ایک بار ایسا بچہ پالنا چاہتا ہوں جو پندرہ سال بعد …
جس دن صحن کا نیم کا درخت کاٹا گیا، اسی شام میری بیٹی نے پہلی بار میرے سامنے ہاتھ جوڑے۔
"امی… خدا کے لیے… مجھے ایک اور ابو سے محروم نہ کریں۔”
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
جہاں برسوں تک سایہ رہتا تھا، وہاں دھوپ سیدھی زمین پر گری ہوئی تھی۔
"بیٹا،” میں نے آہستہ سے کہا، "درخت میں نے نہیں کاٹا… تم لوگوں نے اس کی جڑوں پر کلہاڑی ماری تھی۔”
وہ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی، جیسے میری آواز کسی اور عورت کے منہ سے نکل رہی ہو۔
—
ہم لاہور کے ایک پرانے سرکاری کوارٹر میں رہتے تھے۔
دو کمرے، تنگ سا صحن، ایک نیم کا درخت، اور اس کے نیچے رکھی چارپائی۔
جب میرے جڑواں بچے، عائشہ اور حمزہ، تین برس کے تھے، ان کے باپ نوید نے دوسری شادی کر لی۔
وہ کبھی کبھی آتا۔
عید پر نئے کپڑے۔
سالگرہ پر کھلونے۔
اور ہر ملاقات کے آخر میں ایک ہی جملہ۔
"اب کی بار ضرور ساتھ لے جاؤں گا۔”
بچے ہر بار دروازے تک دوڑتے۔
واپسی پر صرف دھول اندر آتی تھی۔
—
پھر ساجد آیا۔
وہ میرے ساتھ شادی کر کے اس گھر میں نہیں آیا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ آیا تھا۔
پہلے خراب پنکھا ٹھیک کرنے۔
پھر بچوں کو ریاضی پڑھانے۔
پھر اسپتال کی راتوں میں دوڑنے۔
پھر ان کی زندگی میں۔
پہلی بار حمزہ نے اسے "ابو” کہا تو ساجد نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
میں نے صرف نظریں جھکا لی تھیں۔
بعض رشتے اجازت نہیں مانگتے۔
—
پندرہ برس گزر گئے۔
ساجد نے کبھی یہ نہیں گنا کہ کس رات کس بچے کو بخار تھا، کس مہینے اسکول کی فیس دینی تھی، یا کس خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنی خواہش ملتوی کرنی پڑی۔
محبت اکثر حساب نہیں رکھتی۔
اسی لیے نقصان ہمیشہ اچانک محسوس ہوتا ہے۔
—
پچھلے برس نوید واپس آیا۔
اس کے بالوں میں سفیدی تھی، لہجے میں نرمی، اور جیب میں پچھتاوے کے چند خوبصورت جملے۔
وہ بچوں کو شہر کے مہنگے کیفے لے جاتا۔
واپسی پر عائشہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہوتی۔
حمزہ پہلے سے زیادہ خاموش رہنے لگا۔
ایک شام میں نے سنا، نوید کہہ رہا تھا،
"میں تم سے دور رہنا نہیں چاہتا تھا… کچھ لوگوں نے رہنے نہیں دیا۔”
میں جانتی تھی وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
مگر مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ سچ ہمیشہ اس بچے سے ہار جاتا ہے جسے اپنے باپ کی ضرورت ہو۔
—
جھگڑا صرف برتنوں کا تھا۔
حمزہ نے مٹن کڑاہی بنائی تھی۔
سنک بھر گیا تھا۔
ساجد نے اخبار تہہ کرتے ہوئے کہا،
"کھانا اچھا بنایا ہے، اب کچن بھی ویسا ہی چھوڑ کر جاؤ۔”
حمزہ فون پر تھا۔
"ایک منٹ…”
"ابھی۔”
دوسری طرف نوید تھا۔
حمزہ نے بےاختیار کہا،
"آپ کو میرے اصل ابو سے مسئلہ کیا ہے؟”
میرے ہاتھ سے روٹی جل گئی۔
عائشہ نے بھائی کا ساتھ دیا۔
"آپ ہمیشہ سے جانتے تھے کہ ہمارے ابو کوئی اور ہیں۔”
یہ جملہ ساجد کے چہرے پر نہیں لگا۔
اس کی آنکھوں کے اندر کہیں جا کر لگا تھا۔
اس نے صرف اپنی عینک اتاری۔
میز پر رکھی۔
اور پہلی بار کھانا کھائے بغیر گھر سے نکل گیا۔
نیم کے درخت سے ایک خشک پتہ ٹوٹ کر اس کے کندھے پر گرا۔
اس نے جھاڑا بھی نہیں۔
—
تین دن بعد دونوں بچوں نے معافی مانگی۔
عائشہ نے خط لکھا۔
حمزہ نے کہا،
"غصے میں انسان وہی وار کرتا ہے جو سب سے گہرا ہو۔”
ساجد نے خط پڑھا۔
پھر تہہ کر کے جیب میں رکھ لیا۔
رات کو میں نے پوچھا،
"کچھ کہو گے؟”
وہ دیر تک صحن میں نیم کے نیچے بیٹھا رہا۔
پھر بولا،
"جس گھر میں آدمی پندرہ برس گزار دے اور پھر بھی مہمان نکلے… وہاں لفظ نہیں بچتے۔”
—
نوید زیادہ دیر نہیں رکا۔
ایک دن اس کا فون بند آیا۔
پھر اگلے دن۔
پھر ہمیشہ کے لیے۔
صرف ایک پیغام۔
"زندگی بہت الجھ گئی ہے۔ بچوں کو سمجھا دینا۔”
بس۔
اتنی سی عبارت نے دو سولہ سالہ بچوں کی پوری عمر پر مٹی ڈال دی۔
—
عائشہ میرے کمرے میں آئی۔
اس کی آنکھیں رو رو کر نہیں، جاگ جاگ کر سرخ تھیں۔
"امی… ساجد ابو سے بات کریں۔”
میں خاموش رہی۔
"میں نے معافی مانگ لی تھی…”
خاموشی۔
"میں نے خط بھی لکھا تھا…”
خاموشی۔
پھر وہ میرے قدموں میں بیٹھ گئی۔
"امی… میں ایک اور ابو نہیں کھونا چاہتی۔”
میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ نہیں پھیرا۔
صرف اتنا کہا،
"تم انہیں کھو نہیں رہیں، بیٹا… تم نے انہیں وہیں چھوڑ دیا ہے جہاں تم نے کہا تھا کہ وہ کبھی تھے ہی نہیں۔”
وہ ایسے روئی جیسے کسی نے اس کا نام اس سے واپس لے لیا ہو۔
—
ساجد گھر میں موجود رہنے لگا۔
لیکن صرف اتنا جتنا دیوار موجود ہوتی ہے۔
وہ بجلی کا بل جمع کراتا۔
دروازہ بند کرتا۔
حمزہ دیر سے آتا تو ڈانٹ دیتا۔
مگر عائشہ کے بخار پر اس کے کمرے کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا۔
وہ ذمہ دار تھا۔
شفیق نہیں۔
—
پھر ایک رات میری ماں آئیں۔
نیم کا درخت اس وقت تک کاٹا جا چکا تھا۔
اس کی جڑیں ابھی زمین میں تھیں۔
انہوں نے آہستہ سے پوچھا،
"سنا ہے ساجد بچہ چاہتا ہے؟”
میں نے ہاں میں سر ہلایا۔
"کیوں؟”
"وہ کہتا ہے… ایک بار ایسا بچہ پالنا چاہتا ہوں جو پندرہ سال بعد یہ نہ کہے کہ تم میرے باپ نہیں ہو۔”
امی نے میری طرف دیکھا۔
وہ غصے میں نہیں تھیں۔
صرف تھکی ہوئی تھیں۔
"اور جو دو بچے اسی گھر میں رہیں گے؟”
میں نے جواب نہ دیا۔
انہوں نے نیم کے کٹے ہوئے تنے پر ہاتھ رکھا۔
"درخت جب سوکھتا ہے نا، بیٹی… پرندے قصوروار نہیں ہوتے۔”
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید قصور کبھی ایک آدمی کا نہیں ہوتا۔
—
چند ہفتے بعد میں نے ساجد کو بچوں کے پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے دیکھا۔
میٹرک کی سند۔
پہلی جماعت کا رپورٹ کارڈ۔
حمزہ کی پہلی ڈرائنگ۔
عائشہ کا پہلا انعام۔
وہ ہر کاغذ دیکھ کر واپس رکھ دیتا۔
جیسے کوئی آدمی اپنے ہی جنازے میں خاموش کھڑا ہو۔
پھر اس نے دراز سے ایک چھوٹا سا اونی موزہ نکالا۔
نیا۔
بغیر استعمال کے۔
میں سمجھ گئی۔
اس نے ابھی تک امید کو مرنے نہیں دیا تھا۔
اور اسی لمحے مجھے اپنی بیٹی کی آواز یاد آئی۔
"امی… مجھے ایک اور ابو سے محروم نہ کریں…”
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
جہاں کبھی نیم کا درخت تھا، وہاں ایک ننھا سا پودا خودبخود اُگ آیا تھا۔
مجھے پہلی بار سمجھ آیا…
درخت کاٹنے والے ہمیشہ لکڑہارے نہیں ہوتے۔
کبھی کبھی ایک جملہ بھی کلہاڑی بن جاتا ہے۔
افسانہ: لفظوں کا کلہاڑا
©️ انتخاب سخن
#Stepfather #اردوادب #EmotionalStory

