افسانے

فروری 1983 کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اندھے عقیدے کی خطرناک مثال کے طور پر آ…

فروری 1983 کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اندھے عقیدے کی خطرناک مثال کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے، جب چکوال کی 25 سالہ نسیم فاطمہ نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کا روحانی رابطہ امام مہدی سے ہے اور اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کے ساتھ بحیرہ عرب کے راستے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے روانہ ہو، جہاں سمندر معجزانہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا؛ اس یقین کے تحت اس نے 18 افراد پر مشتمل ایک قافلہ تیار کیا جن میں معصوم بچے، بزرگ اور اس کے اپنے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے، اور کراچی کے ساحل پر پہنچ کر سب کو ٹین کے بند بکسوں میں بٹھا کر سمندر کے حوالے کر دیا، مگر سمندر کی بے رحم موجوں نے اس یقین کو پاش پاش کر دیا اور بکسے الٹنے لگے، نتیجتاً کئی افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے جبکہ کچھ خوش قسمت لوگوں کو ریسکیو ٹیموں نے زندہ نکال لیا؛ ہلاک ہونے والوں میں خود نسیم فاطمہ بھی شامل تھی، جبکہ اس کا والد اور چند دیگر افراد زندہ بچ گئے جن کی اطلاع اور فریاد کے بعد امدادی کارروائیاں ممکن ہوئیں؛ یہ سانحہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب عقیدہ عقل اور شعور سے خالی ہو جائے تو وہ انسان کو تباہی کے دہانے تک لے جا سکتا ہے۔

منتخب

Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/