#Zimmar عورتوں کی کچھ باتیں مجھے کبھی سمجھ نہیں …

عورتوں کی کچھ باتیں مجھے کبھی سمجھ نہیں آئیں.
جہیز کے برتن الماری میں سجانے کے لئے رکھتی ہیں اور عام استعمال کے لئے بازار سے نئے خرید لاتی ہیں.
شادی والے بیس پچیس دیدہ زیب کام والے جوڑے جن کی مالیت کم از کم ایک لاکھ روپے کے قریب ہوتی ہے اور جن کی خریداری میں کم و بیش ایک سے ڈیڑھ سال لگتا ہے بس ایک یا دو بار پہننے کے کام آتے ہیں. عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ آؤٹ آف فیشن ہو گئے ہیں.
شادی والا لہنگا جس کی مالیت کم از کم پچاس ہزار سے لے کر بسا اوقات دو تین لاکھ تک بھی ہوتی ہے صرف ایک دفعہ لوگوں کو دکھانے کے لئے پہنا جاتا ہے. اس کے بارے میں سوال اٹھانا تو خیر گناہ ہے. اس کے بغیر شادی ہو نہیں سکتی.
بیوٹی پارلر والی کو ہزاروں روپے لٹا کر کچھ ایسی صورت بنوا لیتی ہیں کہ شوہر بیچارہ چند لمحوں کے لئے اپنی والدہ کے انتخاب پر ناز کرنے لگتا ہے. لیکن جب صبح بغیر میک اپ کے پہلی نظر پڑتی ہے تو اس کا تراہ نکل جاتا ہے.
شوہر کے لئے تیار ہونے کی زیادہ زحمت نہیں کرتیں. لیکن جب کسی دور پار کے رشتہ داروں کی شادی پر جانا ہو تو ایک ہفتہ پہلے ہی تیاری شروع کر دیتی ہیں. اور جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ شریک رشتہ دار ہیں ناک نہیں کٹوانی.


