“Surview” by Thomas Hardy (اردو ترجمہ) جلتی گیلی …

جلتی گیلی لکڑیوں سے ۔۔۔
(تھامس ہارڈی)
جلتی گیلی لکڑیوں کی آگ سے اُبھری صدا
جس کو سُن کر میں ہوا مجبور کہ دیکھوں اُدھر
غور سے دیکھا صدا میری تھی مجھ سے ہمکلام
کس طرح عہدِ جوانی کے سنہرے دور میں
لے کے نخوت اور تکبر گھومتا پھرتا تھا میں
موردِ الزام ٹھہرانے لگی ، میری صدا
"زندگی بھر حق پرستی پر نہ تم قائم رہے
عدل تک تم نے رسائی میں ہمیشہ دیر کی
قدرِ حسن خیر آنکھوں میں تمہاری کچھ نہ تھی
قدر کی تم نے نہ فطرت کی جو ہم سب کے لیے
جھیلتی ہے کتنے دُکھ، سہتی ہے صدمے ان گنت”
تھی صدا میری مخاطب مجھ سے یہ کہتے ہوئے
"وہ نہیں مغرور، کرتی ہے وہ ہم پر اعتماد
ماں کی طرح ہم پہ رہتی ہے ہمیشہ مہربان
دُکھ اٹھاتی ہے ہمارے واسطے اک عمر سے”
پھر صدا مجھ سے مخاطب تھی مرا بن کر ضمیر
"کام جو سونپا تھا تم کو ، تم نے کب پورا کیا
تم نے کب لوگوں کو بتلایا کہ دنیا میں فقط
جذبہ مہر و محبت ہی ہے اعلٰی اور بلند”
لکڑیوں کی آگ آتش دان میں بجھنے لگی
ہوگئی غائب صدا بھی، تھی جو مجھ سے ہمکلام
٭٭٭٭
اردو ترجمہ: احمد عقیل روبی
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2005176776379512



