منتخب غزلیں

فِراقؔ گھورکھپُوری کُچھ مُضطرب سی عِشق کی دُنیا ہ…

فِراقؔ گھورکھپُوری

کُچھ مُضطرب سی عِشق کی دُنیا ہے آج تک
جیسے کہ، حُسن کو نہیں دیکھا ہے آج تک

بس اِک جَھلک دِکھا کے جسے، تُو گُزر گیا
وہ چشمِ شوق، محوِ تماشا ہے آج تک

یُوں تو اُداس غمکدۂ عِشق ہے، مگر
اِس گھر میں اِک چراغ سا جلتا ہے آج تک

جس کے خلُوصِ عِشق کے افسانے بن گئے
تُجھ کو، اُسی سے رنجشِ بَیجا ہے آج تک

پرچھائیاں نِشاط و الَم کی ہیں درمیاں
یعنی، وصال و ہجر کا پردا ہے آج تک

وِیرانیاں جہان کی آباد ہوچُکیں
جُز اِک دیارِ عِشق، کہ سُونا ہے آج تک

ساری، دِلوں میں ہیں غَمِ پِنہاں کی کاوِشِیں
جاری، کشاکشِ غَمِ دُنیا ہے آج تک

ہم بیخودانِ عِشق، بہت شادماں سہی
لیکن، دِلوں میں درد سا اُٹھتا ہے آج تک

پُورا بھی ہوکے جو، کبھی پُورا نہ ہوسکا !
تیری نِگاہ کا، وہ تقاضا ہے آج تک

تُو نے کبھی کِیا تھا جُدائی کا تذکرہ
دِل کو، وہی لگا ہُوا کھٹکا ہے آج تک

تاعُمر یہ، فِراقؔؔ! بَجا دِل گرفتگی
پہلو میں کیا وہ درد بھی رکّھا ہے آج تک

فِراقؔ گھورکھپُوری
(رگھو پتی سہائے)


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/