منتخب غزلیں
جلتی بجھتی شمعوں کا دھواں رہتا ہے کچھ عجب دھن…
جلتی بجھتی شمعوں کا دھواں رہتا ہے
کچھ عجب دھند کے عالم میں مکاں رہتا ہے
کچھ عجب دھند کے عالم میں مکاں رہتا ہے
خشک دریا ہے، نہ دریا پہ ہے پہرہ لیکن
ہر طرف پیاس کا خوں رنگ سماں رہتا ہے
اس بھرے شہر میں مشکل ہے تجسس اس کا
کس کو فرصت جو کہے کون کہاں رہتا ہے
بھولنا سہل نہیں وقت کی سنگینی کا
زخم بھرتا ہے، مگر اس کا نشاں رہتا ہے
میری آنکھوں میں ہیں صد رنگ مناظر لیکن
کچھ ہے معدوم جو احساسِ زیاں رہتا ہے
نیند آتی ہے کہاں اُجڑے مکاں میں شاہد
کوئی آسیب کا ہر رات گماں رہتا ہے
(شاہد کلیم)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)

