منتخب غزلیں

عورتیں اپنے اپنے جھونپڑوں میں چلی گئیں۔بادل گرجنے …

عورتیں اپنے اپنے جھونپڑوں میں چلی گئیں۔بادل گرجنے لگا۔ہوا میں جمی ہوئی برف کے ٹکڑے اڑنے لگے جو میرے سینے سے نکیلے پتھروں کی طرح ٹکرا رہے تھے اور میں اپنے گھروندے کے اس گوشے کو یاد کررہا تھا جس میں دبک کر ہم ماں بیٹا سردیوں کا بیشتر حصہ گزار دیتے تھے۔اُپلوں کا دھواں ہمارا احاطہ کیے رکھتا تھااور ماں باربار میرے سینے پر اپنی چادر پھیلا دیتی کر کہتی تھی “سینے کو سردی سے بچائے رکھ بیٹا۔ہوا میں جو نمونیہ ہوتا ہے وہ سینے ہی کی راہ سے پسلیوں میں اترتا ہے“۔۔۔۔۔آنسووں میں بھیگا ہوا ماں کا چہرہ ایک مدت کے بعد بڑی وضاحت سے میرے سامنے ابھرا۔ جھریوں میں پھنسے ہوئے آنسو بجلی کی چمک سے جگمگا اٹھے تھے،جھلی کانپ رہی تھی اور یہ چہرہ میرے قریب آرہا تھا۔
وہ عورت جس نے لاش کا چہرہ ڈھانپا تھا،آہستہ آہستہ میری طرف آرہی تھی ۔اسکے ہاتھ میں کوئی چیز تھی اور وہ بار بار پلٹ کر جاپانیوں کی طرف دیکھتی تھی جو دور ابھی تک ناچ اور گارہے تھے۔
اسکے چہرے اور میری ماں کے چہرے میں کتنی مماثلت تھی۔ بڑھاپے میں کتنی یکسانیت ہوتی ہے۔ اس وقت سکی جھریوں میں بھی آنسو پھیل رہے تھے۔ قریب آکر رک گئی اور چینی زبان میں آہستہ سے بولی “قیدی ہو؟“۔
(احمد ندیم قاسمی کی کتاب “سناٹا“ سے اقتباس)


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/