میں نے اپنے بیٹے کی محافظ پر شک کر کے اس کا پیچھا …
بارش کی ہلکی ہلکی پھوار گاڑی کے شیشے پر گر رہی تھی اور علی رضا نے اپنی گاڑی کی تمام لائٹس بند کر دی تھیں۔ سڑک کے اس پار ایک خستہ حال اور اکھڑے ہوئے رنگ والے پرانے دروازے پر اس کی نظریں جمی ہوئی تھیں جہاں سے ثناء ابھی ابھی اندر داخل ہوئی تھی۔
وہی ثناء، جو پچھلے چھ ماہ سے اس کے ماں کے بغیر اجڑے اور ویران گھر میں ایک خاموش زندگی بن کر لوٹی تھی۔ وہ اس کے صدمے سے چور بیٹے حمزہ کے زخموں پر مرہم کی طرح لگی تھی، مگر آج وہ ایک گہرا راز بن چکی تھی اور علی رضا نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا تھا کہ شک صرف دماغ کی بساط پر نہیں چلتا، یہ انسان کے سینے میں زہر بن کر اگتا ہے۔
اس تپتی دوپہر جب ثناء نے روز کی طرح جلدی جانے کی اجازت مانگی تو علی رضا نے اپنے مخصوص حاکمانہ لہجے میں پوچھا تھا کہ ثناء آخر کہاں جانا ہے؟ اس کے چہرے پر ایک سیکنڈ کے لیے جھجھک کا سایہ لہرایا اور اس نے نظریں جھکا کر کہا تھا کہ سر کچھ ذاتی کام ہے۔ یہ ‘ذاتی’ کا لفظ علی رضا کے ذہن میں ہمیشہ ایک گہرے خوف کی طرح بیٹھ چکا تھا، کیونکہ اسی ایک لفظ کے پیچھے اس کی مرحومہ بیوی کی طویل بیماری چھپی رہی تھی اور اسی کے پیچھے اس کی آخری سانسیں بھی خاموش ہو گئی تھیں۔
وہ رات گھر میں ایک عجیب سا کڑوا سناٹا تھا، حمزہ اپنے کمرے میں بند تھا اور دروازے کے نیچے سے مدہم روشنی باہر آ رہی تھی مگر کوئی آواز نہیں تھی۔ علی رضا نے ہاتھ اٹھایا کہ دروازہ کھٹکھٹائے، مگر پھر رک گیا کیونکہ ثناء نے ہی اسے سکھایا تھا کہ کچھ خاموشیاں توڑنے سے نہیں بلکہ خاموشی سے سننے سے دور ہوتی ہیں، مگر اس کا شکی دماغ اس پاکیزہ لڑکی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا۔
اور اب وہ اس اندھیری گلی میں ایک پرانے یتیم خانے کے باہر کھڑا تھا جہاں ایک مدہم سا بلب جل رہا تھا اور بورڈ پر لکھا تھا، ‘دارالامان برائے بچگان’۔ علی رضا کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا کہ حمزہ کو سنبھالنے والی یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے؟
وہ گاڑی سے اترا اور دبے قدموں اس عمارت کی کھڑکی کے پاس جا کر اندر جھانکا تو اس کے اندر کا سارا تکبر اور شک کے بت ایک ہی سیکنڈ میں پاش پاش ہو گئے۔ ثناء فرش پر ایک چٹائی پر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے گرد یتیم بچوں کا ایک میلہ لگا ہوا تھا، کوئی اس کے کندھے پر سر رکھے سو رہا تھا، کوئی اس کے ہاتھ سے کہانی کی کتاب چھیننے کی لڑائی لڑ رہا تھا اور وہ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی. وہی ہنسی جو علی رضا نے اپنی پوری دولت لٹا کر بھی اپنے روٹھے ہوئے بیٹے کے چہرے پر نہیں دیکھی تھی۔
آپ کھڑکی سے جھانکنے کے بجائے اندر کیوں نہیں آ جاتے؟ ایک بوڑھی خاتون کی آواز پر علی رضا چونک کر پیچھے ہٹا۔ اس نے گڑبڑا کر کہا کہ میں وہ اصل میں ثناء کا صاحب ہوں۔ خاتون نے مسکرا کر اس کی بات کاٹی اور بولیں کہ میں جانتی ہوں، آپ ثناء کے صاحب ہیں نا؟ وہ یہاں ہر مہینے اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ لے کر آتی ہے اور ان لاوارث بچوں کی عیدیں مناتی ہے، مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتی۔ علی رضا نے کانپتی آواز میں پوچھا کہ مگر وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟ تو خاتون کی آنکھوں میں ایک پرانی یاد چمک اٹھی اور انہوں نے کہا کہ کیونکہ وہ خود بھی کبھی انہی لاوارث بچوں میں شامل تھی، اسے کسی نے سڑک کے کنارے سے اٹھا کر یہاں چھوڑا تھا، وہ اس مٹی کا قرض اتار رہی ہے اور اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک سانس ہے، وہ ان بچوں کو تنہا نہیں ہونے دے گی۔
علی رضا کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم سی چل گئی، ثناء کا حمزہ کے آنسو پونچھنا، اس کا ہر درد بن کہے سمجھ جانا، وہ سب اس کی اپنی زندگی کے ادھورے زخم تھے۔ اسی لمحے دروازہ کھلا اور ثناء باہر آئی، علی رضا کو سامنے دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک خوف اور شکستگی کے تاثرات ابھرے، اس نے لرزتے ہوئے کہا کہ سر آپ یہاں؟ علی رضا نے ایک گہرا سانس لیا اور بولا، ‘ثناء، مجھے یہاں بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، میں اپنی آنکھوں پر شک کی پٹی باندھے پھر رہا تھا، مجھے معاف کر دو’۔
ثناء کی آنکھوں سے ایک گرم آنسو گرا اور وہ بولی، ‘سر، لوگ جب کسی کی اصل حقیقت جان لیتے ہیں تو ان کے رویے بدل جاتے ہیں، میں اس تذلیل سے ڈرتی تھی کہ کہیں آپ مجھے بھی اپنے گھر سے نہ نکال دیں’۔ علی رضا نے ایک قدم آگے بڑھا کر کہا، ‘رویے تو بدل چکے ہیں ثناء، مگر نفرت کے لیے نہیں بلکہ اس عاجزی کے لیے جو میں نے آج دیکھی ہے، میں نے تم پر شک کر کے خود کو ایک مجرم بنا لیا ہے’۔
ثناء نے صابرانہ انداز میں جواب دیا، ‘شک کرنا تو دنیا کا دستور ہے سر، لیکن یقین کا بوجھ ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا’۔
ابھی بات ادھوری تھی کہ اندر کے کمرے سے ایک جانی پہچانی آواز آئی، پاپا آپ بھی آ گئے؟ علی رضا نے مڑ کر دیکھا تو اس کا نو سالہ بیٹا حمزہ وہاں کھڑا تھا، اس کی آنکھیں نم تھیں مگر چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔
علی رضا نے حیرت سے پوچھا کہ حمزہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تو معصوم بچے نے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا، ‘ثناء باجی مجھے یہاں تب لاتی تھیں جب مجھے ماما کی یاد بہت تڑپاتی تھی، یہ مجھے کہتی تھیں کہ دیکھو حمزہ، ان بچوں کے پاس تو روٹھنے کے لیے باپ بھی نہیں ہے، تمہارے پاس تو پاپا ہیں، ان کا خیال رکھا کرو’۔ علی رضا نے تڑپ کر کہا کہ تم نے مجھے کبھی بتایا کیوں نہیں بیٹا؟ تو حمزہ نے سادگی سے کہا، ‘پاپا آپ کے پاس دنیا کے بہت بڑے بڑے کام ہوتے ہیں، آپ کے پاس میرے آنسوؤں کے لیے وقت کہاں تھا’۔
یہ جملہ کسی پگھلے ہوئے سیسے کی طرح علی رضا کے کانوں میں اترا اور اس کا وجود اندر سے لرز گیا۔
اس رات واپسی پر گاڑی میں تین لوگ سوار تھے، مگر وہ تینوں اب مالک اور ملازم نہیں تھے، بلکہ تین ادھورے وجود تھے جو ایک دوسرے کے بغیر نامکمل تھے۔ جب گاڑی گھر کے صحن میں رکی تو علی رضا نے چابی نکالی، کچھ دیر خاموشی سے ثناء کے چہرے کو دیکھا اور بولا، ‘ثناء، اگر میں یہ کہوں کہ یہ گھر اب صرف میرا اور حمزہ کا نہیں رہا تو کیا تم اس کی چوکھٹ کو سنبھالو گی؟’ ثناء نے حیرت سے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھائیں تو علی رضا نے دھیمے اور سنجیدہ لہجے میں کہا، ‘یہ مکان اس دن سے ایک ویران قبرستان تھا جس دن میری بیوی گئی تھی، تم نے اپنے زخموں کو چھپا کر میرے بیٹے کو اور اس مکان کو ایک گھر بنایا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ادھورے پن کو ایک پاکیزہ رشتے میں بدل دیں’۔ ثناء کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس بار ان میں تنہائی کا زہر نہیں بلکہ ایک نئے آشیانے کی روشنی چمک رہی تھی، کیونکہ کچھ لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے ٹکڑوں سے دوسروں کی اجڑی ہوئی دنیا آباد کر دیتے ہیں۔

