منتخب غزلیں

مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ ۔۔۔۔۔ آہ کو چاہیے اِک عُمر…

مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ
۔۔۔۔۔
آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک
کون جِیتا ہے تِری زُلف کے سر ہونے تک
دام ہر موج میں ہے حلقہء صد کامِ نَہَنگ
دیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک
عاشقی صبر طلب اور تمنّا بیتاب
دِل کا کیا رنگ کرُوں خُونِ جِگر ہونے تک
ہم نے مانا کہ تغافُل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تُم کو خبر ہونے تک
پَرتوِ خُور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
مَیں بھی ہُوں ایک عِنایت کی نظر ہونے تک
یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل
گرمیِ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک
تا قیامت شبِ فُرقت میں گُزر جائے گی عُمر
سات دِن ہم پہ بھی بھاری ہیں سَحر ہونے تک
غمِ ہستی کا اسدؔ کِس سے ہو جُز مرگِ عِلاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سَحر ہونے تک۔۔۔!
۔۔۔۔۔
شیخ قُربان احمد قربانؔ
صُورتِ شمع بُجھوں گا مَیں سَحر ہونے تک
ہوگا کیا حال میرا تُم کو خبر ہونے تک
آنکھ جھپکی نہ زرا در پہ نِگاہیں رکِھّیں
مُنتظر تیرے رہے ہم تو سَحر ہونے تک
تیری اُمید نے تھا اُس کو جلاۓ رکھّا
گو بھڑکتی ہی رہی شمع سَحر ہونے تک
جوشِ وحشت کا تقاضا ہے بنالُوں جنگل
گھر مُجھے باعثِ تکلیف ہے گھر ہونے تک
نخلِ اُمید کو گو دُنیا میں بویا ہمدم
کون جِیتا ہے نمودارِ ثمر ہونے تک
کہہ دے قُربانؔ یہ بُلبُل سے کہ ہو گی آزاد
صبر سے بیٹھ تُو ابھی پَر ہونے تک۔۔۔!
۔۔۔۔۔
دلاور فِگارؔ
جادہء فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں
مر کے رہ جاتا ہے فنکار امر ہونے تک
کِتنے غالبؔ تھے جو پیدا ہُوئے اور مر بھی گئے
قدر دانوں کو تخلُص کی خبر ہونے تک
کِتنے اقبالؔ رہء فِکر میں اُٹھّے لیکن
راستہ بھُول گئے ختمِ سفر ہونے تک
کتنے شبیر حسن خاں نہ بنے جوشؔ کبھی
مر گئے کِتنے سکندر بھی جِگرؔ ہونے تک
فیضؔ کا رنگ بھی اشعار میں آ سکتا تھا
اُنگلیاں ساتھ تو دیں خُون میں تر ہونے تک
چند ذرّوں ہی کو مِلتی ہے ضیائے خُورشید
چند تارے ہی چمکتے ہیں سَحر ہونے تک
دِلِ شاعر پہ کُچھ ایسی ہی گُزرتی ہے فِگارؔ
جو کِسی قطرے پہ گُزرے ہے گُہر ہونے تک۔۔۔!
۔۔۔۔۔
عبدالحمید عدم
دل نے دیکھی ہے تِری زُلف کے سر ہونے تک
وہ جو قطرے پہ گزرتی ہے، گہر ہونے تک
بھیڑ لگ جائےگی شیریں کی گلی میں، فرہاد
لوگ بے بس ہیں، تِرے شہر بدر ہونے تک
زہر پی لیتا ہُوں، گر شہد بھرے ہونٹ تِرے
میرے قبضے میں رہیں اُس کا اثر ہونے تک
بعد اس کے کوئی تقریب نہیں ہے غم کی
آج تم پاس رہو میرے ، سحر ہونے تک
ہم تمھیں اپنی خبر دیں بھی تو کیا سوچ کے دیں!
ہم کو رہنا ہی نہیں تم کو خبر ہونے تک
میرا شیرازۂ ہستی نہ بِکھر جائے عدم
اُس پری زاد کو توفیقِ نظر ہونے تک
۔۔۔۔۔
ایک نظارہ ہوں آنسو سے گہر ہونے تک
اک تماشا ہوں میں شعلے سے شرر ہونے تک
تُو ہے وہ رنگ کہ آنکھوں سے نہ اوجھل ہوگا
میں ہوں وہ خواب کہ گزروں گا سحر ہونے تک
لکھتے ہیں پر یہ نہیں جانتے لکھنے والے
نغمہ اندوہِ سماعت ہے اثر ہونے تک
تو کہیں بھی رہے زندہ ہے لہو میں میرے
میں سنواروں گا تجھے خاک بسر ہونے تک
ہائے وہ شمع جو اب دور کہیں جلتی ہے
میرے پہلو میں بھی پگھلی ہے سحر ہونے تک
عبید اللہ علیم ؔ
۔۔۔۔۔
ہم نے اک عمر گذاری ۔۔۔کہ بقولِ غالبؔ
آہ کو چاہیئے ۔۔ اک عمر ۔۔۔ اثر ہونے تک
اور جیتے ہیں تری ، زلف کے سر ہونے تک
اور سر تک ہی نہیں ۔۔ تا بہ کمر ہونے تک
اور اس ۔۔ قطرۂ ناچیز پہ ۔۔ سب کچھ گذرا
جو بھی کچھ گذرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ہم بھی اب جبر پہ ۔۔آمادہ نہ ہوجائیں کہیں
صبر ہوتا ہے تو ہے ائے دوست مگر ہونے تک
کلیم عاجز
۔۔۔۔۔
دانش فراہی
حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک
جانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تک
ہجر کی شب یہ مرے سوز دروں کا عالم
جل کے میں خاک نہ ہو جاؤں سحر ہونے تک
اہل دل رہتے ہیں تا زیست وفا کے پابند
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
بے قراری کا یہ عالم ہے سر شام ہی جب
دیکھیں کیا ہوتا ہے اس دل کا سحر ہونے تک
دیکھیں گے حشر جفاؤں کا ہم ان کی دانشؔ
رہ گئے زندہ جو آہوں کے اثر ہونے تک
۔۔۔۔۔
اہلِ دل اہلِ نظر اہلِ ہُنر ہونے تک
بِیج کو وقت ہے درکار شجر ہونے تک
پوچھنا چاہو تو اربابِ طرب سے پوچھو
کیا سے کیا چاہیے سُرخاب کا پر ہونے تک
معتقد قیس کے فرہاد کے ہوکر دیکھو
اپنے قدموں میں سجنوا کا نگر ہونے تک
سینہ زوری کوئی برتے کوئی سٹہ بازی
کیا سے کیا منزلیں ہیں صاحبِ زر ہونے تک
یہ تو شاہین ہی جانیں کہ ہے کب تک ممکن
فاختاؤں کا سفر لقمۂ تر ہونے تک
قربِ جاناں کا ہے محدود میّسر آنا
دل کے جل اُٹھنے تلک، آنکھ کے تر ہونے تک
یہ تو ماؔجد ہی بتائے گا ہے کتنی کتنی
موت سے دست و گریبانی اَمَر ہونے تک
ماجِد صِدّیقی
۔۔۔۔۔
وہ نہ آئے ہیں نہ آیئں گے سَحر ہونے تک
مُنتظر ہم تو رہے رات بسر ہونے تک
اِس قدر سوزِ محبّت نے تپایا مُجھے
مَیں سُلگتا ہی رہا رقصِ شرر ہونے تک
بارِ غم دِل پہ لیے شام و سَحر پِھرتا ہُوں
کاٹنی ہے یی سزا عُمر بسر ہونے تک
کعبہء دِل کو کو مِرے تیشہء فرہاد نہیں
سر مِرا چاہیے دیوار میں در ہونے تک
بُجھ گئے سرِ شام کیسے تمنّا کے چراغ
اِکو جلنا تھا مِرے ساتھ سَحر ہونے تک
کیا دِکھاۓ گا وہاں اپنی ذہانت کوئ
ہاتھ کٹتے ہوں جہاں کسبِ ہُنر ہونے تک
تُم بھی گُلشن میں بہاروں کی حِفاظت کرنا
ہم نے سینچا ہے ہر اک گُل کو ثمر ہونے تک
متین امروہوی
…………………
فرتاش سید
ہم ہیں بس اذن سفر ہونے تک
خاک اور خاک بہ سر ہونے تک
کیسے کیسے ہیں مراحل درپیش
اپنے ہونے کی خبر ہونے تک
کیا عجب وصل کی خواہش نہ رہے
ہجر کی رات بسر ہونے تک
دل خوش فہم تری خوش فہمی
منتشر گرد سفر ہونے تک
سر بہ سجدہ ہیں در غالبؔ پر
خوش سخن اہل نظر ہونے تک
۔۔۔۔۔
بشکریہ محبت خان


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/