عکسِ خیال

بعض لوگ مجھے مزدور دوست کہتے ھیں کچھ کہتے ھیں کہ م…


بعض لوگ مجھے مزدور دوست کہتے ھیں کچھ کہتے ھیں کہ میں فحش ھُوں. کچھ کہتے ھیں کہ میں ترقی پسند ھُوں۔ یہ کیا بیہُودگی ھے ؟ منٹو ایک انسان ھے اور انسان کو ترقی پسند ھونا چاھیے ۔

مجھ پر اِلزام ھے کہ میں عورت اور مرد کے جنسی رشتوں کے بارے میں لکھتا ھُوں ، وحشیاؤں ، طوافوں اور رَنڈیوں کے بارے میں لکھتا ھُوں. ھر اُس چیز کے بارے میں لکھا جانا چاھیے جو آپ کے سامنے موجُود ھے۔ جو چیز جیسی ھے اُسے ویسا کیوں نہ کہا جائے ؟؟ ٹاٹ کو ریشم کیوں لکھا جائے ؟؟۔

میرا کام کسی کی ذلالت پر اِستری کرنا نہیں ھے۔ میری کہانیاں ایک آئینہ ھیں جس میں سماج اپنے آپ کو دیکھ سکتا ھے۔ اگر آپ میری باتوں کو برادشت نہیں کر سکتے تو اِس کا مطلب یہ ھے کہ یہ زمانہ ھی ناقابلِ برداشت ھو گیا ھے۔ میں اِس سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے سے ھی ننگی ھے. اِسے کپڑے پہنانا میرا کام نہیں ھے۔

میری کہانی پڑھ کے کسی بھی نوجوان کے منہ سے گھٹیا جذبات کی رال نہی ٹپکتی۔ آپ کو میرا افسانہ پسند آئے یا نہ آئے اِس کا فیصلہ آپ کر لیں. میری کہانی میری دُوسری کہانی کے پائے کی ھے یا نہیں اِس پر بحث کرٹکس کر لیں لیکن اَدب ھرگز فحش نہیں ھو سکتا.

مجھ پر کئی مقدمے چل چکے ھیں اکثر لوگ مجھ سے پُوچھتے ھیں کہ آپ ایسی کہانیاں کیوں لکھتے ھیں ؟؟

کیوں نہ لکھوں؟ کیوں نہ لکھوں ، طوائفوں کے بارے میں ؟؟ کیا وہ ھمارے معاشرے کا حصہ نہیں ؟؟ اُن کے ھاں مرد نماز ، دُرود پڑھنے کے لیے تو نہیں جاتے۔ انہیں وھاں جانے کی کھلی اجازت ھے تو ھمیں اُن کے بارے میں لکھنے کی کیوں نہیں؟؟

”سعادت حسن منٹو“

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/