ایک نجومی تھا، ایسا نجومی کہ پورے شہر میں اس کی بات حرفِ آخر سمجھی جاتی تھی۔ لوگ…

ایسا نجومی کہ پورے شہر میں اس کی بات حرفِ آخر سمجھی جاتی تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی پیش گوئی کبھی غلط ثابت نہیں ہوتی۔
ایک دن ایک شخص اپنے نومولود جڑواں بچوں کو اٹھائے اس کے پاس پہنچا۔
دونوں بچے شکل و صورت میں اس قدر ایک جیسے تھے کہ پہچاننا مشکل تھا کہ کون کون ہے۔
باپ نے بڑے شوق سے کہا:
“بابا جی! ذرا ان دونوں بچوں کا مستقبل تو بتائیے، کون کیا بنے گا؟”
نجومی نے چند لمحے دونوں بچوں کو غور سے دیکھا۔
پھر ایک بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا:
“یہ بچہ بڑا ہو کر غیر معمولی انسان بنے گا،
عقلمند، کامیاب، بااثر… لوگ اس کی مثال دیا کریں گے۔”
پھر دوسرے بچے کی طرف دیکھا اور ٹھنڈی سانس لے کر بولا:
“اور اس کا، کچھ خاص نہیں ہو سکے گا۔”
یہ الفاظ ماں باپ کے دل میں ایسے اتر گئے جیسے پتھر پر لکیر۔
وقت گزرتا گیا۔
اب گھر میں دونوں بچوں کے ساتھ سلوک بدل چکا تھا۔
جس بچے کے بارے میں “کامیاب” ہونے کی بات کہی گئی تھی،
اسے خاص توجہ دی جانے لگی۔
اس کی ہر چھوٹی بات پر تعریف ہوتی۔
اگر وہ معمولی سا کام بھی کر لیتا تو کہا جاتا:
“دیکھا؟ ہم جانتے تھے تم غیر معمولی ہو!”
اسے اچھے کپڑے، اچھی تعلیم، بہترین ماحول دیا گیا۔
اور سب سے بڑھ کر،
اس کے ذہن میں بار بار یہ بات ڈالی گئی:
“تم خاص ہو… تم بڑے انسان بنو گے”
رفتہ رفتہ وہ بچہ خود کو واقعی خاص سمجھنے لگا۔
اس کی چال میں اعتماد آ گیا۔
سوچ میں جرات آ گئی۔
وہ ہر مشکل کو یہ سوچ کر حل کرتا کہ:
“میں ناکام نہیں ہو سکتا”
دوسری طرف دوسرا بچہ
وہ آہستہ آہستہ نظر انداز ہونے لگا۔
اگر وہ غلطی کرتا تو کہا جاتا:
“اس سے کیا امید رکھنی”
اگر وہ کچھ اچھا بھی کرتا تو کسی کو خاص فرق نہ پڑتا۔
رفتہ رفتہ اس کے اندر احساسِ کمتری جنم لینے لگا۔
وہ خاموش رہنے لگا۔
کم بولنے لگا۔
خود پر یقین کھونے لگا۔
کیونکہ انسان ویسا ہی بنتا چلا جاتا ہے
جیسا اسے مسلسل باور کرایا جائے۔
سال گزرتے گئے۔
ایک دن وہی والدین دوبارہ دونوں نوجوان بیٹوں کو لے کر نجومی کے پاس پہنچے۔
ان کے چہروں پر خوشی تھی۔
انہوں نے فخر سے کہا:
“بابا جی! آپ کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
یہ دیکھیے، یہی وہ بیٹا ہے جو آج بڑا کامیاب انسان بن چکا ہے۔
اور دوسرا، واقعی زندگی میں کچھ نہ کر سکا”
نجومی مسکرایا۔
پھر اس نے خاموشی سے دوسرے، ناکام سمجھے جانے والے لڑکے کو اپنے قریب بلایا،
اور اپنے پاس بٹھا لیا اور اس کے غیر معمولی ہونے کی تعریف کرنے لگا۔
جس پر والدین حیران رہ گئے۔
“بابا جی! آپ شاید بھول رہے ہیں، کامیاب والا یہ دوسرا بیٹا ہے!”
نجومی چند لمحے خاموش رہا۔
پھر آہستہ سے بولا:
“نہیں،
میں بھولا نہیں”
“اصل پیش گوئی تو اسی بچے کیلئے کی تھی”
یہ سنتے ہی والدین کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
نجومی نے جس بچے کیلئے کامیابی کی بات کی تھی، والدین نے غلط فہمی میں دوسرے کو وہ مقام دے دیا”
“ایک بچے کو مسلسل یقین دلایا کہ وہ غیر معمولی ہے، جوکہ حقیقت میں تھا نہیں،
اور دوسرے کو یہ احساس دلاتے رہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا جبکہ وہ بہت کچھ کر سکتا تھا”
“پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔
جسے والدین نے اعتماد دیا، وہ بلند ہو گیا۔
جسے کمزور سمجھا، وہ اندر سے ٹوٹ گیا”
“اکثر بچوں کا مستقبل ستارے نہیں بدلتے،
والدین کے الفاظ بدل دیتے ہیں”
“بچے مٹی کی طرح ہوتے ہیں۔
تم انہیں جس یقین سے گوندھو گے، وہ ویسی ہی شکل اختیار کر لیں گے۔”
“اگر ہر وقت انہیں یہ کہا جائے کہ تم ناکام ہو،
تو ایک دن وہ واقعی ناکامی کو اپنی قسمت مان لیتے ہیں۔”
“اور اگر انہیں یقین دلایا جائے کہ وہ قیمتی ہیں، قابل ہیں، غیر معمولی ہیں،
تو وہ ناممکن راستے بھی عبور کر جاتے ہیں۔”
اخلاقی سبق:
بچوں کی شخصیت ان کے بارے میں کہے گئے الفاظ سے بنتی ہے۔
والدین کی حوصلہ افزائی ایک کمزور بچے کو بھی عظیم بنا سکتی ہے، جبکہ مسلسل تنقید ایک ذہین بچے کو بھی احساسِ کمتری میں مبتلا کر سکتی ہے۔
اس لیے بچوں کے دل میں امید، اعتماد اور محبت ڈالیں، کیونکہ کئی بار ان کی قسمت ان کے کانوں میں بولے گئے جملے لکھتے ہیں۔
✦ تحریر: عثمان عاشق
Source


