منتخب غزلیں
غمِ ہستی کی رات جاتی ہے تیری زُلفوں کی بات جاتی ہے…

غمِ ہستی کی رات جاتی ہے
تیری زُلفوں کی بات جاتی ہے
تیری زُلفوں کی بات جاتی ہے
تیرا دامن چلا ہے ہاتھوں سے
یا میری کائنات جاتی ہے
بندہ پرور، زرا سی ہمدردی
بندہ پرور! حیات جاتی ہے
کسی خرابات کی ہوا کھانے
صبح آتی ہے، رات جاتی ہے
اس طرح کب یہ زخم بھرتا ہے
جان لے کر حیات جاتی ہے
ہم اگر ہوش میں عدمؔ آ جائیں
چشمِ ساقی کی بات جاتی ہے
عبدالحمید عدمؔ
المرسل: فیصل خورشید



