کیسے کہوں کہ غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک) قسط نمبر 2 …

قسط نمبر 2
انوشے عصر کی نماز پڑھنے کے بعد کھڑکی کے سامنے آ رکی۔ ایک سرد ہوا کا جھونکا اس کے رخساروں کو چھوکر گیا۔ اس کی آنکھوں کے نمکین پانی نے بہنا شروع کر دیا تھا۔ ہوا اس کے بالوں کی لٹکتی لٹوں کے ساتھ اٹھکلیاں کرنے لگی۔ جیسے تین سال پہلے اس کی قسمت نے اس کے ساتھ کی تھیں۔ اس کی سوچ بھٹکنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3سال قبل
انوشے کی خوشی کی آج کوئی انتہا نہ تھی۔ اس نے بی۔ایس۔سی میں ٹاپ پوزیشن لی تھی۔ وہ چہک کر پورا گھر دندناتی پھر رہی تھی۔ امی نے آج اس کی پسند کی ڈشز بنائی تھیں۔ وہ چہک کر پورا گھر دندناتی پھر رہی تھی۔ امی نے آج اس کی پسند کی ڈشز بنائی تھیں۔ ابو اس کو آج بطور خاص شاپنگ پر او ر پر ڈنر کروانے لے کر جانے والے تھے۔ اس کے تمام لاڈ آج اٹھائے جا رہے تھے اور وہ خوب اٹھوا بھی رہی تھی لاڈ۔۔۔۔۔۔ اسے کیا معلوم تھا یہ خوشی کے چند لمحات دے کر اس کی تقدیر اسے دائمی دکھ دینے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ باورچی خانے سے ڈشز اٹھا کر کھانے کی میز پر رکھ رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کا دل عجیب ہی انداز میں دھڑکا تھا۔ کسی انہونی کے احساس کے تحت۔ ۔۔۔۔۔۔جانے دروازہ بجانے والے نے کس انداز میں دروازہ بجایا تھا کہ سب کے دل کسی نے مٹھیوں میں جکڑ لیے تھے۔۔۔۔۔اس اور ھبہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئے۔ امی باورچی خانے کے دروازے پر کھڑی ہو گئیں۔ سب اسی کو دیکھ رہے تھے ۔ اس کا دل چاہا وہ یہ دروازہ کبھی نہ کھولے۔ اس کی ٹانگوں نے ساتھ نہ دیا۔ وہ بمشکل تمام چل کر دروازے تک آئی۔ دوپٹہ سے اس نے اپنا چہرہ ڈھانپا ۔ سر پر تو پہلے ہی دوپٹہ تھا۔دروازہ کھولتے ہی اسے سامنے معین صاحب دکھائی دیے۔ اس کے بابا کے بہترین دوست۔ وہ راستہ دینے کیلئے آگے سے ہٹی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ بغیر کسی سبب کی غیر موجودگی میں ان کے گھر نہیں آتے تھے۔ وہ اندر داخل ہوئے تو پیچھے سے چار لوگ ایک تابوت لے کر اندر آ ئے۔ یہ سارا منظر دیکھ کر فرح بیگم کچن کے دروازے پر ہی بیٹھ گئیں۔ اسد اور ھبہ بے چینی سے آگے بڑھے۔ کسی ہمت نہ ہوئی پوچھنے کی کہ اس میں کون ہے؟معین صاحب بمشکل تمام بولے۔۔۔۔۔۔”داوود صاحب کو گھر اتے ہوئے کسی نے گولیاں مار دیں۔ انہیں بروقت ہسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن۔۔۔۔۔ میری دکان کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا تو میں ہی ہسپتال لے کر گیا۔ آپ لوگوں کو اطلاع دینے کا وقت نہیں ملا”۔ وہ صور پھونک رہے تھے اور انوشے کے کانوں میں سائیں سائیں کے علاوہ کوئی آواز نہ آئی۔ ھبہ زور زور سے چلانے لگی۔ ”ابو۔۔۔۔۔ابو” اس نے اسے زور سے خود میں بھینچا۔ یکلخت ہی انوشے کی نظر ماں پر گئی، جو کچن کے دروازے پر بے سدھ پڑھی تھیں۔ اس کے بہتے آنسو ایک دل خراش چیخ کے ساتھ تھمے۔۔۔”امی”۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرح بیگم صدمے سے بے وش ہو گئیں تھیں۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ ان کی زندگی کا سن کر اسد، ھبہ اور انوشے نے شکر ادا کیا۔۔۔۔ ابھی کچھ دن انہیں ہسپتال میں رہنا تھا۔ اس نے معین صاحب کے ساتھ مل کر باپ کی تدفین کی۔ ان تینوں کو گہری چپ لگ گئی تھی۔ باپ کا سایہ اس دنیا میں کیا ہوتا ہے ؟وہ تینوں جانتے تھے۔ ماں کی جو حالت تھی اس نے دل کو بھر دیا ۔ زندگی کہاں لے آئی تھی انہیں؟ ابھی چند دن بلکہ چند گھنٹے پہلے تو سب ٹھیک تھاپھر یہ سب؟داوود صاحب کا قتل میڈیا میں خوب اٹھا تھا۔۔۔کیوں نہ اٹھتا قاتل جو امیر شہر نکلے تھے۔ کوئی محلہ کے MNAکا بیٹا تھاجس نے جائیداد ضبط کرنے کی کوشش کی۔ کامیاب نہ ہو سکا تو قتل کر ڈالا۔ ”اسد، ھبہ خود کو سنبھالو۔۔۔ ورنہ امی کو ہم کیسے سنبھالیں گے؟ دیکھو وہ ٹوٹ گئی ہیں۔ ہمیں خود سے بڑھ کر ان کا سوچنا ہے۔ اب وہ ہی ہمارا سہارا ہیں”۔ وہ ضبط سے بولتے ہوئے بھی اپنی نمی نہ چھپا پائی۔ وہ ان دونوں کے سامنے مضبوط بننے کی اداکاری کرتی رہی۔ لیکن انہیں خاموش پا کر کمرے کی طرف دوڑی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ”اللہ تعالیٰ! اتنا بڑا امتحان ، کیا میں اس آزمائش کے قابل لگی؟ آپ کو اللہ میں تو آپ سے دعا کرتی تھی کہ میرے والدین کی لاشیں میرے سامنے نہ رکھنا پہلے مجھے موت آجائے یا ہم سب ایک ساتھ۔ میں کیسے برداشت کروں اللہ کیسے۔ مجھے صبر دے میرے رب! مجھے صبر دے”۔ وہ روتی جاتی اور صبر مانگتی جاتی۔ ایک ہفتے تک اس نے اپنے گھر والوں کی حالت دیکھتے ہوئےحددرجہ خود کو نارمل کر لیا اور گھر والوں کو بھی زندگی کی طرف لانے کی کوشش کرنے لگی۔معین صاحب کے کہنے پر آج وہ سکائپ سے ایک پروگرام کی مہمان تھی۔ جس کا ہوسٹ ”وہاج صدیقی” تھا۔ ” مجھے آپ کے والد کی ڈیتھ کا بہت افسوس ہے۔ اللہ آپ کے گھر والوں کو صبر دے”۔ وہاج نے تعزیت کرتے ہوئے پروگرام شروع کیا۔ لیکن انوشے اسے بیچ میں ٹوک گئی۔ ”ڈیتھ نہیں قتل”۔ وہ چونکا۔ انوشے کا چہرہ سپا ٹ تھا۔ وہ گہری سانس لیتا آگے بڑھا۔ ”آپ کے والد کے قاتل کو تو آپ جانتی ہی ہونگی؟” وہاج نے اس سے سوال کیا۔”جی” مختصر جواب دیا گیا۔”کیا آپ اس کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گی؟” انوشے نے ابھی تک کورٹ میں کیا پولیس میں بھی کمپلین نہیں کی تھی۔ ”جی نہیں” انوشے نے سردمہری سے جواب دیا۔ ”کیوں؟ میرا مطلب ایک شخص نے آپ کے والد کا قتل کر ڈالا اور وہ دندناتا پھر رہا ہے۔ آزاد”۔ اب وہاج پیشہ وارانہ انداز میں اس سے مخاطب تھا۔”میں تو بہت اچھے سے قاتل کوجانتی ہوں۔۔۔۔۔۔مگر شاید آپ نہیں جانتے”۔ وہ حیران ہوا۔۔۔”کیا مطلب؟”اس نے ناسمجھی سے سوال کیا۔ ”مطلب یہ کہ وہ ایک ایم۔ این۔ اے کا بیٹا ہے۔ میںاس کے خلاف 100 قتل کے مقدمے بھی درج کرواوں تو وہ دو منٹ میں باہر ہوگا۔ امیروں تک آج تک عدالت کے ہاتھ نہیں پہنچ سکے۔۔۔۔عدالت کے ہاتھ صرف دیکھنے کیلئے لمبے ہوتے ہیں”۔ اس نے تلخی سے جواب دیا۔ ”اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے والد کا بدلہ نہیں لیں گی؟” ایک اور سوال۔ ”نہیں میں لوں گی ان کا بدلہ۔۔۔۔۔لیکن اس سے بڑی عدالت میں ”۔ ۔۔۔۔۔۔۔”سپریم کورٹ کی عدالت میں؟” وہاج نے اچھنبے سے سوال کیا۔ ”جی سپریم کورٹ میں ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کی سپریم کورٹ میں”۔ ا۔ اس نے بے حد سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ لحظہ بھر کو خاموش ہو گیا۔ ”لیکن آپ عدالت میں کیس لے کر تو جائیں۔۔۔۔۔بغیر عدالت میں گئے آپ یوں اس کی توہین کیسے کر رہی ہیں؟”۔۔۔۔۔وہاج نے نرمی سے سوال کیا۔ ”کیا آپ نہیں جانتے عدالت میں کیاہوا کرتا ہے؟ جو ایک قتل کرسکتا ہے وہ کیا نہیں کر سکتا؟عدالت میں گئی تو وہ میری اور میرے گھر کی عزت سرعام نیلام کرے گا”۔ وہ بے حد صاف گو تھی اور شاید اپنے معاملے میں سفاک بھی۔ وہاج کو تو یہی لگا۔ پھر جلدی سےسوال کیا۔ ”آپ کیس کریں تو سہی۔۔۔۔مجھے امید ہے سب ادارے آپ کے ساتھ تعادن کریں گے”۔ اس نے صلح جو انداز اپنایا۔ ”کیا مجھے کیس کراوانے کی ضرورت ہےمسٹر وہاج؟۔۔۔۔۔ایک مجرم نے سرعام میرے بابا کو مار ڈالا۔ پولیس اندھی ہے اسے نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔پھر میرے دکھانے سے کیا نظر آئے گا؟” ۔۔۔۔۔وہ سارے جہاں سے نالاں تھی۔ اس کی آنکھوں میں تاسف تھا۔ چہرے پر نقاب کے باعث وہ اس کے کپکپاتے ہوئے ہونٹ نہیں دیکھ پایا تھا۔ وہ توقف کے بعد پھر بولی۔ ” آپ سارے اداروں کے تعاون کی بات کر رہے تھے۔ جب باپ کا سایہ سر پر نہ ہو تو ادارے تو کیا گھر والے بھی ساتھ نہیں دیتے۔” اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔ وہاج کا سر جھک گیا۔ تو وہ مزید بولی۔ ”آج آپ نے مجھے اپنے شو میں بلایا ہے نہ کل پرسوں تک آپ اس بات کو بھول کر کسی سیاستدان کو بلائیں گے۔ وہ یہاں بیٹھےجھوٹ گھڑے گا اور میری قوم مسمرائز سی اسے سنتی رہے گی۔ ۔۔۔۔۔ قسم خدا کی اگر مجھے میری متی سے محبت نہ ہوتی۔۔۔تو میں ایک پل یہاں نہ رکتی”۔ اسی لمحے ایک پارٹی کے نام نہاد کارکن سے رابطہ کر کےوہاج اسے بھی پروگرام میں متعارف کروانے لگا۔ ”ہم یقیناً ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ ان کے گناہ گاروں کو سزا دلوائیں گے۔ انہیں انصاف دلوائیں گے”۔ وہ کارکن پورے جذبے کے ساتھ انوشے سے ہمدردی جتا رہے تھیں اور انصاف کی یقین دہانی بھی کروا رہی تھیں۔ ۔۔۔۔لیکن وہ جانتی نہیں تھیں سامنے کون ہے؟۔۔۔۔”ویٹ مس میں نے آپ سے انساف مانگا کب ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔جو آپ مجھے دیں گی؟کیا میں نے آپ سے سزا کی اپیل کی جو آپ اسے سزا دلوائیں گی؟۔۔۔۔۔۔۔۔بری لگے بات یا بھلی۔۔۔۔۔مجھے چنداں پرواہ نہیں ۔۔۔۔۔ایک بات غور سے سن لیں۔۔۔۔میری گناہگار آپ بھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور ہر وہ شخص جو اس ظلم پر خاموش ہے۔۔۔۔۔۔اس لئے میں اپنا مقدمہ بڑی عدالت میں لے کر گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں میری سنوائی ہوگی اور آپ کی پکڑ آخر کو جس نے قتل کیا ہے وہ آپ ہی کی مخلوق سے تعلق رکھتا ہے”۔ وہ اچھی خاصی طبیعت صاف کر گئی تھی۔۔۔۔لیکن ابھی شاید بات مکمل نہ ہوئی تھی۔۔۔۔وہاج کے لب کھلتے ہی اس نے کہنا شروع کیا۔۔۔۔۔”اور ہاں آپ گناہگاروں کو سزا دلوانے کی بات کر رہی تھیں۔۔۔۔مجھے یاد آیا نقیب اللہ محسود کے قاتل کو سزا مل گئی؟اور وہ جو شاہزیب یا قاتل ہیں یا مقصود کے قاتل کو؟۔۔۔۔ نہیں ملی نہ؟ تو میرے بابا کی تو کل کی بات ہے۔۔۔یہ کیسز تو سالوں پرانے ہیں۔۔۔۔یہ جھوٹے وعدے اور تسلیاں بچوں کو جا کر دیں”۔ وہ انہیں اچھی طرح باور کروا گئی تھی کہ وہ بچی نہیں ہے۔۔۔اس نے حال والے کیسز کی فہرست بھی کہہ سنائی۔ خیر یہ بات تو وہ اس کی باتوں سے محسوس کر ہی چکے تھے۔ ”آج تک آپ لوگوں نے کشمیر کے مظلوموں کی مدد نہیں کی۔۔۔۔جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں ۔۔۔۔میری کیا کریں گے؟ خیر میں مظلوم ہوں بھی نہیں۔”۔ پھر جیسے طنزیہ بولی۔ ” دیکھ لیں کہیں آپ کے مہمان کی لائن نہ ڈراپ ہو گئی ہو”۔ اس نے وہاج کو مخاطب کیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑی۔ وہ لڑکی بلا کی بااعتماد تھی۔ اتنے بڑے دکھ نے بھی اس کے اعتماد کو کم نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے دکھ میں زیادہ دکھ والوں کو یاد کرکے جیسے خود کو صبر و شکر کا سبق پڑھا رہی تھی۔ وہاج اس سےمتاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھبہ نے اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجائی تو وہ حال میں لوٹی۔”کیا سوچ رہی ہیں؟” وہ اچھلتے ہوئے بیڈ پر جا بیٹھی۔ ”کچھ نہیں تم کب آئی؟” انوشے نے اس سے پوچھا تو وہ خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورنے لگی۔ ”جب آپ اپنے پیا کے انتظار میں آنکھیں بچھائے بیٹھیں تھیں”۔ اس نے مزے سے کہا تا انوشے نے اسے گھورا۔ ”بکواس بند کرو”۔ ”آہاں! اب ہماری باتیں تو بکواس ہی لگیں گی”۔ وہ مزے سے کہتے ہوئے مونگ پھلی پھانکنے لگی۔ ”ویسے سنا ہے آج آپ وہاج بھائی کے ساتھ پروگرام کر کے آرہی ہیں؟” انوشے اس کے ”وہاج بھائی” کہنے پر حیران ہوئی۔۔۔۔یکدم اسے غصہ آیا۔۔”کون بھائی، کہاں کا بھائی؟ تمہارا صرف ایک بھائی ہے جس کا نام اسد ہے”۔ انوشے نے گھور کر اسے یاد دلایا۔ ”ہونہہ۔۔۔۔۔۔ اس گندے نالے والے کو تو چھوڑیں۔۔۔ویسے وہاج بھائی کتنے ڈیشنگ ہیں نا”۔ ھبہ منہ بناتے ہوئے بولی۔ ”خبردار !ھبہ کچھ شرم کرو ، بھائی کو ایسے کہتے ہیں۔ ایک ہی بھائی ہے ۔۔۔۔۔میں دوبارہ تمہیں اسے ان الفاظ سے یاد کرتے نہ دیکھوں”۔ انوشے نے آنکھیں نکال کر تنبیہہ کی۔۔۔۔۔لیکن یہاں اثر کسے تھا؟۔۔۔۔۔۔ ”اچھا بتائیں وہاج بھائی نے کیسے کپڑے پہنے تھے؟ آج کیسے لگ رہے تھے؟” ھبہ کی زبان اپنے ہاتھوں کی طرح مسلسل چل رہی تھی۔ ”مجھے تو انسان ہی لگ رہے تھے۔ انسان ہی ہیں نا؟” انوشے اس کی انداز کو خاطر میں لائے بغیر پوچھ رہی تھی۔ ھبہ جو دلچسپی سے اس کے جوااب کا انتظار کر رہی تھی ، گھور کر رہ گئی۔ پھر یکدم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی۔”ہاں ! انسان ہیں اور بہت اچھے انسان ہیں، دوسروں کا خیال رکھنے والے، ضروریات سمجھنے والے ایسے انسان دنیا میں کم ہی ہوتے ہیں”۔ ھبہ نے بلا کے اطمینان کے ساتھ انوشے کا اطمینان غارت کیا۔ ”تم آج کل کچھ زیادہ ہی نہیں بولنے لگی؟” انوشے نے اس کی بات کو یکسر نظر انداز کیا۔”الحمد اللہ” ھبہ نے فخریہ انداز میں کہا۔۔۔۔۔تو وہ اسے گھور کر امی کے پاس چلی آئی۔ ھبہ پیچھے اسے مسرت سے اسے دیکھتی رہی اور دلی دعا دی۔”اللہ کرے وہاج بھائی جلدی سے آپ کو اپنے گھر لے جائیں ۔۔۔آمین”۔ وہ منہ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی مونگ پھلیاں کھانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاج کو انوشے سے اپنی پہلی ملاقات یاد آئی۔ وہ اس وقت اپنے کمرے میں کافی کے سپ لے رہا تھا۔ کافی کے کپ سے اٹھتی بھاپ اس کے خیالات کو ماضی میں لے گئی۔
3سال قبل
”میں نے ایک نئی ہوسٹ ہائیر کی ہے شام سات تا آٹھ بجے تک کے شو کیلئے”۔ صدیقی صاحب نے گویا وہاج کے سر پر دھماکہ کیا۔”لیکن! ابو یہ تو میرے شو کا وقت ہے”۔ وہ حیرانی سے گویا ہوا۔ ”جانتا ہوں لیکن اس لڑکی کی بھی کچھ مجبوریاں ہیں وہ لیٹ نائٹ تک گھر سے باہر نہیں رہ سکتی۔ ”وہاج کو حیرانی ہوئی۔ ایسی کون سی صحافی تھی جو دیر تک باہر نہیں رہ سکتی تھی۔ آخر یہ ان کی جاب کی ضرورت تھی اور اس سے پہلے تو صدیقی صاحب نے کسی ایسی لڑکی کو ہائیر نہیں کیا تھا۔ لیکن وہ اپنے تمام خدشات پس پشت ڈال کر اپنے باپ کی جانب متوجہ ہوا۔
”کیا نام ہے اس کا؟” وہاج کو لگا کوئی جاننے والی ہو گی۔ ”انوشے داوود” صدیقی صاحب نے عام سے انداز میں اسے بتایا۔ وہاج کو چند سیکنڈ لگے اس نام کو یاد کرنے میں۔”انوشے ! بابا یہ وہیں تو نہیں جن کا کل میں نے انٹرویو لیا ہے”۔ وہ ازحد حیران تھا۔ ”ہاں وہی ہے”۔ صدیقی صاحب نے تصدیق کی۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بولا”اس کی تو گریجویشن بھی نہیں ہے۔ وہ اتنی قابل تو نہیں ہے”۔ اس نے جیسے اپنی حیرانی کو الفاظ دیئے۔ ”ہاں لیکن وہ کافی پراعتماد ہے تم نے دیکھا نہیں ، صوبیہ صاحبہ کو کیسے خاموش کروادیا تھا۔۔۔اس نے تمہارے پروگرام میں بیٹھ کر”۔ صدیقی ساحب اب بھی مطمئن تھے۔ ”وہ نقاب بھی تو کرتی ہے؟” وہاج کی حیرانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ”ہاں کرتی ہے۔۔۔۔شو کے درمیان بھی کرے گی۔” انہوں نے اسی انداز میں کہا۔”لیکن باباشو کے دوران نقاب۔۔۔۔۔۔امپاسبل”” وہ اپنی حیرانی کو الفاظ نہیں دے پا رہا تھا۔ ”کیوں؟ ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔جب بغیر دوپٹے کے لڑکیاں شو کرتی ہیں تو نقاب میں کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟۔۔۔۔۔اب تو بہت سے چینلز میں لڑکیاں حجاب میں بھی آتی ہیں”۔ وہ شاید انوشے کے وکیل بن رہے تھے اور وہاج نے محسوس کیا وہ اس لڑکی سے متاثر تھے۔ ”ٹھیک ہے بابا! جیسے آپ کو مناسب لگے”۔ اس نے گویا ہتھیار ڈال دیئے۔ ”ہوں۔۔۔۔۔۔تم کل پورے سٹاف سے اسے متعارف کروا دینا اور اس کا کام خود سمجھا دینا۔ مجھے کسی اور پراعتماد نہیں ہے”’ انہوں نے اس کا کام اسے بتایا۔”جی ٹھیک ہے”۔ شام کو بابا نے اسے آفس میں بلایا۔اس نے دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھتے ہی ٹھٹک گیا۔ سامنے انوشے داوود بیٹھی تھی۔ وہ بے اختیار پلٹی تھی۔ اسے دیکھ کر بدک کر کھڑی ہو ئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ نقاب سے ڈھکا چہرہ۔ وہاج نے ایک نظر میں اس کا جائزہ لیا اور شاید یہی ایک نظر اسے گڑبڑانے کے لئے کافی تھے۔ اس نے قدم اندر رکھا، وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔”سر آفس میں نہیں ہیں”۔ اپنی آواز کو حتیٰ المقدورنارمل رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔”اچھا مجھے تو نظر ہی نہیں آرہا کہ سر نہیں ہیں”۔ وہ شرارت سے گویا ہوتا دوقدم آگے بڑھا۔ ”جب نظر آرہا ہے تو پھر آپ کیوں اندر آرہے ہیں؟”اس نے تیوری چڑھائی۔ ”کیونکہ ۔۔۔۔سر نہیں ہیں لیکن آپ تو ہیں نا”۔ وہاج ہنوز شرارت کے موڈ میں تھا۔ ”میں تو آپ کو اچھا خاصاسینس ایبل sensible آدمی سمجھتی تھی۔ لیکن آپ تو۔۔۔۔۔۔۔” وہ تاسف سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ ” لیکن میں تو۔۔۔۔۔” وہ بغور اسے دیکھنے لگی۔ ”آپ تو دو نمبر کے فلرٹی ہیں” وہ دانت کچکچا کر بولی۔ اس کے جواب میں وہاج کا قہقہ بے ساختہ تھا۔ ”میں نے آپ سے کب فلرٹ کیا؟” وہ حیرانی سے بولا تو انوشے واپس کرسی پر بیٹھتے ہوئے اطمینان سے بولی۔ ”پچھلے پانچ منٹ سے”۔ اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے بتایا۔”ویسے آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟” وہ سامنے والے صوفے پر ٹک گیا تو انوشے کھڑی ہوگئی۔ ”خیر یہ میں آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی” تحمل سے کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھی۔ ”کہاں جا رہی ہیں؟” اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ ”جہنم میں” انوشے جل کر بولی۔ ”ارے واہ آپ کو جہنم کا راستہ پتا ہے؟وہ دلچسپی سے پوچھ رہا تھا۔جواب میں انوشے سے اسے گھور کر دیکھا۔ ”اچھا ویسے آپ یہاں بیٹھ سکتی ہیں یقین مانیں میں ایک شریف انسان ہوں”۔ وہ شرارت سے بولا۔ ”یقیناً آپ بہت شریف انسان ہیں اس کا اندازہ مجھے آپ کو دیکھتے ہی ہو گیا تھا”۔ وہاج کو شرارت سوجھی۔”اچھا اور کس کس بات کا اندازہ ہوگیا تھا۔۔۔۔آپ کو مجھے دیکھ کر؟” انوشے نے ایک نظر اسے دیکھا پھر تاسف سے بولی۔۔۔۔۔”یہی کہ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”۔ وہ بیگ اٹھا کر جانے لگی تو وہاج سنجیدہ ہوا۔ وہ دروازے کے قریب پہنچ کر پلٹی پھر اسی سنجیدگی سے کہا۔۔۔”آپ میری طرف سے سر سے معذرت کر لیجیئے گا”۔ ”دیکھیں۔۔۔۔۔” وہاج نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔۔لیکن اس کے دروازہ کھولتے ہی سامنے صدیقی صاحب نظر آئے۔ ”انوشے آپ کہاں جا رہی تھیں؟” صدیقی صاحب اسے دروازے پر کھڑا دیکھ کر حیران ہوئے پھر سوال پوچھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ انوشے کچھ کہتی وہاج بول اٹھا۔۔۔”یہ آپ ہی کو ڈھونڈنے جا رہی تھیں” وہ اس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے پلٹی۔ ”اوہ وہاج۔۔۔۔ ہاں یار میں خاور کے پاس تھااسے کچھ فائلز دینی تھیں”۔ وہ اسے کہتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھے۔ وہاج نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔لیکن انوشے تپ گئی۔ اسے دروازے کے قریب کھڑا دیکھ کر صدیقی صاحب نے بلایا۔۔۔”انوشے بیٹا! یہاں آ جائیں”۔ وہ ”جی” کرتی ان کے مقابل کرسی پر بیٹھ گئی۔دل تو کیا کہ وہاج کی ساری بدتمیزی بتا دے ۔۔۔لیکن ابھی وہ یہ جاب گنوانا نہیں چاہتی تھی۔۔سو صبر کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔”یہ وہاج ہے میرا بیٹا”۔صدیقی صاھب کے تعارف کروانے پر وہ حیران رہ گئی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہاج کو دیکھ وہی تھی۔ جس کے لبوں پر محفوظ کن مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں شرارت تھی۔صدیقی صاحب اب انوشے کا تعارف کروا رہے تھے۔”وہاج یہ انوشے ہیں میں نے کل آپ کو بتایا تھا نا۔۔۔ویسے تعارف کروانے کی ضرورت تو نہیں ہے۔ آپ لوگ پہلے ہی ایک شو کر چکے ہیں”’جی بابا” وہ تمیز سے اٹھا اور دروازہ کھول کر پہلے اسے جانے دیا پھر اپنے قدم باہر نکالےہی تھے کہ بابا پھر بول اٹھے۔ ”وہاج اسے پریشان ہر گز مت کرنا۔ تمہاری ”بہن” ہے۔ ”انہوں نے تنبیہی انداز میں اسے جتایا۔ ”جی بابا ۔۔۔جانتا ہوں بہن ہے میری” وہ خفگی سے بولا تو صدیقی صاحب ہنس دیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


