کارِ دُشوار * * * * * * ترجمہ سہل کام نہیں، اسے…

* * * * * *
ترجمہ سہل کام نہیں، اسے تخلیقِ مکرر بھی کہا جاتا ہے۔
ادبِ عالم میں ترجمے اور طبع زاد تخلیق کو برابر کا رُتبہ دیا جاتا ہے کیوں کہ ترجمہ نگار کو بہ یک وقت دو زبانوں، دو تہذیوں سے برسرِ پیکار ہونا پڑتا ہے جس کے لیے اُسے دونوں زبانوں اور تہذیبوں سے مقدور اور ضرورت بھر آشنا ہونا پڑتا ہے جس کے لیے اُسے دونوں زبانوں اور تہذیبوں سے مقدور اور ضرورت بھر آشنا ہونا چاہیئے اور اگر نہیں ہے تو اپنے آپ کو شناسا بنائے اور اگر وہ یہ آگاہی حاسل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ترجمہ نگاری سے توبہ ہی بھلی۔ بس اعلٰی پائے کا ترجمہ ہی ممکن ہے جب ترجمہ نگار اس کارِ دشوار کے سہل پسند نہ ہو۔
ادبِ عالم میں ترجمے اور طبع زاد تخلیق کو برابر کا رُتبہ دیا جاتا ہے کیوںکہ ترجمے سے اقوامِ عالم سے علم حاصل کر اپنی زبان میں شامل کیا جاتا ہے۔ مترجم اپنی زبان کو وسعتیں بخشتا ہے، دیگر زبانوں سے نئے نئے محوارے، استعارات، تشبیہات، تلمیحات غرض جملہ محاسن سمیٹ کر اپنی زبان کے دامن کو بھرتا ہے۔ زبان قوم کی شناخت، اس کی موت، اس کے وجود اور بقا کا ایک سبب ہوتی ہے اور مترجم اس شناخت کو مزید مضبوطی بخشنے میں اپنا اہم اور کٹھن کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن یہ امر قابلِ افسوس ہے کہ ہمارے ہاں ترجمہ نگاری کی تمام صعوبتیں اور کٹھنائیاں سہنے کے بعد جب کوئی شہہ پارہ زبانِ غیر سے اپنی زبان کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے تو طبع زاد کے مقابلے میں ترجمے کو کم تر درضہ دیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے کہ ترجمے سے زبان پھلتی پھولتی اور اس کا دامن وسیع ہوتا ہے، اس میں نئے نئے الفاظ اور تراکیب شامل ہوتی ہیں، نت نئے رواج اور رسومات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی قدیم و جدید تہذیبوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے میں ایسی مثالیں نہیں دینا چاہتا کہ انگریزی زبان میں آپ کو قدیم یونانی و لاطینی عظیم کتب سے عہدِ حاضر کی تمام مفید کتابوں کے تراجم ملتے ہیں۔ تاہم یہ تزکرہ بے محل نہ ہوگا کہ آج بے شمار غیر انگریزی اصطلاحات ایسی ہیں جو ترجمے کے راستے انگریزی میں داخل ہوئیں اور جلد ہی وہ اس میں یُوں رچ بس گئیں جیسی اُن کا جم پل ہی اس زبان کا ہی ہو۔
خاص طور پر نئی زبانوں کو تراجم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جلد از جلد بلوغت کے مراحل طے کرکے صدیوں پُرانی زبانوں کے درمیان اپنا مقام بنا اور منواسکیں بصورتِ دیگر وہ ایسے پودے کے مانند، جو بڑے بڑے درختوں کے تلے جنم لیتا ہے، بہت جلد کُملا کر بڑھوتری کے ضروری غذا نہ ملنے پر اپنا وجود ختم کر بیٹھتی ہیں۔ تو ایسے میں لازم ٹھیرتا ہے کہ ایسے تنومند درختوں سے ہی غذا حاصل کی جائے اور اتنی وافر مقدار میں حاصل کی جائے کہ ایک دن ان کے سامنے تن کر کھڑا ہوا جاسکے۔ اُردو بھی ایسی ہی ایک زبان ہے جسے ابھی بہت سی ترقی و ترویج کی ضرورت ہے۔ ہم طبع زاد کے ساتھ ساتھ ترجمے سے اردو کو اوجِ کمال پر پہنچا سکتے ہیں۔ سو، اسی سوچ کے پیشِ نظر عالمی ادب سے نام ور ادیبوں کی کہانیوں کے تراجم کی ایک اور کتاب پیشِ خدمت ہے۔ میں ادارہ الحمد پبلی کیشنز کے مالک صفدر حسین صاحب کا ممنون ہوں جو اس سلسلے میں مجھ سے بھی زیادہ سنجیدہ ہیں اور انھوں نے مجھے شریک کار بناتے ہوئے "عالمی افسانہ” کے نام سے ایک سیریز نکالنے کا تہیہ کیا ہے جس میں دنیا بھر سے بہترین کہانیوں کے انتخاب آپ کی نظر کرنے کا ارادہ ہے۔ دُعا ہے خدا ہمیں حوصلہ اور استقامت دے۔ آمین
نجم الدین احمد
* * * * * *
کتاب: عالمی افسانہ (1)، عالمی ادب سے منتخب کہانیوں کے تراجم
تعارف و ترجمہ: نجم الدین احمد
پبلیشر: الحمد پبلی کیشنز، لاہور۔ فون نمبر 04237231490
قیمت: 400 روپے
اشاعت: 2017ء
کتاب میں موجود افسانوں کی فہرست
————————————-
(1) افسانہ: نتاشا
تحریر: ولادی میر نیبوکوف (روس)
(2) افسانہ: فوارہ گھر
تحریر: لُد مِیلا پیٹر وشیفس کایا (روس)
(3) افسانہ: دُوسرا رُخ دیکھو
تحریر: تاتیانا ٹو لسٹا یا (روس)
(4) افسانہ: آغازِ شکار کا موسم
تحریر: وِلادی میر جارجی وچ سوروکن (روس)
(5) افسانہ: بلیوں کی بستی
تحریر: ہاروکی موراکامی (جاپان)
(6) افسانہ: مہ زادیاں
تحریر: اتالو کلوینو (اٹلی)
(7) افسانہ: کوئی نہیں ہنسے گا
تحریر: میلان کُنڈیرا (چیک ریبلک)
(8) افسانہ: سیب
تحریر: جوسپ نوواکوسچ (کینیڈا)
(9) اافسانہ: آگ
تحریر: طاہر بن چلّون (فرانس)
(10) افسانہ: بوڑھے فضل کی نصیحت
تحریر: الیا اودے گوف (قازقستانی)
(11) افسانہ: میری شطرنج کی کہانی
تحریر: شوتا اِیا تاشغلی (جارجیا)
(12) افسانہ: گَگَل
تحریر: ایلاپیاتی براتوف (کرغزستان)
(13) افسانہ: انتظار
تحریر: ایموس اَوز (عبرانی)
(14) افسانہ: سست نسل
تحریر: گَیل ہیئر وَین (عبرانی)
(15) افسانہ: برف
تحریر: ایٹگر کیرٹ (عبرانی)
(16) افسانہ: کدو سر والا آدمی
(17) افسانہ: خادمہ
تحریر: رابرٹ والزر (سوِّس)
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2136998349864020



