مختصر کہانیاں

کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک) قسط نمبر 1 ”…

کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک)
قسط نمبر 1

”وہاج صدیقی آپ کو اپنی سابقہ بیوی کو ہراساں کرنے اور پھر اسے قتل کرنے کے جُرم سے باعزت بری کیا جاتا ہے”۔ جج صاحب کی گھمبیر آواز کورٹ میں گونج رہی تھی۔ اردگرد مبارک باد کا شور اُٹھا۔ اس نے وکیل کو اپنے باپ سے ملتے ہوئے دیکھا۔ پھر بے تاثر چہرہ لئے کمرہ عدالت سے باہر نکل آیا۔ ”مبارک ہو وہاج”۔ وکیل نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مبارکباد دی۔ ”کس لئے مبارکباد نعمان صاحب! تین سال بغیر کسی جرم کے قید سے رہائی کی؟”۔۔۔ اس نے تلخی سے وکیل کا ہاتھ جھٹکا اور آگے بڑھ گیا۔ ”وکیل صاحب! آپ پریشان نہ ہوں ۔ بس تین سال قید میں رہ رہ کر تلخ ہوگیا ہے۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا”۔ وجاہت صدیقی نے اپنے بیٹے کے رویے کی معذرت پیش کی تو نعمان صاحب نے اثبات میں سر ہلادیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تم شیشے کے آگے ہی کھڑے رہو گے یا اب باقی تیاری بھی کرو گے؟ حد ہے اتنی دیر تو میں لڑکی ہونے کے باوجود بھی نہیں لگاتی، جتنی تم لگاتے ہو۔ حبہ تیار ہونے کے ساتھ ساتھ اسد کی کلاس بھی لے رہی تھی جو شیشے کے آگے کھڑاپانچویں بار اپنے بالوں کو برش کر رہا تھا۔”بس اب میں تم جیسا گندا تھوڑی ہوں کہ ہاتھ منہ دھوئے بال بنائے کالج پہنچ جاوں”۔ اسد نے اطمینان سے ھبہ کے لتے لئے۔ ”ہاں تم تو جیسے دودھ کے دُھلےپاک ساف پیدا ہوئے تھے نا”۔ ھبہ نے بھی حساب برابر کیا۔ ”کم از کم تمہاری طرح کوڑے کے ڈھیر سے تو نہیں ملا تھا نا”۔ اسد نے تپا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ”بالکل تمہیں تو لاہور کے گندے نالے سے اٹھا کر لائے تھے”۔ ھبہ کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ ”آخ خ” اسد نے منہ بگاڑا۔ ہبہ جی بھر کر خوش ہوئی۔ ”اللہ جانے میرے ماں باپ کو کیا پڑی تھی تم جیسی کیلئے خدمت خلق کرنے کی وہاں کتنے لوگوں نے دیکھا ہو گا نا تمہیں۔ لیکن اُٹھا کے امی ابو ہی لائے”۔ اسد کب خاموش رہنے والا تھا۔ ”میں ابھی امی کو بتاتی ہوں”۔ ھبہ روہانسی ہو کر امی کی طرف چلی گئی تو وہ پیچھے لپکا۔ ” ھبہ کی بچی خبردار جو امی کو بتایا تو”۔ اتنے میں وہ امی کو شکایت لگا چکی تھی۔ ”کیا شور مچا رکھا ہے صبح صبح”؟ انوشے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے اپنے کمرے سے برآمد ہوئی۔ ”انوشے دیکھو یہ مجھے کوڑے سے اٹھائی گئی کہہ رہا ہے”۔ ھبہ نے مسکین سی شکل بنائی۔ انوشے کے گھورنے پر اس نے صفائی پیش کی۔ ”اس نے بھی مجھے گندے نالے سے اٹھایا ہوا کہا تھا”۔ ان کے انداز پر انوشے اور اماں دونوں ہی ہنس دیں۔ ”اچھا بس مجھے پتا ہے تم دونوں ہی بہت شریف ہو بس پتا یہ لگانا ہے کہ زیادہ شریف کون ہے؟”انوشے نے ہنسی کو بریک لگاتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔”میں” ھبہ برجستہ بولی۔”اور میں کیا کم ہوں”۔ اس نے بھی تقلید کی۔ ”اچھا اپنی یہ لڑائی بند کرو اور ناشتہ کر لو کالج سے دیر ہو رہی ہے۔ اچھی خاصی سو رہی تھی ۔ تم لوگوں کے شور نے اٹھا دیا”۔ انوشے نے دونوں کو گھرکا۔ ”اگر آپ سو رہی تھیں تو ناشتہ کس نے بنایا؟” ھبہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ”میں نے ہی بنایا ہے ، فجر کی نماز پڑھ کے بنانے کے بعد سو گئی تھی”۔ انوشے نے بتایا تو ھبہ کچن سے کھانا لینے چلی گئی۔ ”لیکن فجر کے فوراً بعد تو نہیں سوتے”۔ اسد نے ٹی۔وی آن کرتے ساتھ ہی وضاحت طلب کی۔ ”جی بالکل فوراً نہیں سوتے ، تو میں نے تلاوت قرآن کرنے کے بعد ناشتہ بنایا، پھر گھر کی صفائی کی اور سونے چلی گئی۔ تم لوگوں کی طرح آدھے دن تک بستر توڑنے کی عادت الحمداللہ مجھے نہیں ہے”۔ انوشے نے بتاتے ہوئے آخر میں دونوں پر طنز کیا۔ھبہ کچن سے کھانا لے آئی تھی ، اب دونوں ناشتہ کر رہے تھے۔ اس سب کے دوران فرح بیگم تسبیح پڑھتی رہیں۔انوشے پانی پینے کی غرض سے کچن میں گئی۔ ٹی۔وی کی آواز اتنی ضرور تھی کہ اس تک پہنچتی۔”وہاج صدیقی کو آج عدالت سے باعزت بری کر دیا ہے”۔ انوشے کا پانی بھرتا ہاتھ پل بھر کو رکا۔ ”کیا اُس نے غلط سنا تھا؟” وہ جوں کی توں کھڑی تھی جب باہر سے اس کی آواز آئی۔ ”آپی سنا ہے وہاج صدیقی رہا ہوگیاہے”۔ انوشے کو اب بھی اپنے کانوں پریقین نہ آیا۔ ”ہاں ہاں سن لیا ہے اس نے بہری نہیں ہے”۔ فرح نے بیٹے کو ڈپٹا تو اُسے اپنی غلطی کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ انوشے نے پانی کا گلاس منہ سے لگایا، لیکن ایک گھونٹ سے زیادہ نہ پی سکی۔ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا اور باہر آگئی۔”انوشے تم جاو سو جاو ایسے ہی انہوں نے شورمچادیاان کو تو کوئی اور کام نہیں لیکن تمہیں تو پھر کام پر جانا ہےرات کو بھی دیر سے واپس آئی ہو”۔ فرح بیگم نے اسے منظر سے ہٹانے کی کوشش کی جو یک ٹک ٹی-وی پر چلنے والی خبر اور ساتھ تصاویر دیکھ رہی تھی۔ ”تم دونوں بھی جاو کالج وین آگئی ہے”۔ فرح بیگم نے وین کاہارن سنتے ہی ان دونوں کو بھگایا۔وہ دونوں اللہ حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف لپکے۔ انوشے نے ریمورٹ اٹھا کر ٹی-وی بند کیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ ”نوشی!” فرح بیگم نے اسے پکارا۔ اس نے گہری سانس لی اور پھر پلٹی تو چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ تھی۔ ”میں ٹھیک ہوں اماں”۔ ”نہیں تو ٹھیک نہیں ہے بُھلا کیوں نہیں دیتی سب کچھ تلخ یادیں صرف اذیت دیتی ہیں”۔
یادِ ماضی ہے عذاب ہے یا رب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
”جانتی ہوں امی اور میں ان سب باتوں کو کب سے بھلا چکی ہوں، میں اب آگے بڑھ آئی ہوں بہت آگے”۔وہ ٹرانس کی کیفیت میں بولتی چلی گئی۔”جھوٹ! اگر بھول گئی ہوتی تو آج تیرے چہرے پر یہ اذیت رقم نہ ہوتی۔ اب تو عدالت نے بھی اسے باعزت بری کر دیا ہے”۔ فرح بیگم بے بسی سے بولیں۔”امی میرا دل کر رہا ہے میں آپ کی اس بات پرزوردار قہقہ لگاوں۔ وہ امیر لوگ ہیں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ”۔ انوشے تلخی سے کہتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔”وہ امیر ہیں انوشے ، پھر بھی دیکھ اس نے تین سال قید کاٹی وہ بھی نہ کردہ گناہ کی”۔ فرح بیگم کی آواز نے اس کا پیچھا کیا تھاس، لیکن اس نے جواب نہ دیا۔ شاید جواب دینے کیلئے بچا ہی نہ تھا۔ : ۔ وہ اپنے کمرے میں آکر نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ اس کے آنسو نہ نکلے تھے۔ تھکن زدہ انداز میں بیڈ سے ٹیک لگا لی اور آنکھیں موند لیں۔ گذشتہ تین سال اس نے اتنی مشکل ترین اور اذیت ناک گزارے تھے کہ اب وہ کسی بھی طوفان کا سامنا کرنے کی طاقت رکھتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی پھول کی پتیاں اس پر نچھاور کی گئیں۔ اس قدر پرتپاک استقبال کی اسے امید نہ تھی۔ لیکن اسے اس سب سے کوئی خوشی نہ ملی تھی۔ وہ سپاٹ چہرہ لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔
”ماں سے نہیں ملے گا؟” مسز صدیقی کی آواز پر وہ رک گیا، لیکن مڑا نہیں۔ مسزصدیقی اس کے سامنے آئیں تو ان کی آنکھیں آنسو سے لبریز شکوہ کناں تھیں۔ وہ خجل سا ہو کر رہ گیا”۔ ”میں بس فریش ہونے جا رہا تھا”۔ اس نے کمزور سا بہانہ بنایا ، جبکہ وہ جانتی تھیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ وہ بس ان کا سامناکرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ مسز صدیقی نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چومی پھر گلے سے لگایا۔”جاو جاکر فریش ہو جاو پھر سب مل کر کھانا کھاتے ہیں، میں نے آج تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے”۔ وہ آنکھیں پونچھتے ہوئے بولیں۔”جی” کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔ وہ آنکھیں نم کئے اسے دیکھتی رہیں۔ اس نے جیسے ہی کمرے کا درواز کھولا اس کے اندر سکون اتر گیا۔ کمرہ سلیقے سے ویسے ہی تھا جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ ہلکی سی خوشبو کو اس نے اپنے نتھنو میں گھستے پایا۔ آنکھیں بند کر کے اس نے چند گہرے سانس لئے پھر الماری سے کپڑے نکال کر واش روم کی طرف گھس گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشے آفس پہنچی تو ایک نیا دھماکہ اس کے سر پر ہوا ۔ ”آپ کو آج وہاج صدیقی کا انٹرویو لینا ہے”۔ ڈائریکٹر کی بات سن کر انوشے کا دماغ گھوم گیا۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی، لیکن یہ بھی ممکن نہ تھا۔ ”سر پلیز کسی اور کے شو میں ارینج کردیں، ان کا انٹرویو میں نہیں کرسکوں گی”۔ اس نے اکتائے مگر منت بھرے لہجے میں کہا۔ ”لیکن مجھے اس انٹرویو کیلئے مجھے آپ سے زیادہ کوئی قابل نہ ملا اور آپ تو وہاج صدیقی کو بہت اچھے سے جانتی ہیں ، سو آپ اچھے سوال کر لیں گی”۔ ڈائریکٹر کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ ”بٹ سر۔۔۔۔’ انہوں نے انوشے کی بات کاٹ دی۔”نو مور ڈسکیشن” گویا بات ہی ختم کر دی۔ انوشے جل کڑھ کر رہ گئی۔ وہ بہت اچھے سے جانتی تھی کہ یہ انٹرویو کس نیت سے لیا جارہا ہے۔ لیکن وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی، ورنہ جاب کا مسئلہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاج فریش ہو کر لاونج میں آیا توملازمہ نے کھانا لگنے کی خبر دی۔ وہ ڈائنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ ڈائینگ ٹیبل پر سب موجود تھے لیکن سکوت ایسا تھا جیسے کوئی ذی روح موجود نہ ہو۔ اس نے آتے ہی سلام کیا اور ایک کرسی نکال کر بیٹھ گیا۔ یہ وہی کرسی تھی جہاں وہ تین سال پہلے ناشتے کیلئے بیٹھا کرتا تھا۔ اس کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں ، جیسے پیشمان ہو کسی نہ کردہ جرم پر۔۔۔۔۔۔
صدیقی صاحب نے حسرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا، جو کبھی ہنستا ، کھیلتا شریر سا ہوا کرتا تھا۔ یہ وقت کی تبدیلی تھی جو اس کی شخصیت بھی بدل گئی۔ حالات نے ایسی کایا پلٹی کی اس کے چہرے سے رونق چھین لی تھی۔ وقت مرہم کا کام ضرور کرتا ہے۔ پرانے زخم بھر دیتا ہے۔ لیکن یہ زخم کون دیتا ہے یہ بھی وقت کی ایک چال ہوتی ہے۔ وہ چاہے تو انسان کو بادشاہ بنا دے ،چاہے تو فقیر بنا دے،چاہے تو عزت بنا دے اور چاہے تو سالوں کی بنائی ہوئی عزت لمحے میں خاک میں کردے اور انسان وقت کا پابند ہے۔
صدیقی صاحب نے کھنکار کر سب کو متوجہ کیا تو سب کی نظریں ان کی طرف اُٹھیں ماسوائے وہاج صدیقی کے ۔ اس نے ایک نظر دیکھ کر دوبارہ نظریں جھکا لیں۔ ”کچھ ٹی-وی چینلز تمہارے ساتھ انٹرویو کرنا چاہ رہے تھے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ابھی تم کچھ دن تک آرام کرو۔ مائنڈ کو ریلیف دو۔ چینلز والے تو اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے طرح طرح کے سوال کرینگے”۔ صدیقی صاحب نے اطلاح باہم پہنچانے کے ساتھ ہی مشورہ دیا۔
”نہیں ابو! مجھے آرام کی تو قطعاً ضرورت نہیں اور دوسری بات میڈیا والے انکار پر مزید ہوا دیں گے اس معاملے کو اور ساتھ ہی تذلیل بھی کریں گے۔ میں مزید ذلیل ہونے کی ہمت نہیں پاتا اور نہ ہی آپ لوگوں کو ذلیل ہوتا دیکھ سکتا ہوں”۔ اس کا لہجہ اٹل تھا۔ ”خیر ایسی تو کوئی بات نہیں لیکن چلو جیسی تمہاری مرضی”۔ صدیقی صاحب نے اسے گویا اجازت دے دی۔ ”کون سے پروگرام میں پہلا انٹرویو ہے؟”وہاج نے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ انہوں نے گہری سانس لی جیسے بہت دقت پیش آئی ہو یہ بتاتے ہوئے۔ کچھ دیر ٹھہر کر اسے خاموشی سے دیکھتے رہے، شاید الفاظ جمع کر رہے تھے بولنے کیلئے۔ پھر یکلخت جیسے انہوں نے وہاج کے سر پر دھماکا کیا۔”انوشے داوود کے ساتھ”۔ چند لمحوں کیلئے وہاج ساکت ہو گیا۔ ڈائینگ ٹیبل پر موجودتمام افرد کی گردنیں وہاج کے تاثرات دیکھنے کیلئے پلٹیں۔ اس کا چہرہ کسی بھی قسم کے احساس سے عاری تھا۔”ابا! میرا خیال ہے ابھی ان سب کی ضرورت نہیں”۔ فائز نے گویا وہاج کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کی۔”نہیں بھائی میں مزید لوگوں کو خود پر باتیں بنانے کی اجازت نہیں دوں گا، بہت تماشہ بنا لیا لوگوں نے میرا۔ میں لوگوں سے نہیں چھپتا، پھر عزت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔ وہاج نے سنجیدگی سے اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرنے کی سعی کوشش کی ، پھر ایک نظر سب کو دیکھا۔ سب اس کی طرف ہی متوجہ تھے، مگر اس کے دیکھنے پر نظریں چُرا گئے۔ وہاج نے گہری سانس خارج کی۔ ثناء بھابھی نے اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔ ”وہاج وقت کی نزاکت کو سمجھو ، وہ لوگ تمہیں ذلیل کرنے کی کوشش کریں گے بس”۔ وہاج ٹکٹکی باندھے اپنے سامنے پڑھی چاول کی پلیٹ کو دیکھتا رہا، پھر ان میں چمچ ہلانے لگا۔وہ جانتا تھا بھابھی نے دانستہ انوشے کا نام نہیں لیا تھا۔ وہ اسے ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن وہ ہرٹ ہوا تھا، ان کے ”وہ لوگ” کہنے پر، کیا وہ بھی لوگوں میں شامل تھی۔
: پھر اس کی آنکھیں چمکیں۔
”بھابھی عزت اور ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے سے اور جس سے چاہے چھین لے۔ وہ بہترین کارساز ہے اور پھر آپ جانتی ہیں اللہ تعالی نے کیا فرمایا ہے:
”مومنو! تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰؑ کو (عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو اللہ نے انہیں بے عیب ثابت کیا، بےشک اور وہ اللہ کے نزدیک آبرو والے تھے”۔
اس نے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ آیت کا ترجمہ پڑھا اور پھرجیسے اپنے آپ سے مخاطب ہوا۔ مگر آواز اونچی رکھی۔
”اللہ تعالی ہمیں یاد کرو رہے ہیں کہ جیسے یہود و انصاری کو موسیؑ کی قدر نہ تھی ، اس طرح مومنو تم نبی ﷺ کی ناقدری نہ کرنا۔آپ ﷺ کو رنجیدہ نہ کرنا، جیسے یہود و انصاری نے موسیؑ کو کیاتھا۔ دیکھیں! اللہ تعالی کتنی محبت کرتے تھے اپنے رسولوں سے پھر یہ بھی فرما دیا کہ اللہ نے انہیں معصوم یعنی بے عیب ثابت کیا ۔ تو میں بھی اللہ تعالی کے محبوب حضرت محمدﷺ کا امتی ہوں، کیا وہ مجھے بے عیب ثابت نہ کرے گا؟ دنیا والوں کو چلتی زبانوں کو بند نہ کروائے گا؟ یہ ہم انسانوں کی مغرور انا ہوتی ہےجو سچ تسلیم نہیں کرتی، ورنہ اللہ تعالی انسانوں کو بے طرح نوازتا ہے، عزت ، دولت، شہرت سب چیزوں سے”۔ وہ یکدم خاموش ہوا تو سب کو اپنی طرف یک ٹک دیکھتے پایا۔ سب اس کی ذہانت پر حیران تھے۔ اس نے بچپن میں چند سورتیں بمعہ ترجمہ یاد کیں تھیں، اپنے شوق کے تحت، سب کا خیال تھا کہ وہ اب تک بھول چکا ہو گا۔ آخر جیل میں اسے کہاں قرآن میسر آتا ہو گا۔لیکن یہ سب سننے کے بعد سب ہی نہ صرف اس کی ذہانے کے قائل ہو ئے بلکہ اس کے ایمان کے معترف بھی ہوئے، جو اس قدر مشکل حالات میں بھی لڑکھڑایا نہ تھا۔ ”مجھے تم پر فخر ہے ، وہاج”۔ صدیقی صاحب نے جذباتیٹ میں کہہ دیا تو وہ خجل سا ہو گیا۔ ”اچھا میں ذرا انٹرویو کی تیاری کر لوں”۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہو۔ سب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔”مگر کھانا تو ختم کر جاو”۔ نیلو فر بیگم نے اس چاولوں کی پلیٹ پر نظر ڈالی، جو تقریباً ایک دو چمچ ہی کھائی گئی تھی۔ جب کہ آج اس کے من پسندچائینیز رائس بنائے گئے تھے۔ ”نہیں ماما اور بھوک نہیں ہے”۔ اس نے بہانا گھڑا۔ وہ یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ جیل کی روکھی سوکھی روٹی کھا کر اسے یہ مزیدارکھانا بے حد برا لگا ۔ یا شاید تین سالوں بعد عجیب۔ آہ! یہ تین سال کیا تھے؟ ان تین سالوں میں کوئی وہاج صدیقی سے پوچھتاتو وہ کیا کیا نہیں تھاان تین سالوں میں؟ وہ سر جھٹکتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ پیچھے نیلوفر بیگم اسے تاسف سے دیکھتی رہ گئیں۔۔۔۔۔
انوشے جلے پیر کی بلی بنے کمرے کے چکر لگارہی تھی۔ ”اُف کیا مصیبت ہے؟کیا میں پھر سے سامنا کر پاوں گی اس کا؟” یہ سوچ کر اسکا دم گھٹنے لگتا، پھر سوچتی نوکری چھوڑدے لیکن گھر کا خیال آتے ہی وہ نڈھال ہوجاتی۔ گھر کا راشن پانی سب اُسی کی نوکری سے چل رہا تھا۔ وہ کرسی پر سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھ گئی۔ دفعتاً انٹرکام کی آواز پر چونکی۔ اس نے اٹھایا تو ڈائریکٹر نے عجلت میں سوال کیا۔ ”وہ آپ نے سوال ترتیب دے دیے ہیں جو وہاج صدیقی سے پوچھنے ہیں؟” وہ گڑبڑا گئی ، پھر جیسے ہی حواس میں لوٹی توکہنے لگی۔ ”بس سر میں وہی کرنے لگی تھی”۔ ”جلدی مس انوشت ہمارے اس زیادہ وقت نہیں ہے، وہاج نے دوبجے کا وقت دیا ہے۔” انوشے نے گھڑی کی طرف دیکھا تو بارہ بج رہے تھے۔ اس نے جلدی سے پین اور پیپر پکڑا ، پھر فوراً ڈائریکٹر سے کہنے لگی۔”جی سر میں جلد ہی اپنا ہوم ورک مکمل کر لوں گی”۔ اس نے جلدی سے کہا۔ ”اوکے ڈن”۔ دوسری طرف جیسے انہوں نے گہرا سانس بھرا۔ انوشے نے انٹرکام رکھ دیا۔ پھر خالی الذہنی کے عالم میں پین اور پیپر دیکھنے لگی۔”او میرے رب! اور کتنے امتحان باقی ہیں؟” اس نے لمبی سانس کھینچتے ہوئے اللہ کو پکارا، بےشک! وہ اپنے بندوں کی سنتا ہے، ضرور سنتا ہے، یہ بندے ہی ایسے ہوتے ہیں کہ دنیا کی رنگینیوں میں، غفلت میں اس کی ذات کو بھول چکے ہوتے ہیں۔ لیکن پھر ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے۔ جب وہ اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ بس وہ ایک پل۔۔۔۔۔۔۔انسان کی شخصیت ، اس کی ذاتبدل دیتی ہے، وہی لمحہ”turning point” کہلاتا ہے۔ انوشے نے بھی دل سے صدق دل سے اپنے رب کو پکارا تھا، تو اس نے بھی انوشے کی عرضی سنی تھی۔ اس کی زندگی میں نیا موڑ آنے والا تھا، جو اسے اچھی طرح یہ باور کرواتا کہ ”اور کتنے امتحان باقی ہیں”۔ بس اس موڑ کا انتظار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاج اپنے کمرے میں آکر لاک لگا کر بیڈ پر اُوندھے منہ لیٹ گیا۔ ذہن بری طرح منتشر تھا۔ وہ کیا تیاری کرتا۔۔۔۔۔کن سوالوں کے جواب ڈھونڈتا؟۔۔۔۔۔وہ بہت ہمت سے نیچے سب کو اپنی عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں کہہ کر آیا تھا۔ لیکن! اس کا دل ایک ہی دعا کررہاتھا۔ ”بس”وہ” مجھے ذلیل نہ کرے اللہ! میں برداشت نہیں کر پاوں گا۔ ”وہ”مجھے ذلیل نہ کرے”۔ پھر اٹھ کر آئینے کے سامنے آکر جیسے اس نے خود کو غییر متوقع صورتِ حال کیلئے بھی تیار کرنی کی کوشش کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشے کو پانچ منٹ پہلے ہی وہاج صدیقی کے آنے کی خبر ملی تو اس کا دل حلق تک پہنچ گیا۔ وہ سوالات تیار کر کے پروڈیوسر کو دئے آئی تھی۔ جس نے اس کے نرم سوالوں کو بدل کر چند سخت قسم کے سوالات ڈال دئے تھے۔ وہ مر کر بھی وہاج صدیقی سے وہ سوال نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے پھر سے اپنے رب کو پکارا۔”اللہ! میری مدد کریں ، میں کہاں جاوں؟ میرے مالک”۔ پھر وہ اپنے کیبن سے باہر نکلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔اس نے سٹوڈیو میں قدم رکھا تو سامنے ہی وہاج صدیقی کو پاکر ٹھٹک گئی۔ اس کے جسم میں جان نہ رہی۔ اس کی ٹانگیں اس کو آگے بڑھانے سے انکاری ہو گئیں۔ وہاج نے اس کی آنکھیں دیکھیں تو وہ بھی متحیر ہوگیا۔ اس کا چہرہ نقاب میں چھپا ہوا تھا۔ انوشے داوود بدقت تمام چلتی ہوئی اپنی کرسی پر بُرا جمان ہو گئی۔ وہاج کو اندازہ ہوا یہ پروگرام کرنا صرف اس کے لئے ہی نہیں بلکہ مقابل کیلئے بھی صبر آزما کام تھا۔ مگر بہرحال دونوں کو ہی یہ کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”السلام علیکم! ناظرین میں ہوں آپ کی ہوسٹ انوشے داوود اور آج کے ہمارے ٹاپ ایشوز ہیں وہاج صدیقی کی باعزت رہائی”۔ انوشے کو وہاج کا پورا نام لیتے ہوئے دقت محسوس ہوئی تو وہیں وہاج بھی ٹھٹکا پھر کیمرے کی موجودگی کا احساس کرتے ہوئے سر جھٹکا۔ انوشے بھی اس کا ٹھٹکنا نوٹس کر چکی تھی آخر کو وہ صحافی تھی۔لیکن اس نے ”باعزت رہائی” پر اس کا ٹھٹکنا سمجھا تھا۔ وہ جزبز ہوئی لیکن پھر سرعت سے خود کو خول میں سمیٹا۔ اب وہ صرف انوشے داوود نہیں بلکہ صرف ”صحافی انوشے داوود” بن گئی تھی۔ اُس نے ایک نظر سامنے پیپر پر لکھے سوالات پر ڈالی۔ پھر جیسے ایک فیصلہ کر کے وہاج کو دیکھنے لگی۔ ”پیپر پر لکھے سوالات نہ پوچھنے کا فیصلہ، وہاج کی عزت بچانے کا فیصلہ، اپنی نوکری کو خطرے میں ڈالنے کا مصمم ارادہ کر کے بیٹھی تھی۔ ”جی تو وہاج صاحب بہت مبارک ہو آپ کو آپ کی آزادی”۔ انوشے نے پیشہ ورانہ انداز میں کہتے ہوئے اس پر طنز کیایا پھر واقعی ہی مبارکباد دی وہ سمجھ نہ سکا۔ اس نے خفیف سا سر ہلایا۔ ”اتنے سال قید میں رہ کر وہ بھی ”بے گناہ” کیسا لگا؟” انوشے کا سوال غیر متوقع تھا۔ اس سے جواب نہ بن پایا۔ انوشے نے بے گناہ پر زور دیاتھا۔ جانے کیوں؟ ”آزاد محسوس کر رہا ہوں خود کو۔ میری آزادی میری بے گناہی کا ثبوت ہے”۔ وہاج نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ”امیر لوگ تو چٹکیوں میں آزاد ہو جاتے ہیں ، چاہے وہ گناہگار ی کیوں نہ ہوں؟” انوشے شاید اسے باور کروا رہی تھی کہ اس کی آزادی اس کی بے گناہی کا ثبوت نہیں تھی۔ اس لئے جھٹ بولی۔ وہاج اس کے سوال پر لب کچلتا رہ گیا، تو کیا وہ اس قبیح گناہ کا مجرم اس کو سمجھتی تھی۔ ”اگر میں اپنی امارت استعمال کرتا تو یقیناً چند میٹوں میں باہر ہوتا، لیکن میں نے تین سال جیل میں گزارے ہیں”۔ وہاج نے اسے بہت کچھ جتایاتھا، جسے وہ نظرانداز کرتی تڑخ کر بولی۔”تو وہاج صاحب ! بے گناہ ہو کر تین سال کی قید تو پر گز نہ گزارتے آپ”۔ وہاج کو اس کے ان الفاظ نے تکلیف دی تھی ، مگر وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ ”انوشے بی بی!یہاں اصل قصور وار کو نہیں صرف قصور وار کو پکڑا جاتا ہےاور معاملے کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے، پولیس نے کسی کو تو پکڑنا ہی تھا، سو مجھے پکڑ لیا۔ پاکستانی پولیس ہے۔ آپ اچھی طرح ان سے واقف ہونگی ان سے”۔ وہ جیسے ماضی کا بہت کچھ اس کو باور کرواگیا تھا۔ لیکن انوشے کو اپنے ملک کے بارے میں ایسا سننا برا لگا تھا۔
”لندن میں اگر اچھی پولیس ہے تووہاں سے بیل کرولیتے” انوشے تیزی سے بول گئی، مگر اب باتھ ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ وہ اپنے ردعمل پر شرمندہ ہوئی۔ اس دوران بریک لینے کی آواز آئی تو وہ پیشہ وارانہ انداز میں بریک لینے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرح بیگم صرف بیٹی کا پروگرام دیکھنے کیلئے ٹی-وی لگا کر بیٹھی تھیں۔ وہ انوشے کے پروگرام میں وہاج کو بیٹھے اور اس کا تعارف کرواتے دیکھ کر ان کا دل دھک سے رہ گیا۔ پھر وہ بہت غور سے انوشے کے سوالات اوع وہاج کے جوابات سُننے لگیں۔ انہیں اانوشے کے یہ سوالات تکلیف دیکھ رہے تھے۔آخر وہ چاہتی کیا ہے وہ بس سوچ کر رہ گئیں۔ پھر بریک ٹائم کے دوران انہوں نے انوشے کو کال کی۔ کال اٹھانے کی اجازت تو نہ تھی، لیکن وہ اپنی مما کی کال اگنور نہیں کرسکتی تھی۔ سو فوراً اٹھا لی۔ اس وقت بھی وہ سٹوڈیو میں ہی بیٹھی تھی(مطلب وہاج اس کے مقابل تھا)۔”السلام علیکم! خیریت مما اس وقت؟” وہ تشویش سے پوچھ رہی تھی۔ ”وعلیکم سلام! خیریت کیسے ہوگی؟انوشے تمہارے مقابل ”وہاج صدیقی” بیٹھا ہے”۔ انہوں نے انتہائی سرد لہجے میں جواب دیا، تو وہ بعجلت بولی، ”مما یہاں سب خیریت ہے میں آپ سے گھر آکر بات کرتی ہوں”۔ انہوں نے لمبی سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔”انوشے سنگ دل مت بنو۔ اس کی زندگی مشکل مت بناو۔ ایسے سخت سوال مت کرو بیٹا”۔ انہوں نے بے بسی سے کہا تو وہ بس ”ٹھیک ہے” کہہ کر فون بند کر گئی۔ انوشے کی مما کی یہ کال تنبہی کال تھی۔ درحقیقت وہ اب مما سے سوال جواب میں الجھی تھی یہ بات اب یہاں ختم ہونے والی نہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بریک ٹائم کے بعد انوشے نے خود کو نارمل کرتے ہوئے نرم سوالات کیے (پراڈیوسر کے سوالات نظر انداز کر کے)۔ چند ہی منٹوں کے بعداسے بریک کا کہا گیا تو وہ حیران ہوئی ۔ یہ بریک کا وقت نہیں تھا۔ لیکن اسے بریک کی وجہ سمجھ آگئی تھی۔ جب پراڈیوسر نے اسے بلایا۔ ”یہ کیا تم اس سے اس کے فیوچر پلانز کے متعلق اور سیاسی صورت حال ڈسکس کرنے بیٹھ گئی ہو؟” وہ دانت پیستے ہوئے اسے ڈپٹ رہے تھے۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ ”اس سے سابقہ بیوی کے بابت پوچھو وہ چڑھ دوڑے گا، غصہ کرے گا تو شو کی ریٹینگ بڑھنے لگے گی”۔ باہر بیٹھے وہاج صدیقی بخوبی یہ گفتگو سن سکتا تھا۔ اسے محسوس ہوا اس کی کنپٹیاں سلگنے لگیں۔ پھر اس نے انوشے کی آواز سنی۔ ”سوری سر! آپ یہ جانتے ہیں کہ میں ریٹنگز کیلئے کام نہیں کرتی نہ ہی اس بیکار چیز کیلئے میں عورت کی تذلیل کرنے کی حقدار ہوں”۔ اس نے قطعی لہجہ اپنایا۔ ”مسز انوشے! آپ یہ مت بھولیں کہ آپ یہاں جاب کیلئے ہائر کی گئی ہیں۔ آپ میرے حکم کی غلام ہیں”۔ پروڈیوسر کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔ ”میں اپنی جاب پوری ڈیڈیکشن سے کرتی ہوں اور آپ سے جو پے وصول کرتی ہوں وہ میرے وقت کی قیمت ہوتی ہے، لہٰذا میں کسی کے حکم کی غلام نہیں”۔ وہاج کے کانوں میں انوشے کا سردمہری سے دیا گیا جواب پڑا تو لمحے بھر کو وہ مسکرا دیا۔ وہ اتنا کہہ کر سٹوڈیو میں واپس آگئی۔ وہ وہاج کو مسکراتا دیکھ کر ٹھتکی پھر سر جھٹکتی اپنی جگہ پر آ بیٹھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ ان کے سوال جواب کا سلسلہ جاری رہا، لیکن اس دوران انوشے نے ایک بھی معیوب سوال نہ پوچھا۔ اس نے وہاج سے اس کی قید کے متعلق پوچھا، لیکن کریدنے والے انداز میں نہیں۔ اس نے جو سوالات وہاج سے اس کی بیوی کے متعلق پوچھے اس میں وہاج نے صاف طور پر واضح کر دیا” اس نے جو کیا وہ اس کا ایمان تھا، میں مزید ان سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، لیکن لوگوں سے اس کی مغفرت کی دعا کیلئے ضرور کہوں گا”۔ وہاج نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ انوشے نے لمبی سانس کھینچتے ہوئے گھر کی راہ لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب ٹی-وی لاونج میں بیٹھے انوشے کا پروگرام دیکھ رہے تھے۔ شاید انہوں نے انوشے کا شو اتنے انہماک سے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس کے ہر ساول کے ساتھ سب کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو جاتے۔ ”یہ لڑکی چاہتی کیا ہے میرے بیٹے سے؟” نیلوفر بیگم نے بے چینی سے بڑبڑا کر کہا تو صدیقی صاحب چونکے۔ ”وہ اپنی ڈیوٹی کر رہی ہے اور کچھ نہیں، ویسے بھی اس نے ابھی تک ایسا کوئی سوال نہیں کیا جس پر اعتراض ہو”۔ صدیقی صاحب نے اپنے طریقے سے باتھ سنبھالی۔ یہ بات سچ ہے کہ انوشے نے چاہے وہاج کی بیوی کے متعلق ہی سوالات کیوں نہ کیے مگر اس میں کوئی عزت پر حرف آنے والا سوال نہ تھا۔ وہ اس کے ممنون ہوئے اور دل ہی دل میں اس کی صحافت کے معترف بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشے جب سٹوڈیو سے باہر نکلی تو ذہنی انتشار کا شکار تھی، جبکہ دوسری طرف وہاج مسرورکن سا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ مسکراہٹ تین سال پہلے اس کے چہرے پر آئی تھی اور اب تین سال بعد انوشے سے ملنے اور پھر بات کرنے کے بعد وہ اپنے ماخذ پر دنگ رہ گیا۔ ملنے اور بات کرنے۔۔۔۔۔۔۔یکدم وہ سنجیدہ ہو کرنے لگا۔ اس نے ایسا کیوں ساچا؟۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشے گھر پہنچی تو اماں کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ وہ اندر کی طرف بڑھنے لگی جب اماں کی پکار پر رک گئی۔”آج جلدی واپس آگئیں؟” وہ کن انکھیوں سے اس کے بدلے تاثرات دیکھ رہیں تھیں۔۔۔”جی! ”اس” کے ساتھ انٹرویودوپہر میں ارینج کیا گیا تھا۔آج کا میرا کام ختم ہوگیا ۔ اس لئے”۔ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ”تجھے اس کی بیوی کے متعلق سوالات نہیں کرنے چاہیئے تھے”۔ اماں نے تحمل سے سمجھانے کی کوشش کی۔ ”میں نے کوئی سخت سوال نہیں کیا ۔۔۔ویسے بھی آپ جانتی ہیں کہ میں اپنی گھریلو زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی الگ رکھتی ہوں۔ آپ کو یوں مجھے فون نہیں کرنا چاہیئے تھا”۔ وہ شکوہ کر رہی تھی۔ ”میں پریشان ہوگئی تھی کہ تو کچھ غلط نہ سنا بیٹھے اسے”۔ انہوں نے سچ بتایا۔ ”میں چھوٹی بچی نہیں ہوں ! موقع دیکھ کر بات کرتی ہوں ”۔ اس نے مصنوعی خفگی دکھائی، پھر جلدی سے بولنے لگی۔ ”اچھا میں نماز پڑھ لوں ! دیر ہو رہی ہے”۔ ”ہوں!۔۔۔۔” فرح بیگم نے ہنکارا بھرا۔ ”یہ اسد اور ھبہ کہاں ہیں؟” انوشے جاتے جاتے پلٹی۔ ”وہ اسد دوستوں کے ساتھ گیا ہے اور ھبہ ٹیوشن گئی ہے”۔ اماں نے بتایا تو وہ مطمئن ہو کر اندر چل دی۔ فرح بیکگم حیرت سے اسے دیکھے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچا تو سب نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ ”کم آن میں بچہ ہوں کیا جو بہل جاوں گا؟” وہ سب کے انداز دیکھ کر حیران ہوا تو مصنوعی غصہ دیکھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ ”خیر بڑوں کیلئے تو ”بچے”ہی رہتے ہیں پھر چاہے”بچے” کتنے ہی بڑے ہو جائیں”۔ امی پیار نچھاور کرتی بولیں تو سب ہنس دیے۔ تین سال بعد اس گھر کی خوشیاں لوٹی تھیں ورنہ جیسے وہاج کی قید کے بعد گھر میں سناٹے ہوتا سب کا بھاگ جانے کا دل کرتا۔ ”ویسے پہلے انٹرویوکا حال بتاو کیسا گزرا؟”بھابی نے شرارت سے پوچھا۔ ”بہت اچھا! اب تو دل کرتا ہے ہر چینل پر انٹرویودوں”۔ وہ ان کی شرارت سمجھ نہیں پایا تھا، تبھی جھٹ سے بولا۔ اس ایک انٹرویو نے اس کے اندر دنیا والوں سے سامنے کی ہمت پیدا کردی تھی۔ ”اچھا”۔ بھابی کا ”اچھا” بہت معنی خیزی تھا لیکن وہاج بھابی کے انداز پر متوجہ کہاں تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/