منتخب نظمیں

پینتالیس سال کی عمر تک ایک کروڑ کمانا ہے۔”لوگوں ک…

💥 پینتالیس سال کی عمر تک ایک کروڑ کمانا ہے۔”لوگوں کو دکھانا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔”🥹💔

سلیم کو ہمیشہ دیر ہو رہی ہوتی تھی۔
بیس برس کی عمر میں اسے نوکری تک پہنچنے کی جلدی تھی۔

تیس برس میں گھر بنانے کی۔
چالیس میں دوسروں سے آگے نکلنے کی۔

اور پچاس میں اپنے بچوں کو خود سے آگے نکالنے کی۔

وہ صبح کی اذان بھی گھڑی دیکھ کر سنتا تھا، شام کا سورج بھی فون پر نظریں جمائے ڈوبنے دیتا تھا۔ اسے لگتا تھا زندگی ایک لمبی دوڑ ہے، اور جو ذرا سا بھی رکا، وہ ہار گیا۔

اسی دوڑ میں اس نے اپنی ماں کی کئی باتیں "بعد میں” سننے کے لیے چھوڑ دیں۔

اپنے باپ کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا وعدہ "اگلے اتوار” پر ٹال دیا۔

بیوی کی خاموشیاں کبھی سن ہی نہ سکا۔

بچوں کے بچپن کو تصویروں میں محفوظ تو کر لیا، مگر اپنی آنکھوں میں نہیں۔

وہ ہر چیز جمع کرتا رہا…

پیسہ، زمین، تعلقات، تعارف، کامیابیاں۔
صرف وقت خرچ کرتا رہا۔

ایک دن دفتر کی لفٹ میں اچانک اسے اپنے عکس پر نظر پڑی۔

داڑھی میں چند سفید بال تھے۔

اس نے انہیں انگلی سے چھپانے کی کوشش کی، جیسے وقت کو دھوکا دیا جا سکتا ہو۔

مگر کچھ ہفتوں بعد سفید بال اور بڑھ گئے۔

پھر ایک دن عینک آ گئی۔
پھر گھٹنوں میں ہلکا سا درد۔

پھر فون کی رنگ ٹون پہلے جیسی تیز نہیں سنائی دی۔

بڑھاپا کبھی دروازہ توڑ کر نہیں آتا۔

وہ روزمرہ کی چیزوں میں اپنا نام لکھتا رہتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی صبح اس کی آنکھ حسبِ معمول پانچ بجے کھل گئی۔

مگر پہلی بار کہیں جانا نہیں تھا۔

وہ صحن میں آ کر بیٹھ گیا۔

پہلے اسے خاموشی سے گھبراہٹ ہوئی۔

پھر اچانک اسے ایک آواز سنائی دی۔

چھت پر بیٹھے کبوتر دانہ چن رہے تھے۔

گلی میں دودھ والا سائیکل کی گھنٹی بجا رہا تھا۔

پڑوس کی بوڑھی اماں قرآن پڑھ رہی تھیں۔

دور کسی گھر میں چائے کی پتی کھولنے کی خوشبو ہوا میں گھل گئی۔

وہ حیران رہ گیا۔

یہ سب پہلے بھی ہوتا تھا؟

یا دنیا آج ہی بنی ہے؟

کچھ دن بعد اس نے اپنی پرانی ڈائری کھولی۔

پہلے صفحے پر لکھا تھا:

"پینتالیس سال کی عمر تک ایک کروڑ کمانا ہے۔”

اگلے صفحے پر:

"سب سے بڑا گھر لینا ہے۔”

پھر:

"لوگوں کو دکھانا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔”

وہ دیر تک ان جملوں کو دیکھتا رہا۔

ایک عجیب سی ہنسی اس کے ہونٹوں پر آ گئی۔

وہ سب کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا…

جس کی آج اسے کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔

اب اگر کوئی بحث چھیڑ دیتا تو وہ مسکرا کر موضوع بدل دیتا۔

پہلے ہر غلط بات کا جواب دینا ضروری لگتا تھا۔

اب ہر سکوت ایک فتح محسوس ہوتا تھا۔

پہلے ہر دعوت میں جانا لازم تھا۔

اب کبھی اپنے آم کے درخت کے نیچے بیٹھ جانا کافی ہوتا۔

پہلے ہر تصویر میں درمیان میں کھڑا ہونا چاہتا تھا۔

اب اکثر تصویر کھینچنے والا بن جاتا۔

اسے محسوس ہوا کہ عمر نے اس سے کچھ لیا نہیں…

صرف غیر ضروری بوجھ اتار دیا ہے۔

ایک شام اس کا پوتا آیا۔

پوچھنے لگا،

"دادا ابو، آپ اب ریس کیوں نہیں لگاتے؟”

سلیم نے بچے کی طرف دیکھا۔

پھر سامنے ڈوبتے سورج کی طرف۔

اور آہستہ سے بولا،

"بیٹا… جب آدمی جوان ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے منزل سب سے اہم ہے، اس لیے وہ دوڑتا رہتا ہے۔”

"پھر؟”

"پھر ایک دن سمجھ آتا ہے کہ راستے میں کھلے ہوئے پھول، ماں کی آواز، باپ کی دعا، بچوں کی ہنسی، بیوی کی خاموش موجودگی… یہی اصل منزلیں تھیں۔”

بچہ شاید پوری بات نہ سمجھ سکا۔

وہ پھر کھیلنے بھاگ گیا۔

اس رات سلیم نے اپنی پرانی ڈائری کے آخری صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا:

"زندگی نے مجھے سب سے قیمتی تحفہ اُس دن دیا، جب اس نے میری رفتار مجھ سے واپس لے لی۔”

کھڑکی کے باہر رات آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔

سلیم نے پہلی بار محسوس کیا کہ اندھیرا ہمیشہ خوفناک نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی وہ صرف اتنی روشنی لے جاتا ہے جتنی غیر ضروری ہو۔

اور باقی رہ جانے والی مدھم روشنی میں انسان خود کو پہلی بار صاف دیکھ لیتا ہے۔

اسے تب سمجھ آیا کہ بڑھاپا جوانی کا خاتمہ نہیں۔

یہ وہ عمر ہے جہاں آدمی دوسروں کی نظروں میں بڑا نہیں ہوتا…

اپنی نظر میں سچا ہو جاتا ہے۔

#lifelessons

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/