.وہ یہاں اپنی خالہ کے ساتھ رہتی تھی.ماما،بابا کے بلانے کے باوجود وہ احمر کی محبت میں امریکہ واپس نہیں گئی.پر اب وہ ہمیشہ کےلئے جارہی تھی.
"اوه اچھا…چلو جہاں بھی رہو خوش رہو” حیات نے دوستانہ لہجے میں کہہ کر اسے گلے لگایا.سب سے مل کر وہ چلی گئی. اگر اسنے ایک شخص کوکھویا تھا تو بدلے میں وہ دوستی جیسا خوبصورت بندھن اپنے ساتھ لے کر جارہی تھی.وہ سب شازمہ کے لئے بہت خوش تھیں.پر وہ نہیں جانتی تھیں کہ دور کھڑا کوئی حیات کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا.اسکے خطرناک ارادوں سے وہ انجان تھیں.وہ آنکھوں میں وحشی چمک لئے اسے دیکھے جا رہا تھا.
یونی سے واپس آ کر وہ کمرے میں ہی بیٹھی رہی تھوڑا ناول پڑھا ، حریم سے بات کی پر اسکا دل ہی نہیں لگ رہا تھا.اسے ایمان یاد آرہی تھی.ابھی تو ایمان کو رخصت ہوئے تیسرا دن تھا.حیات اسے شدت سے یاد کر رہی تھی. اسنے کل ایمان سے بات کی تھی.ابھی اسکا دل تھا کہ وہ کال کرے پر ایمان اور مجتبیٰ بھائی کی دعوتیں ہو رہی تھیں.اسلئے وہ انھیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی.وہ تھک کر بیڈ سے اٹھ کردروازےکی طرف آئی.جب وہ کمرے سے باہر نکلی. شیرافگن بھی اپنے کمرے سے نکل رہا تھا.اسنے سرسری سا اسے دیکھا پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھی.ولیمہ میں جب اسنے حیات کو ڈانٹا تھا.تب سے وہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی.شیرافگن بھی آفس کے کاموں میں مصروف تھا نوٹ نہ کر سکا.پر اب اسنے حیرت سے حیات کی پشت کو دیکھا کہ اسے کیا ہوا؟
"حیات بات سنو” اُسنے پلٹ کر دیکھا.وہ قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا.”ایسے خاموشی سے کیوں جا رہی ہو؟”اسے حیات کا اگنور کرنا ایک آنکھ نہ بھایا. اسے برا لگاکہ حیات نے اس سے بات کیوں نہ کی
"کیا مطلب!!” حیات نے آبرو اٹھا کر کہا
"کچھ نہیں”اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا آگے بڑھنے لگا.حیات کو تیش آیا "آپکو مجھ سےسوری کرناچاہیے”اسنے تیکھےلہجےمیں کہا
"کونسی خوشی میں” وہ جان کے انجان بنا
"آپ کو پتہ تو ہے”وہ ذیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتی تھی.شیرافگن یہ بات اچھے سے جانتا تھا.”مجھے کچھ نہیں پتہ” وہ لبوں پرمسکراہٹ دبائے سینے پہ ہاتھ باندھ کربولا
"آپ نے مجھے بری طرح سے ڈانٹا تھا.یہ بات تویاد ہوگی ناں آپکو؟”اسنے ناک چڑھا کر کہا
"کب..”اسنے نفی میں سر ہلایا.وہ تو حیات کا بلڈ پریشر ہائی کر رہا تھا.حیات دانت پیس کر غصے میں وہاں سےجانے لگی.شیرافگن نے جلدی سے اسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لےکر اسے روکاپھراسکی سنہری آنکھوں میں دیکھنے لگا.”سوری میڈم حیات ” مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا گیا.حیات نے پلکیں جھپک کر اسے دیکھا اسکی آنکھیں چمکیں چہرے پر مسکان بکھری ڈمپل واضح ہوا.شیرافگن تو جیسے دیوانہ ہونے لگا.”یہ ہوئی نا بات”وہ کھلکھلا کر ہنسی یہی تو وہ کب سے سننا چاہ رہی تھی.
"چلےآئیں اسی خوشی میں آپکو کافی پلاتی ہوں”وہ خوشی سے کہتی جانے لگی. شیرافگن نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لی. حیات کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکلا.حیات وہاں سے چلی گئی پر وہ وہی بت بنا کھڑا تھا.جیسے اس پرجادو ہوگیا ہو.کچھ دیر بعد ہوش میں آیا تو لمبی سانس کھینچ کر سیڑھیاں اترنے لگا.جب وہ نیچے آیا سب محفل جماۓ بیٹھے تھے.حیات کچھ دیر بعد سب کے لئے کافی لے آئی.”کل مجتبیٰ لوگوں کی دعوت کا سوچ رہی ہوں تم دونوں کا کیا کہنا ہے؟” دادو نے دونوں بہوؤں کو دیکھ کر پوچھا
"بہت اچھا خیال ہے امی جان”تائی امی نے کہا
"بالکل کل ڈنر کا انتظام کرتے ہیں.ایمان بھی کچھ دن یہاں رہ لے گی” الماس بیگم نے ساس کو دیکھا.ایمان کے رکنےکی بات پر حیات انکے قریب ہوئی.”پھر تو پکا کل ہی دعوت ہوگی دادو” وہ خوشی سے بولی
"اچھا تو میرا بیٹا کیا بناۓ گا پھر؟”بڑے ابو نے شرارت سے پوچھا وہ جانتے تھے.کھانا بنانے کے معاملے میں وہ اناڑی تھی.
"بڑے ابو آپی تو صرف کافی ہی بنا سکتی ہیں” امل نے لقمہ دیا تو سب ہنسے "تویہ بھی بڑی بات ہے.ہے نا بڑے ابو”حیات نے انسے تصدیق چاہی "بالکل میری بیٹی کمال کی کافی بناتی ہے” انہوں نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا.شیرافگن نے بھی ہاں میں سرہلا کر حامی بھری.حیات تو بیہوش ہوتے ہوتے بچی کہ شیرمار اور اسکی تعریف کرے ناممکن سی بات لگتی ہے.
"بہو نوری کو ساتھ لگا لینا اس لڑکی نے تو کچھ نہیں کرنا” دادو نے اسے دیکھ کر افسوس میں گردن ہلا کر نوری کو بلانے کا کہا جو گھر کے پیچھے بنےسرونٹ کواٹر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھی.یہاں صفائی وغیرہ کرتی تھی.دادو کے افسوس سے کہنے پر حیات انکے پاس بیٹھی پھر بازو انکے گلے میں ڈالے
"پیاری دادو اگر آپ کہتی ہیں تو میں کچھ نہ کچھ بنانا سیکھ لونگی پکا”اسنے پیار سے کہا
"یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹا” دادو نے اسکے گال پر ہاتھ پھیرا.شیرافگن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھا جو اب دادو سے باتیں کرنے میں مصروف تھی.ہر کسی کو وہ اپنی باتوں سے رام کر لیتی تھی.محترمہ کو بولنا تو خوب آتا تھا.وہ اسے دیکھتے ہوئے کافی پی رہا تھا.اسنے سبکو باتوں میں لگایا ہوا تھا سواۓ شیرافگن کے جو اسے دیکھنے میں مصروف تھا.
اگلے دن یونی سے آ کر اسنے تھوڑا آرام کیا عصر کے وقت اٹھ کر وہ جلدی سے تیار ہوئی بلیو خوبصورت سا لباس پہنا ، بالوں کی چوٹی بنائی پھر موبائل لے کر بیٹھی ایمان کو کال کر کے جلدی آنے کا کہا.ایمان نے بھی اوکے کہا اسے بھی سب سے ملنے کی جلدی تھی. موبائل رکھ کر وہ نیچے آئی سب تیاریوں میں لگے تھے.وہ دادو کے پاس صوفے پر بیٹھی
"اتنی جلدی تیار ہو گئیں آپی”امل نےحیرت کہا "ہاں ناں” اسنے مختصر جواب دیا پھر اٹھ کر کچن کی طرف گئی.وہاں تائی امی ، نوری اور اسکی اماں کام میں مصروف تھیں.
"تائی امی مجھےبھی کوئی کام بتائیں”حیات نے انکےقریب آتے ہوئے کہا.اسکی اماں نے پلٹ کر اسےدیکھا "میری بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی بھابی” انہوں نے مسکرا کر سارا بیگم کو دیکھا.حیات نے انھیں دیکھ کر منہ بسورا.”ارے الماس تمہیں ہی شکایت تھی ناں کہ حیات کام نہیں کرتی اب کر رہی ہے تو تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو” انہوں نے مسکرا کر الماس بیگم کو اشارہ کیا کہ حیات نے انکی ایسی باتوں پر ابھی باہر بھاگ جانا ہے.
"ٹھیک کہا بھابی آؤ میری گڑیا سلاد بنا دو تم” انہوں نے محبت سے حیات کو بلایا
"اوکے اماں” وہ شیلف کی طرف آ کر کام کرنے لگی جبکہ دونوں خواتین نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا.انکی لاڈلی شکر ہے کچن کی طرف آئی تھی .مغرب تک ملک فیملی آچکی تھی. ایمان سب سے مل کر بہت خوش ہوئی ایسے جیسے سالوں بعد ملی ہو.
حیات تو اسے لے کر بیٹھ گئی. ان دنوں میں جو بھی ہوا وہ ایمان کو بتانے لگی.شیرافگن اور مجتبیٰ باتوں میں مصروف تھے.امل بھی مریم کے ساتھ گپیں لگا رہی تھی.بڑوں کا الگ گروپ بنا تھا.سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے.پھر سب نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا.کھانے کے بعد بھی محفل جمی رہی.کافی دیر بعد وہ جانے کے لئے اٹھے.باقی سب رخصت ہوئے اور ایمان یہی رہ گئی تھی.جب سب اپنے کمروں میں چلے گئے تو حیات ، ایمان کو لئے اپنے کمرے میں آئی.
"آپی” حیات نے اسے پکارا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی چُھمکے اتار رہی تھی.
"ہوں..”اسنے مصروف انداز میں کہا
"مجتبیٰ بھائی کیسے لگے آپکو”
"تمہیں کیوں بتاؤں” ایمان نے ہنسی دبائی
"آپی…” اسنے ذور دے کر کہا
"جی آپی کی جان”وہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھی
"بتائیں ناں”اسنے منت سے کہا
"بتا دوں ؟”ایمان نے اسے تنگ کیا
"اچھا چھوڑدیں نہ بتائیں”وہ منہ پھلاکر بیٹھی
"بہت اچھے ہیں مجتبیٰ لوونگ ، کیرنگ سے” ایمان نے دھیمے سے اسکے کان میں کہا
"اہم میں صدقے” حیات نے ہنس کر اسکا گلابی چہرہ دیکھا.”میں نے تمہیں بتادیا پرخبردار جو مجھےتنگ کیاتم نے”اسنے انگلی اٹھا کر کہا
"میں نے تو اب مجتبیٰ بھائی کو بتانی ہے یہ بات”وہ دور ہو کر شرارت سے بولی
"حیات!!”ایمان نے آنکھیں نکالیں تو اسنے کان پکڑ لئے.ایمان بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.
"کہاں” حیات نے اسے دیکھا
"بھائی سے گپیں لگانے جارہی ہوں”
"کیوں آپی” وہ ایمان کو جانے نہیں دینا چاہتی تھی.”ارے لڑکی بھائی کی یاد آتی رہی مجھے اب اس سے مل لوں ناں”ایمان اسے کہتی کمرے سے جانے لگی.حیات منہ بنا کر بیٹھ گئی.ابھی اسنے آپی سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی تھی اور آپی چلی گئیں شیرمار سے گپیں لگانے.
ایمان نوک کر کے شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ صوفے پر بیٹھا تھا.ہاتھ میں فائل پکڑی تھی.سر اٹھا کر ایمان کو دیکھا تو ہلکے سے مسکرایا”آجاؤ ایمان بیٹھو”اسکے کہنے پر وہ صوفے پر اسکے ساتھ بیٹھ گئی.
"کیسی ہو تم ؟ خوش تو ہونا؟اسنے فائل بند کر کے ٹیبل پر رکھی اوراسے دیکھ کر پوچھا ابھی دونوں بھائی، بہن کو فرصت سے بات کرنے کا موقع ملا تھا.
"ٹھیک ہوں بھائی اور خوش بھی” اسنے مسکرا کر جواب دیا "بہت اچھے.. ورنہ مجتبیٰ میرے ہاتھوں سے نہیں بچتا "اسنےمذاق سے کہا ایمان ایک دم سے ہنسی تھی.
"بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے”وہ سنجیدہ ہوئی.”ہاں بولو ناں”شیرافگن نےاسے دیکھا "مجتبیٰ کے کزن علی ہیں ناں وہ…”وہ رکی اور شیرافگن کو دیکھاکہ آگے بات جاری رکھے یا نہیں کہیں وہ غصہ نہ ہوجائے.
"ہاں”شیرافگن کے ماتھے پر شکنیں پڑیں اسنے ایمان کو بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا.
"علی نے اپنی ماماکو مجھ سے بات کرنے بھیجا تھا حیات کے لئے”
"تم نے کیا جواب دیا؟”شیرافگن کاپارہ ہائی ہونےلگا.”کچھ نہیں پر بھائی وہ جلد گھر آنا چاہتی ہیں.بات آگے بڑھانے کے لئےاسلئے آپ سے کہنے آئی ہوں کہ آپ دادو اور ماما،بابا سے بات کریں ورنہ کہیں دیر نہ ہو جائے”اسنے بھائی کو دیکھا جسنے کوئی جواب نہ دیا بس سوچوں میں گم تھا.
"ذیادہ سوچیں مت اور جلد بات کر لیں” اسنے محبت سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
"انہوں” وہ سوچوں کے جال سے باہر نکلا
"آپ حیات سے محبت کرتے ہیں ناں؟”ایمان کے ایک دم سے پوچھ لیا.اسکی بات پر شیرافگن نے حیرت سے بہن کو دیکھا
"سچ کہتے ہیں بہنوں سے بھائیوں کی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی پوری جاسوس ہوتی ہو تم بہنیں” اسنے مسکرا کر ہلکے سے اسکے سر پر چپت لگائی تو وہ کھلکھلائی”تو بھائی آپکو کیا لگا تھا آپ خاموشی سے دیوداس بنے رہے گے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلے گا ایسا تو ہونے سے رہا ناں”
"اللّه…میری بہن تو بہت چالاک ہے توبہ” اسنے کانوں کو ہاتھ لگایا.
"آخربہن کس کی ہوں”ایمان نے اسکی طرف اشارہ کیا.شیرافگن ایک دم سے ہنسنا.
"ویسے اب اگر تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری جھلی صاحبہ کو اس شان دار بندے نے پسند کیا ہے تو علی کو اس سےدور رہنے کا سگنل دے دو ” شیرافگن کو شادی میں علی کا حیات کو دیکھنا یاد آیا.اسےعلی پر خوب تیش آیا تھا.
"ایٹس ناٹ فئیر بھائی وہ جھلی نہیں بلکہ بہت سمجھدار ، پیاری سی لڑکی ہے.جانتے تو آپ بھی ہیں ناں”اسنے بھائی کو دیکھا جو بے ساختہ مسکراہٹ لبوں پر دبا گیا.
"اور بھائی علی کی ماما کو منع کر بھی دیا تو کل کو کوئی اور رشتہ بھی تو آ سکتا ہے اور اگر دادو نے کسی کو ہاں کر دی تو؟ کیونکہ گھر میں کسی کو نہیں معلوم کہ یہ شاندار شخص ہماری جھلی کو پسند کرتا ہے” سنجیدگی سے کہتے آخر میں اسنے شرارت سے کہا.شیرافگن واقعی سوچنے لگا ایسا ہو بھی سکتا ہے.اسے بات کرنی چاہیے. اس پیاری سی لڑکی کو اپنے نام کر دینا چاہیے تا کہ پھر کوئی اور اسے ان نظروں سے نہ دیکھ سکے. اسنے ایمان کو دیکھا جو اسکے جواب کی منتظر تھی.”پھر ٹھیک ہے کل بات کرتا ہوں دادو سے تم بھی ساتھ چلنا پر یہ بات اس محترمہ تک نہ پہنچے”ایمان کو بڑی ہنسی آئی اسکی بات پر اسے آخر حیات کی نظروں میں اپنی ہٹلر والی امیج بھی تو برقرار رکھنی تھی.
"اوکےبھائی ڈن” وہ انگوٹھے اٹھا کر ہنس کر ڈن کہتی اٹھ کھڑی ہوئی. پھر بھائی کو شب بخیر کہتی وہاں سے چلی گئی.
پیچھے شیرافگن سوچ رہا تھا.سب سےکیسے بات کرے گا. یہ مشکل کام تھا.ہمیشہ تو وہ حیات کو ڈانٹتا رہتا تھا.اور اب یوں اچانک…. پر وہ کونسی کم تھی.اسنے خود کو تسلی دی کہ وہ اتنا بھی جلاد نہیں.اسکی بات پر حیات کا کیا ریاکشن ہوگا ؟وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا.وہ تو ویسے ہی اس سے بھاگتی پھرتی تھی رشتے کی بات پر تو اسنے غائب ہی ہو جانا تھا.اسنے لمبی سانس کھینچ کر بالوں میں ہاتھ پھیرا پھر اٹھ کر بیڈ کی طرف آیا.
"اب بھاگتی ہے یا کچھ بھی یہ بات تو طے ہے وہ صرف میری ہی ہو گی.اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھنا میرے بس کی بات نہیں، بس دیکھ لیں گے کیاکرتیں ہیں محترمہ…پیچھے تو میں نے بھی نہیں ہٹنا اپنابنا کر ہی چھوڑوں گا انشاءاللّه” مدھم لہجے میں مسکرا کر کہا گیا. پھر وہ جلد ہی سونے کے لئے لیٹ گیا.کل اسے میٹنگ جو کرنی تھی بڑوں کے ساتھ اور اسکے لئے اسکا فریش ہونا بہت ضروری تھا. ہے ناں؟ کل وہ سب سے اپنے لئے بہت قیمتی چیز مانگے گا اور اسے پکا یقین تھا.وہ اسے ضرور ملے گی.وہ حیات سے محبت کرنے لگا تھا.اسے تو پا کر ہی رہے گا.وہ اس ضدی دل کی خواہش تھی.شیرافگن اس معاملے میں بہت سیلفِش تھا.اسے جو چاہیےہوتاوہ پاکر ہی رہتا.
وہ جیسے ہی یونی پہنچی اسے بریکنگ نیوز سنائی گئی.وہ نیوز پر ریایکٹ بھی نہ کر سکی کہ وہ اسے کھینچ کر کلاس کی طرف بڑھ گئیں. کیونکہ وہ کلاس کے لئے لیٹ ہو رہی تھیں.جب وہ کلاس لے کر باہر نکلیں تو اپنی فیورٹ جگہ پر بیٹھیں.”مجھے یقین نہیں آ رہا ہمارا کہا سچ ہونے والا ہے”حیات نے خوشی سے انہیں دیکھ کر کہا
"اس بات کو سچ تو اس بھولی نے کیا ہے. پوچھو ذرا کیا جادو کیا ہے اسنے اپنی تائی اور انکے بیٹے پر جو اسکے واپس آتے ہی اسکے پیچھے دوڑے چلے آۓ” تابی اسے تنگ کرنے کے لئے بولنا شروع ہو چکی تھی.باقی سب مسکرا رہیں تھیں .سبین مسکین سی صورت بناۓ بیٹھی تھی.اسے خود خبر نہ تھی کہ اسنے کیا جادو کیا بھلا پر جادو تو ہو چکا تھا.
"اچھا اس کو بولنے تو دو”حریم نے کہا
"چلو بولو سبین”مینا سننے کے لئے آگے ہو کر بیٹھی.سبین نے انھیں دیکھ کر چشمہ ٹھیک کیا "ارے ٹھیک ہے تمہارا لاڈلہ چشمہ اب جلدی سے بات شروع کرو” حیات نے اسے ٹوک کر کہا
"مجھے ذیادہ نہیں پتہ بس بات کی ہے تایا اور تائی نے بابا سے ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا” اسنے سر جھکا کر مدھم لہجے میں بتایا
"اف اللّه یہ مدھم لہجہ قربان جاؤں” مینا نے اسے گلے لگایا اسکا سویا ہواپیار جاگ اٹھا تھا.
"رشتہ بھی جلد پکا ہو جائے گا بچہ”حیات نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑوں کی طرح کہا
"بھولے بھائی کا نام کیا ہے؟”تابی نے پوچھا
"بدتمیز ادب سے نام لو ہمارے فیوچر جیجو ہوتے ہیں”مینا نے اسکے کندھے پر چپت لگائی.
"تم لوگ میرے کندھے کو ایک بار میں ہی توڑ دو بار بار کیوں زحمت کرتی ہو”اسنے منہ بنا کر غصےسےکہا کیونکہ اسے ہمیشہ کندھے پر ہی پڑتیں تھیں.”آؤ میری پیاری دوست میں توڑتی ہوں تمہارا کندھا "حیات ہاتھ اٹھا کر اسکے قریب ہوئی .وہ ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹی.اسکے ڈرنے پر سب نے قہقہہ لگایا.
"اب چپ!! نام تو بتانے دو سبین کو”حریم نے سبکو خاموش کرایا.”بولوچشمش”حیات نےکہا ” عبدالله نام ہے”وہ کہتے ہوئے شرما سی گئی”بہت پیارا نام ہے” حریم نے مسکرا کر کہا
"شرمانا تو دیکھو” مینا نے شرارت سے سبکو کو متوجہ کیا.پھر معصوم سبین تھی اور اسے تنگ کرنے والی اسکی شیطان دوستیں.
واپسی کے وقت حیات بیگ ٹھیک کرتی پارکنگ کی طرف بڑھ رہی تھی.جب کسی سے ٹکرائی تھی.سامنے والا جیسے خود اسکے سامنے آیا تھا.نظر اٹھا کر دیکھا تو اسکے پیشانی پہ بل پڑے.سامنے والا اسے گھورنے میں لگا تھا.ساتھ ایک دوست بھی تھا جو دانت نکال رہا تھا.وہ سائیڈ سے ہو کر جانے لگی کہ اسنے آگے ہو کر اسکا راستہ روکا.
"حیات!!!”چبا کر کہا گیا
"کیا مسئلہ ہے آپکو مسٹر”وہ غصے سے بولی
"احمر…احمر جمالی کہتے ہیں مجھے”اسکے چہرے پر نظریں جما کر بولا
"راستے سے ہٹیں”حیات کا چہرہ غصے سے لال ہونے لگا.
"ابھی کے لئے ہٹ جاتے ہے پر…”وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسکا جائزہ لینے لگا.جب وہ سائیڈ پر ہوا تو حیات جلدی سے آگے بڑھی.
"شی از بیوٹیفل” اسے جاتے دیکھ کر احمر جمالی بڑبڑایا.اسکے ساتھ کھڑا سلمان ذور سے ہنسا.”کہا تھا ناں پوری بلا ہے.اب کیا کرنا ہے اسکا”اسکی بات پر احمر جمالی کمینگی سے ہنسا.”آہ..اب تو یہ دل بے چین ہوگیا ہے.لڑکی قیامت ہے تیرے بھائی کا دل لے گئی.شازمہ کے بدلے اس پرنسیس کا سودا برا نہیں ہے”وہ دور ہوتی حیات کو دیکھ کرسینے پہ ہاتھ پھیر کر بولا.سلمان نے ایک لڑکی سے حیات کا پتہ لگایا تھا.احمر جمالی کل سے اسے دیکھ رہا تھا پر آج دونوں کا ٹکراؤ ہو گیا تھا.اسے قریب سے دیکھنے پر اسکے اندر کا شیطان باہر آنے کے لئے بے تاب ہونے لگا.
حیات چلتی ہوئی غصے سے بڑبڑا رہی تھی. "اسٹوپڈ ، بدتمیز میرا نام کیسے پتہ چلا اس کمینے انسان کو” اسکے منہ سے اپنا نام اسے ذرا اچھا نہ لگا.شازمہ کی باتوں کے بعد تو اسے احمرجمالی سے گھن ہونے لگی تھی.
"ٹھیک کہتے ہیں افگن بھائی میں اندھی ہوں. میں دیکھ کر چلتی تو اس بدتمیز سے نہ ٹکراتی”اسے خود پر غصہ آنے لگا اور شیرافگن کی بات اب اسکی سمجھ میں آئی تھی.جلدی سے وہ کار میں بیٹھی تو بابا نے کار آگے بڑھا دی اور وہ اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی.
جاری ہے…


