منتخب غزلیں

گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے دن ہوتے ہوئے …

گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے
دن ہوتے ہوئے دُھوپ نکلنے نہیں دیتے

آنچل میں چھپا لیتے ہیں شمع رُخِ روشن
پروانے تو جل جائیں وہ جلنے نہیں دیتے

بکھرا دی وہیں زُلف ذرا رُخ سےجو سَر کی
کیا رات ڈھلے رات وہ ڈھلنے نہیں دیتے

کس درجہ ہیں بیدرد تیرے ہجر کے صدمے
دل کو تیری یادوں سے بہلنے نہیں دیتے

دیکھا ہے جِسے بھی وہ گراتے ہیں نظر سے
چاہے بھی سنبھلنا تو سنبھلنے نہیں دیتے

گلشن پہ اُداسی کی فضا دیکھ رہا ہوں
وہ درد کے موسم کو بدلنے نہیں دیتے

بے راہ نہ کیونکر ہوں بھلا رہرو منزل
جب رانما راہ پہ چلنے نہیں دیتے

وہ سامنے ہوتے ہیں تو ہوتا ہے یہ عالم
ارمان مچلتے ہیں مچلنے نہیں دیتے

بدنام وہ ہو جائیں گے یہ سوچ کے پُرنمؔ
محفل میں ہم آنسو بھی نکلنے نہیں دیتے

پُرنمؔ الہ آبادی

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/