کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک) قسط نمبر 8 اس…

قسط نمبر 8
اسکا خیال تھا کہ وہ وہاج سے ملے بغیر ہی گھر چلی جائے گی۔تاکہ کوئ اسے روک نہ سکے۔لیکن وہاج اسی وقت اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔اس کے عقب میں عون اور ثنا بھابھی بھی چلی آئیں۔ "آپ اتنی جلسہ جا رہی ہیں،” وہاج نے حیرانی سے سوال کیا۔ "ارے واہ دیکھا بھائ بھی آپکو جانے سے روک رہے ہیں۔بھائ آپکو پتہ ہے ابھی انوشے اندر کہہ رہی تھیں کہ آپ انہیں نہیں روکیں گے۔کیونکہ آپ انکی مجبوری کو سمجھتے ہیں۔”عون نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔ بھابھی کا ٹہوکا بھی اسے بات مکمل کرنے سے نہیں روک سکا۔ وہاج بغور انوشے کو دیکھ رہا تھا۔جسکا زمین میں گڑھ جانے کو دل کررہا تھا۔ اس نے جھکی نگاہ اٹھا کر دیکھا۔ اسکی گہری سیاہ آنکھوں میں اضطراب تھا جیسے وہ جلد از جلد یہاں ے دوڑنا چاہتی ہو۔ ” میں نے انہیں روکا تو نہیں”اس نے بے ساختہ کہا۔ "اوہ” عون کی اون معنی خیز تھی۔اس نے اسے گھور کر مزید کچھ کہنے زے باز رکھا۔لیکن آج وہ اسکی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ انوشے کو لگا کہ وہ بری طرح پھنس گئ ہے۔” وہ میں ۔۔۔۔۔”اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔” عون آپکو گھر ڈراپ کر آئے گا۔” اس نےاسکی مشکل آسان کی۔ ” نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے۔اسدمجھے لے جایے گا۔” اس نے فی الفور انکار کیا۔” اسد کون ہے انکا بوائے فرینڈ یا منگیتر؟” عون کی زبان پر کھجلی ہوئ۔ انوشے کا چہرہ فق ہوا۔جس پارٹی میں وہ موجود تھی۔وہاں ایسی بات کرنا کوئ معیوب نہیں تھا۔”عون” وہ غرایا۔” اسد انوشے کا بھائ ہے” "اوہ سوری” عون کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔انوشے نے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔وہ ایک سائیڈ سے نکل کر موبائل پر نمبر ملانے لگی۔ وہاج نے تاسف سے عون کو دیکھاپھر اسکے پیچھے آیا۔ "انوشے آئ ایم سوری یہ ایسے ہی کچھ سوچ سمجھے بول دیتا ہے۔آپ آئیں میں آپکو چھوڑ آتا ہوں۔” وہ معزرت خواہانہ انداز میں بول رہا تھا۔ ثنا بھابھی تو نیلوفر کر بلانے پر چلی گئ تھیں۔ "نہیں سر اسکی واقعی ضرورت نہیں ہے میں نے گھر کال کردی یے۔وہ لینے آرہا ہے۔”وہ اب کیا بتاتی کہ منگیتر کے نام پر اسے کیا یاد آگیا تھا۔ اس نے سپاٹ لہجے میں منع کردیا تھا۔ "آئ ایم رئیلی ویری سوری مجھے سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے تھا۔میں بس ایسے ہی مذاق کررہا تھا۔” عون سر جھکائے سامنے آیا۔ وہ واقعی نادم۔تھا۔”تم۔جاو یہاں سے”اس نے درشتی سے کہا۔ عون مزید شرمندہ ہوا۔وہاج اسے بہت کم ڈانٹتا تھا۔اور یوں کسی کے سامنے تو شاید زندگی میں پہلی بار ڈانٹ رہا تھا۔ ” نہیں سر انکی غلطی نہیں ہے۔وہ مذاق ہی تو کرریے تھے۔ اور میں نے بھی واقعی برا نہیں منایا۔ اٹس او کے۔”انوشے نے اسکا دفاع کیا۔ لیکن وہاج اسے شعلہ بار نظروں سے گھورتا رہا۔جسکی تپش رون نے بھی محسوس کی تھی۔ "چلیں پھر میں آپکو ڈراپ کرآتا ہوں۔” وہاج نے آفر دہرائ۔
اس بار اسے انکار کرنا مناسب نہیں لگا۔ ان دونوں کے مابین کشیدگی کا اندازہ تو اسے بخوبی ہو گیا تھا ۔” اوکے ویسے میں نے آپکی کمپنی بہت انجوایے کی۔تھینک یو۔”اسنے بات مانتے ہوئے عون سے کہا جو ابھی تک شرمندہ تھا۔اسنے ہلکی سی ملراہٹ کیساتھ سر خم کیا اور وہاج کے پیچھے چل پڑی۔
وہ بیک ڈور کھول کر بیٹھ گئ۔وہاج خود ڈرائیو کررہا تھا۔ "سر آپ اپنے ڈرائیور کو ہی بھیج دیتے۔آپ نے آنے کی تکلیف کیوں کی۔ میری وجہ ے آپکا فنکشن خراب ہو گیا۔” گاڑی میں خاموشی کو انوشے کی مایوس کن آواز نے توڑا۔ "نہیں ایسا کچھ نہیزن ہے۔ڈرائیور میرے لیے اتنا قابل اعتبار نہیں ہے۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا وہ حیران ہوئ ۔وہ حیران ہوئ کہ اسکے لیے اتنا تکلف کرنے می کیا ضرورت تھی کہ ڈرائیور پر بے اعتباری پر وہنخود اسے چھوڑنے چلا آیا۔جبکہ انوشے کو یقین تھا کہ بھابھی اور دوسری خواتین اسی ڈرائیور کے ساتھ آتی جاتی ہوں گی۔جو صرف انوشے کیلیے بے اعتبار تھا۔ کیونکہ وہ ڈرائیور کے ساتھ ان سیکیورٹ فیل کرتی۔باقی کا راستہ خاموشی ے کٹا۔
وہاج واپسی لر سنجیدگی سے پارٹی پر ہونے والی سرگرمیاں دیکھتارہا۔ عون اس سے کترارہا تھا۔اسے معلوم نہیان تھا کہ وہ بے دھیانی میں کیا جانے والا مذاق اتنا سنگین بن جائے گا۔ اگلے دو دن ان دونوں میں کوئ بات چیت نہیں ہوی۔عون نے اس سے ایکسکیوزکرنے کی کوشش کی۔لیکن کامیاب نہیں ہوا۔یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہاج عون سے اتنا ناراض ہوا تھا۔ ورنہ پہلے ایک گھنٹے کے اندراندر وہ پہلے کی طرح ہو جاتے تھے۔اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔اس کی ناراضی برداشت کرنا اسکے لیے مشکل ترین مرحلہ تھا۔بلآخر اسے حل نظر آہی گیا۔
وہ اپنینسیٹ کی پشت سی ٹیک لگائے آنکھیں موندے ریلیکس ہونے کی کوشش کررہی تھی۔ جب دروازہ کھٹکھٹکا کر عون کیبن میں۔داخل ہوا۔وہ اسے دیکھ کر جتنا حیران ہوتی کم تھا۔سلام دعا کے بعد خاموشی کا ایک طویل وقفہ دونوں کے درمیان حائل رہا۔عون سر جھکایے بیٹھا رہا۔اور وہ اسے بغور دیکھتی رہی۔ "کوئ پریشانی ہے؟” اس نے بلآخر اس سے پوچھا۔
"بھائ مجھ سے کوئ بات نہیں کررہے۔” عون نے اسی انداز میں جواب دیا۔ "کیوں؟” وہ حیران ہوئ۔” وہ پارٹی والے دن۔۔۔۔۔۔۔ جو میں نے آپ سے کہا ےتھا اس وجہ سے وہ ناراض ہیں۔” اس نے محتاط انداز میں بتایا۔ ” اس وجہ سے کیوں ناراض ہیں۔میں نے تو اسی وقت اسے مزاق کہہ کر بات ٹال دی تھی۔” وہ تشویش سے پوچھ رہی تھی۔ "لیکن بات نہیں ٹلی نا۔بھائ اب تک مجھ سے ناراض ہیں۔وہ کبھی دو دن تو کیا دو گھنٹے بھی مجھ سے ناراض نہیں ہوئے۔” وہ بے چینی سے بتا رہا تھا۔وہ انکی محبت پر بے ساختہ مسکرا دی۔ "تم چاہتے ہو میں ان سے سفارش کروں؟” اس نے جیسے میٹنگ کی وجہ اخذ کی۔ "ہوں۔۔۔۔۔ لیکن کچھ اسطرح کہ انہیں معلوم نہ ہو کہ میں نے آپ سے کہا ہے۔” اس نے اثبات میسن سر ہلا دیا۔” اوکے”وہ مسکرا دی۔
وہ اسکے کیبن میں بیٹھی اپنے شو کے متعلق ڈسکس کررہی تھی۔ ان کے سوالات جوابات ختم ہوتے ہی اس نے سو کافی منگوائ تھیں۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر دیکھ رہا تھا۔وہ کرسی پر بیٹھے انگلیاں چٹخا رہی تھی۔وہ پہلی دفعہ اس سے کوئ بات کرتے ہوئے جھجک محسوس کررہی تھی۔ پھر بلآخر ایک لمبی سانس کھینچ کر اس نے بات کا آغاز کیا۔ "رشتے انا سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔اور رشتہ داروں کے احساس ہر قیمتی چیز ہے۔ ” وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔اسکی طرف اسکی پشت تھی۔وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جیسے اسکو بولنے کا موقع دیا ہو۔ "میں جانتی ہوں اس وقت آپکو یہ باتیں احمقانہ لگ رہی ہوں گی۔” اس نے ےوقف کیا۔ "نہیں خیر اس وقت نہیں ہر وقت آپکی باتیں احمقانہ لگتی ہیں۔” وہ محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔اور وہ اسے ہکا بکا دیکھتی رہ گئ۔ اسی دیر میں ملازم چائے رکھ کر چلا گیا۔اور انوشے کچھ دیر بعد مسکرا دی۔ اس نے کافی کے کپ سے اڑتی بھاپ پہ نظریں گاڑھ دیں۔اور وہاج نے اس پر وہ اپنی اپنے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کپ کے کناروں پر پھیر رہی تھی۔ رشتوں میں ناراضگی بڑھ جائے تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔بدگمانیاں جگہ بنا لیتی ہیں۔یقین اور اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔” اس نے ہاتھ روک کر ایک نظر اسے دیکھا۔ پھر رشتے میں کچھ باقی نہیں رہتا سوائے خون کے۔” اسکی آنکھوں میں تکلیف تھی۔وہ شاید مرحا کے متعلق سوچ رہی تھی۔ "یہ رشتوں پر لیکچر دلچسپ ضرور ہےلیکن مجھے دینے کا مقصد کیا ہے؟'” اس نے لاپرواہی سے پوچھا۔ "آپ عون سے میری وجہ سے ناراض ہیں؟”اس نے اچانک پوچھا تھا۔” اوہ تو عون صاحب یہ درخواست لے کر حاضر ہوئے تھے۔” اسکی توقع کے برعکس وہ نارمل۔انداز میں کہہ رہا تھا۔ آپ اس سے میری وجہ سے ناراض ہیں۔”اس نے سوال پر زور دیتے ہوئے دہرایا۔ "نہیں اسکی وجہ سے۔اسکے سوچے سمجھے بغیر سوال کرنے کی وجہ سے۔” وہ پر سکون انداز میں جواب دے رہا تھا۔ ” دودن زیادہ نہیں ہوتے؟”
اسکے سکون نے اسکی بے چینی کو بڑھا دیا۔ ” دودن ہیں۔دوسال نہیں جو زیادہ ہوتے۔”اس نے اطمنیان سے کہتے ہوئے کاف کا کپ لبوں سے لگایا۔وہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی۔ عون جس قدر بے چین تھا۔یہاں۔اسے اسکی بےچینی کا شائبہ تک نہ تھا۔ "پھر بھی مجھے افسوس ہوا ہے کہ میری وجہ زے آپ دونوں کے درمیان ناراضگی پیدا ہوئ۔آپکو تو شاید دوسالوں سے کوئ فرق نہ پڑتا ہو۔لیکن عون دو دنوں میں ادھ مواد ضرور ہو گیا ہے۔” اس نے تاسف سے کہا۔ ” آپ کو پریشان یا شرمندہ ہونے کی کوئ ضرورت نہیں ہے۔ہم خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔”اس نے تاسف سے کہا۔ ” عون کے مطابق آپ دونوں کے درمیان کبھی دو گھنٹوں تک۔بھی نارا ضگی نہیں رہی تھی۔اور یہ دودن ہیں۔اور یہ بھی بتا رہا تھا کہ سب گھر والے بھی پریشان تھے کیونکہ آپکا یہ رویہ سب کیلیئے نیا تھا۔”اس نے ایک ایک بات پر زور دے کر کہا۔ وہ جانتی تھی کہ عون سے ہوئ بات چھپانے کا کوئ فائدہ نہں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسکے آفس آیا تھا۔اسے سب معلوم تھا۔ "اسے اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے۔” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا اس نے اسکی بات کاٹ دی تھی۔ ” وہ مزاق کررہا تھا۔میں اسے ایک بار مل کر یہ بات جان سکتی ہوں۔تو آپ سالوں ساتھ رہنے کے باوجود کیوں نہیں۔اور اگر وہ سنجیدہ تھا بھی تو میان نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔پھر آپ کیوں اسطرح کررہے ہیں؟” وہ بے بسی سے بولی۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر بولا۔ "ٹھیک ہے میں عون کیساتھ پہلے جیسا ہو جاوں گا۔” اس نے جیسے ہار مانتے ہوئے کہا۔ "نہیں اسطرح سے نہیں۔ میں ہرگز یہ پسند نہیں کروں گی کہ آپ میری وجہ سے یا میرے لینے پر اس سے تعلقات بحال کریں۔یہ کام آپکو دلی رضامندی کےساتھ کرہنا چاہیے۔”اس نے صاف گوئ سے کہا۔وہ حیران ہوا۔ آپ تک آپ مجھے اس سے بات کرنے پر منارہی تھیں۔اور اب کہہ رہی ہیں کہ میں آپکے کہنے کا پاس رکھتے ہوئے نہیں بلکہ اپنے رشتے کی نوعیت سمجھتے ہوئے اس سے بات کروں۔” اس نے اچھنبے سے پوچھا۔ ” جی بالکل ” وہ دوٹوک انداز میان بولی۔ میں نیں چاہتی کہ آپ دونوں کے درمیان تیسرے کی حیثیت اختیا کروں۔ "وہاج کی آنکھوں میں متاثر کن الفاظ کے چمکے ۔یکلخت دروازے پر دستک ہوئ۔اس نے اندر کی اجازت دی۔”سر جی وہ مزیشہ بی بی آی ہیں۔” اسکے ملازم نے اسے بتایا۔اسے لگا کہ کسی نے اسکے پیروں تلے سے زمیں نکال دی ہو.
"آپی آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں۔” یہ ھبہ کی آواز تھی۔جس اے انوشے بری طرح چونکی۔ وہ ماضی کی درودیوار سے ٹکراتی حال میں آ پہنچی۔آج ایک سیمینار تھا۔جس میں چینل کے تمام اینکرز اور ہوسٹ موجود تھے۔اسکی موجودگی ضروری نہ ہوتی تو وہ یقینا وہاں نہ جاتی۔لیکن اسے جانا تھا۔اسی سیمینار کی تیاری کرتے کرتے اسےتین سال پہلے کی پارٹی اور واقعات یادآگئے تھے۔ ” نہیں میں بس ہونے لگی ہوں۔” اس نے سر جھٹکتے ہوئے ھبہ سے کہا۔وہ سر ہلاتی ہوئ باہر چلی گئ۔انوشے نے اپنے سامنے موجود سفید رنگ کے لباس کو دیکھا جس پہ سرخ رنگ کی کڑھائ تھی۔اس نے ایک گہری سانس لے کر وہ کپڑے اٹھائے اور ڈریسنگ روم کی طرف چلی گئ۔وہ چادر لے کر باہر نکلی اتنی دیر میں اسد گاڑی تیار کر چکا تھا۔وہ اسکے ساتھ بیٹھ کر سیمینار کی طرف چل دی۔یہ جانتے ہوئے کہ اسکا سامنا آج وہاج صدیقی سے ضرور آہوگا۔
وہاج بلیو کلر کے تھری پیس میں ملبوس صدیقی صاحب کے پاس آیا۔جو سیمینار میں شرکت سے تیار نہیں تھے۔وہ انہیں دیکھ کر حیران ہوا۔ ” پاپا آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے” اس نے تشویش سے پوچھا۔ "نہیں یار آج کچھ طبیعت ٹھیک نہیں یے۔اسلیے میں آج سیمینار میں نہیں جاوں گا۔تم تو شرکت کر ہی رہے ہو۔ میری ویسے ضرورت نہیں۔” اس نے وضاحت کی۔ "ہسپتال چلیں” "نہیں اب اتنا بھی بیمار نہیں پڑا۔وہ ناراضی سے بولے تو وہ مسکرادیا۔ اوکے” وہ سیمینار میں شرکت کیلیے روانہ ہونے لگا جب نیلوفر اسکے پاس آئیں۔” وہاج بیٹا کسی کی بات پر دھیان مت دینا۔جس کام کیلیئے جارہے ہو وہ کرنا۔وہ جانتا تھاکہ وہ اسے کس کام کیلیے نصیحت کررہی تھیں۔
ان دونوں کی گاڑیاں ایک ہی وقت میں پارکنگ ایریا میں داخل ہوئیں۔اور ایک ساتھ ہی رکیں۔دونوں نے ایک دوسرے کی گاڑی کی طرف نہیں تھا۔وہ دونوں بیک وقت گاڑی سے نکلے اور دونوں ہی ٹھٹک کررکے۔انہیں ایک دوسرے کی آمد اور آمنے سامنے کی توقع ضرور تھی۔لیکن اتنی جلسی سامنا ہوگا۔یہ امید نہیں تھی۔گاڑی سے نکل کر اس پر مزید ایک نظر غلط ڈالے بغیر آگے بڑھ گئ۔ وہ بھی سر جھٹکتے آگے بڑھ گیا۔ سیمینار کی شروعات یو چکی تھی۔ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا جب انوشے کو گھر سے کال آئ۔جو اس نے سنا تھا وہ اسکے حواس مختل کرنے کیلیئے کافی تھا۔وہ وہاں سےاٹھی۔یہ بات وہاں موجود ہر شخص نے نوٹس کی تھی۔ انوشتے میڈیا میں موجود کم عمر،محنتی اور ذہین جرنلیسٹ میں سے ایک تھی۔ جو تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کررہی تھی۔ عام طور پر ایسے جرنلیسٹ سیمینار میں ہر شخص کی نظر میں ہوتے ہیں۔ چینل کے سی او اسکی طرف بڑھے۔اور جو بات اس نے بتائ وہ تشویش میں مبتلا کرنے کیلیئے کافی تھی۔
۔ "لیکن آپ اسطرح سیمینار کے درمیان نہیں جاسکتیں۔” اس نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ ” میری ماں ہسپتال میں ہیں اور آپ مجھے بتارہے ہیں کہ میں جاسکتی ہوں یا نہیں۔اور آپ سے اجازت کس نے مانگی ہے جو آپ مجھے روک رہے ہیں۔”اسکی بات انوشے کو سیخ پا کرنے کیلیئے کافی تھی۔ "اگر آپ آج یہاں سے گئیں تو دوبارہ میڈیا میں دوبارہ آنے کا صرف خواب ہی دیکھیے گا۔” اسنے اسے دھمکی دی۔اور صرف یہی نہیں اس چینل کے دروازے اس پر بند ہیں۔بلکہ اسے صاف باور کروایا کہ وہ اسکا کیرئر بری طرح مسخ کردے گا۔ انوشے چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ "کیوں نہیں جن کیلیے کما رہی ہوں انکے کام نہ آسکوں تو پھر کیا فائدہ۔آپ میری فکر نہ کریں میرا استعفی کل آپ کی میز پر ہو گا۔” وہ جانتی تھی کہ اسے صرف دھمکی نہیں دی گئ۔اگر ایسا کہا گیا ہے تو اس پر عمل بھی ضرور ہوگا۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہاں موجود جرنلیسٹ اسکی تلخ کلامی بخوبی سن رہے ہیں۔ اور کل۔اپنے چینلز پر چلا چلا کے بتائیں گے کہ وہ انوشے داود جسے میڈیا نے بلندی کے عروج پر پہنچایا وہ میڈیا کے درمیان اسی میڈیا پر تھوک کر چلی گئ ہے۔ اسکے جانے کے بعد وہاج بھی وہاں نہیں رکا تھا۔وہ اسکے پیچھے اپنی گاڑی دوڑا رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ پوچھنے پر بھی اسے کبھی ہسپتال کا نام نہیں بتائے گی۔ اسکے قریب ہی ہسپتال میں ھبہ اور اسد فرح کو لے آئے تھے۔ اسے استقبالیہ پر انکے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ھبہ سامنے ہی ٹہل رہی تھی۔اور اسے دیکھتے ہی اسکے گلے لگ کر ہگوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔انوشے کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ روئے یا کچھ اور کرے۔ اس وقت وہ شدید ذہنی دباو کے زیر اثر تھی۔اسکی آنکھوں سے آنسو نہیں نکلے۔اسنے محسوس کیا کہ اسے کوئ تکلیف ،دکھ محسوس نہیں ہوا تھا۔بس ایک خالی پن تھا اندر اور باہر۔ ھبہ سے الگ ہو کر آنسووں میں اسے بہت کچھ بتارہی تھیں۔لیکن وہ بے راثر چہرے کے ساتھ سب سن رہی تھی۔یا شاید دیکھ رہی تھی۔اسکے کان سائیں سائیں۔کررہے تھے۔یہ صرف وہی جانتی تھی کہ کس قرب سے وہ گاڑی کو ہسپتال تک گھسیٹ کر لائ تھی۔اس نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے سے روک دیا تھا۔ ھبہ اسے چھوڑ کر ہیچھے کی طرف بڑھی۔جہاں داخلی دروازہ تھا۔
انوشے نے میکانکی اندازمیں پلٹ کر دیکھا جہاں سامنے وہاج کھڑا تھا۔ ھبہ اب اسے بھی شاید وہی بتارہی تھی جو اسے بتایا تھا۔انوشے انہیں چھوڑ کر icuکی طرف بڑھی۔جہاں اسکی ماں تھی۔اسد بھی وہیں کھڑا تھا۔وہ بھی اسے دیکھ کر اس سے لپٹ گیا۔شاید وہ دونوان اسی کا انتظار کررہے تھے۔دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلیے۔اس سے تسلیاں سننے کیلیے ۔لیکن اس نے دونوں کو تسلیاں نہیں دی تھیں۔اتنے میں ڈاکٹر icu سے باہر نکل آئے۔” ہم۔اپنی پوری کوشش کررہے ہیں۔لیکن ہم زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ وہ اساید پریشان تھیں۔اور یہی ہریشانی نروس بریک ڈاون کی صورت میں سامنے آئ۔آپ سب کوگ اگر انہیں وقت پر یسپتال نہ لاتے تو۔۔۔۔۔۔” ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بہت کچھ بتا رہا تھا۔لیکن وہ چند لفظوں میں بری طرح پھنسی۔ پریشانی۔۔۔۔۔نروس بریک ڈاون۔ پریشانی کیسی۔۔۔؟ کیوں؟ اس نے تو ہر ممکن کوشش کی تھی کہ انہیں پریشانی سے بایر رکھنے کی پھر۔۔۔۔؟ اسی دوران وہاج اور ھبہ بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ :؟”آپ چلیں میرے ساتھ کچھ پیپرز سائن کرنے ہیں اور کچھ پےمنٹ کرنی ہے۔” ڈاکٹر اب انوشے سے مخاطب تھا۔ وہ خالی الزہنی کے عالم میں سر ہلاتی اسکے پیچھے چلی آئ۔اس نے کانپتے ہاتھوم کے ساتھ پیپرز سائن کیے۔ "آپ کاونٹر پر پےمنٹ کردیں۔” ڈاکٹر نے اسے کہا اور اب پہلی بار اسکے خالی ازہنی میں کچھ جگمگایا تھا۔ "پے منٹ۔۔۔۔۔لیکن کہاں سے کیسے؟ آج سنڈے تھا اور بنک بند تھے۔ علاج اور دوائیوں کا بل تقریبا پانچ لاکھ روپے تھا۔ وہ اے ٹی ایم سے محض ایک لاکھ تک کی رقم نکلواسکتی تھی۔اسکی جصب سے اسنے پانچ لاکھ تک کی ہی سیونگ کی ہو گی۔یہ بھی وہ جانتی تھی۔اور اب علاج کے اجراجات دیکھ کر وہ سناٹے میں آگئ تھی۔اسکے دماغ نے اب صحیح معنوں میں کام کرنا شروع کیا تھا۔ اس نے مرحا کو کال ملائ ۔ ایک۔۔۔۔۔دو۔۔۔ بیل جارہی تھی لیکن وہ اٹینڈ نہں کررہی تھی۔اسکی پریشانی حد سے سوا ہوئ۔ اگلے آدھے گھنٹے میں پیسے جمع نہ کروانے کا مطلب وہ اچھی طرح سے جانتی تھی۔
وہ دونوں کیبن میں بیٹھے تھے ایک مریض کی فائل ڈسکس کررہے تھے۔جسکا کل آپریشن تھا۔ اسی دوران اسکا موبائل بج رہا تھا۔اگر سائلنٹ پر نہ ہوتا تو یقینا کیبن میں ایک شور برپا ہوتا۔ جو اسکی توجہ اپنی طرف کھینچتا۔ یہ موبائل کی زوں زاں نہیں ہوتی جس نے عون کوخاموش ہونے پر مجبور کیا۔بلکہ مرحا کی آنکھوں کا اضطراب تھا۔ اور اسکی نظریں تھیں جو بار بار موبائل کی سکرین پہ بھٹک رہی تھیں۔
” مس مرحا! آپ یا تو میری بات غور سے سن لیں یا فون کال سن لیں۔” وہ بلآخر تنگ آکر بولا۔
اسنے فورا سے پیشتر فون اٹھا لیا۔ عون اگر یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ وہ اسکی بات غور سے سننے کو فوقیت دے گی تووہ غلط تھا۔ وہ گہری سانس لے کر بیٹھا رہا۔
: اس نے مرحا کی پیشانی ہہ بل پڑتے دیکھے۔پھر یکدم۔اسے پریشان ہوتے دیکھا۔ چند لمحے جیسےبوہ بے چینی کی گرفت میں رہی۔ پھر اسنے فون پر کہا۔”ڈونٹ وری! میں ابھی آرہی ہوں۔” اس نے پریشانی سے فون بیگ میں رکھا اور پھر اسکی طرف دیکھا۔جو پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھی۔” سر مجھے ابھی جانا ہے۔” اسنے اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے کہا۔ ” از ایوری تھنگ اوکے ڈاکٹر مرحا؟” اس نے تشویش کے عالم میں دیکھا۔”نو ست میری چچی ہسپتال میں ہیں۔اور میرے گھر والوں کو میری ضرورت ہے۔”وہ کرسئ اے کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔ ‘ اوکے کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو آپ بلا جھجک مجھے کہہ سکتی ہیں۔” اسنے نرمی سے کہا۔اور پھر ہسپتال۔کا نام لےنکر اسے بھیج دیا۔
جاری ہے…..


