#hamidnaved شمشیر بے نیام قسط نمبر 54 اچانک عقب…


#hamidnaved
شمشیر بے نیام
قسط نمبر 54

اچانک عقب سے رومیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔سامنے سے خالدؓ نے شدید حملہ کر دیا۔رومیوں کی یہ حالت ہو گئی کہ وہ گھوڑوں کو چٹانوں اور ٹیکریوں پر چڑھالے گئے،اور دوسری طرف اتر کر بھاگنے لگے۔توقع یہ تھی کہ رومی رسد وغیرہ کا جو ذخیرہ ساتھ لا رہے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ آجائے گا۔لیکن رومیوں نے گھوڑا گاڑیوں اور اونٹوں کو پہلے ہی حمص روانہ کر دیا تھا۔حمص کی طرف جانے والی رہگزر پر رومیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔زخمی تڑپ اور کراہ رہے تھے۔ان کے گھوڑے اِدھر اُدھر آوارہ پھر رہے تھے۔مجاہدین نے حکم ملتے ہی اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانا، زخمی اور مرے ہوئے رومیوں کے ہتھیاروں کو اکٹھا اور ان کے گھوڑوں کو پکڑنا شروع کر دیا۔’’کاش!میرے پیچھے دمشق نہ ہوتا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں دشمن کے ایک آدمی کو بھی دمشق تک نہ پہنچنے دیتا۔‘‘خالدؓ نے تعاقب ترک کر دیا۔لیکن اس خطرے کے پیشِ نظر کہ رومی کہیں اکٹھے یا حمص سے کمک منگوا کرواپس نہ آجائیں۔اپنے ایک سالار سمط بن الاسود کو بلایا۔’’ایک ہزار سوار اپنے ساتھ لو اور رومیوں کے پیچھے جاؤ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’انہیں کہیں اکٹھے نہ ہونے دینا۔جنگی قیدی نہیں لینے۔جو سامنے آئے اسے ختم کرو۔فوراً روانہ ہو جاؤ۔‘‘’’ولید کے بیٹے!‘‘خالدؓ کو کسی کی پکار سنائی دی۔’’وہ آگیا میرا ننگا جنگجو!‘‘خالدؓ نے ضرار کو آتے دیکھ کر نعرہ لگایا۔ضرار کو اپنے زخموں کی پرواہ نہیں تھی، وہ گھوڑے سے کود کر اترے۔خالدؓ بھی کود کر اترے اور تاریخِ اسلام کے دو عظیم مجاہد ایک دوسرے کے بازوؤں میں جکڑ گئے۔خولہ گھوڑے پر سوار تھی۔اس کا چہرہ نقاب میں تھا۔صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔جن کی چمک اور زیادہ روشن ہو گئی تھی۔
’’خدا کی قسم ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔’’تیری بہن نے تیری خاطر میرا بھی منہ پھیر دیا تھا۔‘‘’’اس بہن پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘ضرار نے کہا۔’’تو مجھے بتا میں کیا کروں؟‘‘’’کیا تو محسوس نہیں کر رہا کہ تجھے آرام کرنا چاہیے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’پہلے جرّاح کے پاس جا، اور اسے اپنے زخم دِکھا۔‘‘ضرار بن الازور جراح کے پاس تو چلے گئے لیکن صرف پٹیاں بندھوا کر واپس آگئے۔سالار سمط بن الاسود رومیوں کے تعاقب میں گئے۔رومی بری طرح بھاگے جا رہے تھے ان کی آدھی نفری تو لڑائی اور پسپائی میں ختم ہو گئی تھی اور باقی نصف بکھر گئی تھی۔سمط جب حمص کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ رومی حمص کے قلعے میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔اس دور میں حمص ایک قلعہ بند قصبہ ہوا کرتا تھا۔سمط وہاں جا کر رُک گئے۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ قلعہ کے اندر کتنی فوج ہے، پھر بھی انہوں نے اپنے ہزار سواروں کو قلعے کے اردگرد اس انداز سے دوڑایا جیسے وہ محاصرہ کرنا یا قلعے پر حملہ کرنا چاہتے ہوں۔قلعے کا دروازہ کھلا اور تین چار آدمی جو فوجی نہیں تھے باہر آئے۔وہ رومی نہیں مقامی باشندے تھے۔سالار سمط بن الاسود نے انہیں اپنے پاس بلایا۔

’’کیوں آئے ہو؟‘‘سمط نے پوچھا۔’’امن اور دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔‘‘ایک نے کہا۔’’رومی مزید لڑائی نہیں چاہتے۔‘‘’’کیا تمہارا شہنشاہ ہرقل بھی مزید لڑائی نہیں چاہتا؟‘‘سمط نے پوچھا۔’’ہم شہنشاہِ روم کی ترجمانی نہیں کر سکتے۔‘‘حمص کے ایک شہری نے کہا۔’’ہم یہ پیہغام لائے ہیں کہ حمص والے نہیں لڑنا چاہتے۔آپ جس قدر سامانِ خوردونوش چاہتے ہیں ہم سے لے لیں۔آپ جتنے دن بھی یہاں قیام کرنا چاہتے ہیں کریں۔آپ کی فوج اور گھوڑوں کو خوراک ہم مہیا کریں گے۔‘‘کسی بھی تاریخ میں نہیں لکھا کہ سالار سمط نے حمص میں رومیوں سے صلح کی کیا شرائط منوائی تھیں۔وہ واپس آگئے۔خالدؓ اپنے لشکر کے ساتھ دمشق جا چکے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالدؓ جب دمشق پہنچے تو شہر کے اندر مایوسی اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔شہر والوں کو پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ انطاکیہ سے کمک اور رسد آرہی ہے۔اب انہیں اطلاع ملی کہ کمک کو مسلمانوں نے راستے میں ختم کر دیا ہے۔دمشق میں رومی سالار توما تھا جو شہنشاہِ ہرقل کا داماد تھا۔چند ایک شہری وفد کی صورت میں توما کے پاس گئے۔’’کیا آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟‘‘ایک شہری نے کہا۔’’کیا تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ بزدلی ہے؟‘‘توما نے کہا۔’’ہم نے ابھی محاصرہ توڑنے کی کاروائی کی ہی نہیں،کیا تم لوگ مجھے یہ مشورہ دینے آئے ہو کہ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دوں؟‘‘’’ہم سالارِ معظم کو شہر کی صورتِ حال بتانے آئے ہیں۔‘‘وفد کے ایک اور آدمی نے کہا۔’’شہر کے لوگ یہ سن کے ہراساں ہیں کہ جس فوج نے محاصرہ کر رکھا ہے اور ہماری کمک کو بھی ختم کر دیا ہے وہ اس شہر میں بھی داخل ہو جائے گی پھر گھر ہمارے لوٹے جائیں گے بچے ہمارے کچلے جائیں گے،اورلڑکیاں ہماری اٹھائی جائیں گی۔‘‘’’ہم یہاں تک نوبت نہیں آنے دیں گے۔‘‘سالار توما نے کہا۔’’سالارِ معظم!‘‘ایک اور شہری نے کہا۔’’آپ کو یقیناً معلوم ہو گا کہ نوبت کہاں تک پہنچ چکی ہے۔شہر میں خوراک کی اتنی کمی رہ گئی ہے کہ لوگوں نے دوسرے وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے، دو تین دنوں بعد صرف پانی رہ جائے گا۔غور کریں۔لوگ فاقہ کشی سے تنگ آکر بغاوت بھی کرسکتے ہیں۔یہ صورت سلطنتِ روم کیلئے اچھی نہیں ہوگی۔‘‘

’’کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ بغاوت کی سزا کیا ہے ۔‘‘توما نے شاہی رعب سے کہا۔
’’ہم جانتے ہیں سالارِ اعلیٰ!‘‘وفد کے ایک آدمی نے کہا۔’’ہم آپ کوقحط اور اس سے پیدا ہونے والی بغاوت کے نتائج بتانے آئے ہیں، کیا اس تباہی سے اور لوگوں کو بھوکا مارنے سے بہتر نہ ہوگا کہ آپ مسلمانوں سے صلح کر لیں؟‘‘’’دشمن سے صلح کا مطلب ہوتا ہے ہتھیار ڈالنا۔‘‘توما نے کہا۔’’میں لڑے بغیر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کروں گا جو روم کی عظیم سلطنت کی توہین کا باعث ہو۔ہم اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور تم لوگ ایک وقت کی بھوک برداشت نہیں کر سکتے……جاؤ۔کل تک انتظار کرو۔‘‘وہ ستمبر ۶۳۴ء کے تیسرے ہفتے کی ایک صبح تھی۔رومی سالار توما نے شہر کے ہر دروازے کی حفاظت کیلئے جو دستے متعین کیے ہوئے تھے ، ان سب میں سے زیادہ سے زیادہ نفری نکال کر اکٹھی کی، اور وہ دروازہ کھلوایا جو اس کے اپنے نام سے موسوم تھا۔بابِ توما۔ اور اپنی قیادت میں مسلمانوں کے اس دستے پر حملہ کر دیا جو اس دروازے کے سامنے متعین تھا۔یہ پانچ ہزارمسلمان سواروں کا دستہ تھا۔جس کے سالار شرجیلؓ بن حسنہ تھے۔توما کے حملے کا انداز آج کے دور کی جنگ کا سا تھا۔اس نے دیوار اور بُرجوں سے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھاڑیں مارنی شروع کیں اور اس کے ساتھ فلاخنوں سے سنگ باری کی۔تیروں اور پتھروں کے سائے میں توما نے اپنی فوج کو تیز حملے کیلئے آگے بڑھایا تھایہ طریقہ کارگر تھا۔مسلمان پیچھے ہٹنے پر مجبور نظر آنے لگے تھے اور ان کا دھیان تیروں اور پتھروں سے بچنے میں لگ گیا تھا۔’’کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘‘سالار شرجیلؓ نے چلّا کر کہا۔’’تمام تیر انداز آگے ہو جاؤ۔‘‘مسلمان تیر اندازوں نے جوابی تیر اندازی شروع کر دی۔رومیوں کے پتھر اور تیر چونکہ اوپر سے آرہے تھے اور زیادہ بھی تھے اس لیے مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہو رہا تھا۔پہلی بوچھاڑوں میں کئی مسلمان شہید ہو گئے۔ان کے تیروں نے رومیوں کا کچھ نقصان کیا لیکن یہ مسلمانوں کے مقابلے میں کم تھا۔مؤرخ واقدی، طبری اور ابو سعید نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، رومی تیروں سے شہید ہونے والوں میں ایک مجاہد ابان بن سعید بھی تھے جن کا پورا نام ابان بن سعید بن العاصؓ تھا۔فوراً ہی ابان کی شہادت کی خبر پیچھے ان خیموں تک پہنچ گئی جن میں مسلمان خواتین اور بچے تھے۔ابان بن سعید کی بیوی بھی وہیں تھیں۔ان کی شادی ہوئے چند ہی دن گزرے تھے۔یہ خاتون لشکر کے ساتھ زخمیوں کی دیکھ بھال اور پانی پلانے کے فرائض کیلئے آئی تھیں،اور محاذ پر ہی اسے ابان شہید نے اپنے عقد میں لے لیا۔کسی بھی مؤرخ نے اس خاتون کا نام نہیں لکھا،اسے پتا چلا کہ اس کا خاوند شہید ہو گیا ہے تو وہ اٹھ دوڑی اور شرجیلؓ کے دستے میں جا پہنچی
’’کہاں ہے میرے خاوندکی لاش؟‘‘وہ چلّانے لگی۔’’کہاں ہے سعید کے بیٹے کی لاش؟‘‘پانچ ہزار گھوڑ سواروں میں جن پر تیر اور پتھر برس رہے تھے ، ابان بن سعید شہید کی بیوہ دوڑتی اور شہید کی لاش کا پوچھتی پھرتی تھی۔کسی نے اسے پیچھے جانے کوکہا اور یہ بھی کہ اس کے خاوند کی لاش اس کے پاس بھیج دی جائے گی لیکن وہ تو صدمے سے دماغی توازن کھو بیٹھی تھی۔کسی نے اسے وہ جگہ دِکھادی جہاں ابان کی لاش پڑی تھی۔ابھی لاشیں نہیں اٹھائی جا سکتی تھیں،ابان تیر انداز تھے۔ان کے جسم میں تین تیر اترے ہوئے تھے،اور وہ گھوڑے سے گر پڑے تھے۔ان کی کمان لاش کے قریب پڑی تھی اور ترکش میں ابھی کئی تیر موجود تھے۔ان کی بیوی نے کمان اور ترکش اٹھائی اور دوڑ کر تیر اندازوں کی صف میں جا پہنچی۔سامنے دیوار پر ایک پادری کھڑا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک بڑے سائز کی صلیب تھی،جو اس نے اوپر کر رکھی تھی۔یہ اس دور کا رواج تھا کہ صلیب فوج کے ساتھ رکھتے تھے تاکہ فوج کا یہ احساس زندہ رہے کہ وہ صلیب کی ناموس کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ابان شہید کی بیوہ اپنے تیر اندازوں سے آگے نکل گئی۔اس کے قریب تیر گرنے اور زمین میں اترنے لگے۔اپنے تیر اندازوں نے اسے پیچھے آنے کو کہا۔لیکن وہ کسی کی سن ہی نہیں رہی تھی،اس کی بے خوفی خولہ بنتِ الازور جیسی تھی۔وہ جوں جوں آگے کو سرکتی جا رہی تھی۔اس کے قریب رومیوں کے آئے ہوئے تیر زمین پر کھڑے ہوتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ ایک تیر اس کے پہلو میں کپڑوں میں لگا اور وہیں لٹک گیا۔یہ تیر بھی اسے آگے بڑھنے سے نہ روک سکا۔آخر وہ رُک گئی اور اس نے کمان میں تیر ڈالا اور کمان سامنے کرکے شست باندھتے کچھ دیر لگائی،اس نے کمان اتنی زیادہ کھینچ لی جتنی زیادہ ایک تندرست مرد کھینچ سکتا ہے، اور اس نے تیر چھوڑ دیا۔اس کا تیر رومی تیروں کی بوچھاڑوں کو چیرتا ہوا اس پادری کی گردن میں اُتر گیا جسنے صلیب کو تھام رکھا تھا ۔پہلے اس کے ہاتھ سے صلیب گری اور لڑھکتی ہوئی باہر آپڑی۔پادری بھی پیچھے یا دائیں بائیں گرنے کے بجائے دیوار پر گرا اور صلیب کے پیچھے پیچھے باہر کی طرف آپڑا۔ابان شہید کی بیوہ نے نعرہ لگایا اور پیچھے آگئی۔’’میں نے انتقام لے لیا ہے……سہاگ کے بدلے صلیب گرا دی ہے……‘‘وہ تیر اندازوں سے آملی اور تیر چلاتی رہی۔صلیب اور پادری کے گرنے کا اثر مسلمانوں پر یہ ہوا کہ ان کا حوصلہ بڑھ گیا اور ان کا حوصلہ اس لیے بھی بڑھا کہ یہ تیر ایک عورت نے چلایا تھا۔صلیب کے گرنے کا اثر جو رومیوں پر ہوا وہ ان کے لڑنے کے جذبے کیلئے اچھانہ تھا۔

دروازہ بابِ توما کھل چکا تھا۔تومانے دیکھ لیا تھا کہ اس کی تیر اندازی اور سنگ باری نے مسلمانوں کی حالت کمزور کر دی ہے۔اس نے حملے کاحکم دے دیا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس نے سواروں کے مقابلے میں سوار نہ نکالے۔ا ن پیادوں سے حملہ کرایا،اور کمان خود باہر آکر کی۔وہ سپاہیوں کی طرح لڑرہا تھا۔مؤرخ واقدی اور بلازری نے لکھا ہے کہ توماکی آواز ایسی تھی جیسے اونٹ بدمستی کی حالت میں بڑی بلند اور غصیلی آوازیں نکالتا ہے۔شرجیلؓ نے بڑی تیزی سے اپنے سواروں کو آمنے سامنے کی لڑائی کی ترتیب میں کرلیا۔تومانے یہ چال چلی کہ اپنے دستوں کو پھیلا دیا۔اس کی فوج کی تعداد مسلمانوں کی نسبت زیادہ تھی۔اس کے پیادے سواروں کا مقابلہ بڑی بے جگری اور مہارت سے کررہے تھے ۔شہر کے دوسرے دروازوں کے سامنے مسلمانوں کے جو دستے متعین تھے۔وہ اس وجہ سے شرجیلؓ کی مدد کو نہیں آرہے تھے کہ ایسا ہی حملہ دوسرے دروازوں سے بھی ہو سکتا تھا۔توماگرج اور دھاڑ رہا تھا۔اسے مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کا سالار وہاں ہے، وہ سیدھا اِدھر آیا،شرجیلؓ نے اسے دیکھ لیا اور تلوار سونت کر اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔دونوں نے ایک دوسرے کو للکارا، ان میں دس بارہ قدم فاصلہ رہ گیا ہوگا کہ ایک تیر توما کی دائیں آنکھ میں اُتر گیا،اس نے ہاتھ اس آنکھ پر رکھ لیے،اور وہ بیٹھ گیا۔شرجیلؓ نے آگے بڑھ کر اس پر حملہ نہ کیا۔توما کے محافظوں نے اس کے گرد حصار بنالیا پھر اسے اٹھا کر لے گئے۔مؤرخوں نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ وہ تیر ابان بن سعید کی بیوہ نے چلایا تھا۔اپنے سالارکے گرنے سے رومیوں کا حوصلہ بھی گر پڑا اور وہ پیچھے ہٹنے لگے۔شرجیلؓ کے پہلوؤں والے تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑیں مارنی شروع کر دیں۔رومی تیزی سے پیچھے ہٹے اور قلعے کے دروازے میں غائب ہوتے چلے گئے اور پیچھے جو لاشیں چھوڑ گئے ان کا کوئی حساب نہ تھا۔’’رومیوں کا سپہ سالار مارا گیا ہے۔‘‘مسلمانوں نے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔’’ہم رومیوں کے قاتل ہیں……رومی سالار کو ایک عورت نے مارڈالا ہے……توما رومی کو اندھاکرکے مارا ہے……باہر آؤرومیو!اپنی صلیب اور پادری کو اٹھا لے جاؤ۔‘‘دیوار پر کھڑے رومی یہ نعرے سن رہے تھے،اور یہ نعرے شہر کے اندر بھی سنائی دے رہے تھے۔یہ نعرے رومی فوج اور دمشق کے شہریوں کے حوصلے اور جذبے کیلئے تیروں کی طرح مہلک تھے۔مسلمانوں کا جانی نقصان بھی کچھ کم نہیں تھا۔بہت سے مجاہدین رومیوں کے تیروں اور پتھروں سے شہید اور زخمی ہو گئے۔پھر اتنی تعداد لڑائی میں شہید ہوئی۔شرجیلؓ پریشان سے ہو گئے اور خالدؓ کے پاس گئے-
شرجیلؓ بن حسنہ نے خالدؓ بن ولید کو لڑائی کی ساری روئیداد سنائی اور یہ بھی بتایا کہ رومی سالار توما اگر مرا نہیں تو وہ لڑائی کیلئے ناکارہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کتنی نفری شہید اور کتنی نفری زخمی ہو گئی ہے۔’’اگر رومیوں نے ایسا ہی ایک اور حملہ کیا تو شاید ہم نہ روک سکیں۔‘‘شرجیلؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’مجھے کمک کی ضرورت ہے۔‘‘’’حسنہ کے بیٹے!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ایسا حملہ کسی اور دروازے سے ہم میں سے کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے۔کسی بھی دستے کی نفری کم نہیں کی جاسکتی……ابنِ حسنہ!خدا کی قسم، تو ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔کیا اپنے اتنے زیادہ ساتھیوں کے خون نے تیرا حوصلہ کمزور کر دیا ہے؟‘‘’’نہیں ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’اگر مجبوری ہے تو میں ایک آدمی کی بھی کمک نہیں مانگوں گا۔‘‘’’میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گا۔تفصیل سے پڑھئے
‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تجھ پر حملہ ہوا تو ہم دیکھتے رہیں گے، اگر حملہ تیری برداشت سے باہر ہوا تو ضرار تیری مدد کو پہنچے گا۔پھر بھی ضرورت پڑی تو میں آجاؤں گا……تیرے پاس جتنی بھی نفری رہ گئی ہے اسے تیار رکھ۔ رومیوں کے سالار کو اگر آنکھ میں تیر لگا ہے تو ایک دو دن رومی باہر آکر حملہ نہیں کریں گے۔‘‘خالدؓ کی رائے صحیح نہیں تھی،توما نے ایک معجزہ کر دکھایا تھا۔وہ صحیح معنوں میں جنگجو تھا۔چونکہ وہ شاہی خاندان کافرد تھا، اس لیے سلطنتِ روم کی جو محبت اس کے دل میں تھی وہ قدرتی تھی۔بعد میں پتا چلا تھا کہ اس کی آنکھ میں تیر لگا تو اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔جراح نے دیکھا کہ تیر اتنا زیادہ اندر نہیں اترا کہ توما کی ہلاکت کا باعث بن جائے۔کھوپڑی کی ہڈی کو تیر نے مجروح نہیں کیا تھا۔یہ صرف آنکھ میں اترا لیکن نکالا نہیں جا سکتا تھا۔
’’کاٹ دو اسے!‘‘توما نے جراح سے کہا۔’’باقی اندر ہی رہنے دو،اور اس آنکھ پر پٹی باندھ دو،دوسری آنکھ پر پٹی نہ آئے۔میں آج رات ایک اور حملہ کروں گا۔‘‘’’سالارِ اعلیٰ!‘‘جراح نے کہا۔’’کیا کہہ رہے ہیں آپ؟آپ لڑائی کے قابل نہیں۔‘‘’’اس ایک آنکھ کے بدلے مسلمانوں کی ایک ہزار آنکھیں ضائع کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’میں انہیں صرف شکست نہیں دوں گا، میں ان کے وطن عرب تک ان کا تعاقب کروں گا۔میں اپنے کام کو اس وقت مکمل سمجھوں گا جب ان کے ملک کو اس قابل رہنے دوں گا کہ وہاں صرف جانور رہ جائیں گے۔‘‘توما کے یہ الفاظ متعدد مؤرخوں نے لکھے ہیں اور واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ان میں یورپی تاریخ دان ہنری سمتھ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ان سب کی تحریروں کے مطابق توما کے حکم سے جراح نے تیر آنکھ کے قریب سے کاٹ دیااور اوپر پٹی کس کر باندھ دی۔یہ جذبے اور عزم کی پختگی کا کرشمہ تھا کہ تومانے اتنے شدید زخم کو برداشت کر لیا اور حکم دیا کہ آج ہی رات باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے گا۔’’اتنی ہی فوج بابِ توما کے سامنے اکٹھی کی جائے جتنی میں دن کے حملے میں لے کر گیا تھا۔‘‘توما نے حکم دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔چلتے چلتے اس نے شراب پی اور ہتھیار بند ہو کر باہر نکل گیا۔

اُن راتوں کو چاند پورا ہوتا تھا۔فضاء صاف رہتی تھی۔اس لئے چاندنی شفاف ہوتی تھی۔توما نے بڑا اچھا طریقہ اختیار کیا۔اس نے اپنے تمام دستوں کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تین اور دروازوں بابِ صغیر، بابِ شرق، اور بابِ جابیہ۔سے باہر جا کر مسلمانوں پر اس طرح حملے کریں کہ اپنے آپ کو لڑائی میں اتنا زیادہ نہ الجھائیں بلکہ انہیں اپنے ساتھ لڑائی میں مصروف رکھیں، وہ خود بڑا حملہ بابِ توما سے کر رہا تھا۔دوسرے دروازوں سے حملے کرانے سے اسکا مطلب یہ تھا کہ شرجیلؓ کو کسی طرف سے مدد نہ مل سکے۔’’تمہارا دشمن اس وقت حملے کی توقع نہیں رکھتا ہوگا۔‘‘توما نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’تم انہیں سوتے میں دبوچ لو گے۔‘‘توما کی فوج چار دروازوں سے باہر نکلی۔وقت آدھی رات کا تھا۔چاندنی اتنی صاف تھی کہ اپنے پرائے کو پہچانا جا سکتا تھا، مسلمانوں پر چار جگہوں سے حملے ہوئے،ایک دروازے کے سامنے سالار ابو عبیدہؓ تھے، دوسرے کے سامنے یزیدؓ بن ابو سفیان تھے، ابو عبیدہؓ نے رومیوں کو جلدی بھگا دیا اور رومی قلعے میں واپس چلے گئے۔یزیدؓ بن ابو سفیان کی حالت کمزور سی ہو گئی۔رومیوں نے ان پر بڑا ہی شدید ہلہ بولا تھا۔یزیدؓ نے مقابلہ تو کیا لیکن رومی ان پر حاوی ہوتے جا رہے تھے ۔ضرار بن الازور مدد دینے کے کام پر معمور تھے ۔انہیں پتا چلا کہ یزیدؓ کو مدد کی ضرورت ہے تو وہ دو ہزار سوار اور پیادہ مجاہدین کے ساتھ یزیدؓ کے پاس پہنچ گئے۔ضرار کی جسمانی حالت لڑنے کے قابل نہیں تھی،ان کے بازو میں تیر لگا تھا اور جسم پر دو تین اور گہرے زخم تھے۔پھر بھی وہ میدانِ جنگ میں موجود تھے اور ان کی برچھی پورا کام کر رہی تھی۔ضرار نے اپنی اور یزیدؓ کی فوج کو ملا کر حملے کا حکم دیا۔یہ بڑا ہی شدید حملہ تھا،رومیوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ قلعے میں واپس چلے گئے۔ان کی لاشیں اور زخمی پیچھے رہ گئے۔تیسرے دروازے کے سامنے رافع بن عمیرہ کے دستے تھے۔ان پر بھی رومیوں نے شدید حملہ کیا اور رافع کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔مسلمان بڑی بے خوفی سے لڑرہے تھے لیکن رومیوں کا دباؤ بڑا سخت تھا۔اتفاق سے خالدؓ نے دیکھ لیا اور وہ چار سو سواروں کو ساتھ لے کر رافع کے پاس پہنچے۔’’میں فارس جلیل ہوں!‘‘خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’میں خالد ابنِ ولید ہوں۔‘‘خالدؓ نے رومیوں پر صرف چار سو سواروں سے حملہ کر دیا۔رومی جو رافع کے دستوں پر غلبہ پا رہے تھے ، پیچھے کو دوڑ پڑے، اور دروازے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔

اصل لڑائی تو بابِ توماکے سامنے ہو رہی تھی۔توما نے خود وہاں حملہ کیا تھا۔شرجیلؓ کی نفری تھوڑی تھی۔مجاہدین کی تعداد کم رہ گئی تھی،اور وہ دن کی لڑائی کے تھکے ہوئے بھی تھے ۔شرجیلؓ نے اب بھی پہلوؤں کے تیر اندازوں کو استعمال کیا ۔رومی تیر کھا کھاکر گرتے تھے
لیکن حملے کیلئے آگے بڑھے آرہے تھے۔شرجیلؓ نے دن کے حملے میں توما کی گرجدار آواز سنی تھی، انہوں نے رات کو بھی اسی آواز کی للکار سنی تو وہ حیران رہ گئے کہ توما حملے کی قیادت کر رہا ہے۔یہی وجہ تھی کہ رومی تیروں کی بوچھاڑوں میں بھی آگے بڑھے آرہے تھے۔چاندنی رات میں دونوں فوجوں کی بڑی سخت ٹکر ہوئی۔شرجیلؓ کے مجاہدین نے حملہ روک لیا اور بڑی خونریز لڑائی ہوتی رہی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ لڑائی کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی اور وہ دونوں فوجوں کے آدمی گرتے رہے۔شرجیلؓ کو کسی طرف سے بھی مدد ملنے کی توقع نہیں تھی۔ لڑائی شدت اختیار کرتی گئی۔شرجیلؓ کو توما کی آواز حیران کر رہی تھی، اور توما شرجیلؓ کو ڈھونڈ رہا تھا۔اس کی دلیری غیر معمولی تھی۔اسے چاندنی میں مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا، اور وہ شرجیلؓ کو للکار کر ان کی طرف بڑھا۔شرجیلؓ اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔
’’ایک آنکھ کے بدلے ایک ہزار آنکھیں لوں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو دوسری آنکھ بھی دینے آیا ہے۔‘‘شرجیلؓ نے کہا۔دونوں آمنے سامنے آگئے،اور دونوں گھوڑوں سے اترآئے۔دونوں کے ہاتھوں میں تلواریں اور ڈھالیں تھیں اور دونوں تیغ زنی کے ماہر تھے۔شرجیلؓ کو توقع تھی کہ توما کی ایک ہی آنکھ ہے اور اس کی دوسری آنکھ بھی زخمی ہے اس لیے وہ لڑ نہیں سکے گالیکن وہ پوری مہارت سے لڑ رہا تھا۔شرجیلؓ کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تیر ابھی توما کی آنکھ میں ہی ہے۔شرجیلؓ کا ہر وار توما بچا جاتا تھا، اور توما کا ہر وار شرجیلؓ بچا رہے تھے۔شرجیلؓ نے ایک وار بڑا ہی زور دار کیا، ان کی تلوار پہلے توما کی آہنی خود پر لگی، اور وہاں سے پھسل کر کندھے پر لگی جہاں آہنی زرہ تھی۔اتنا زور دار وار لوہے پر پڑا تو تلوار ٹوٹ گئی۔توما نے للکار کر وار کیا، جو شرجیلؓ نے ڈھال پر لیا۔وہ اب تلوار کے بغیر تھے ،وار صرف روک سکتے تھے۔توما بڑھ بڑھ کر وار کر رہا تھا۔شرجیلؓ کے دو مجاہدین نے دیکھ لیا کہ شرجیلؓ تلوار کے بغیر خطرے میں ہیں تو وہ شرجیلؓ اور توما کے درمیان آگئے۔شرجیلؓ نے اِدھر اُدھر دیکھا،وہ کسی کی تلوار ڈھونڈ رہے تھے ۔کچھ دور انہیں اپنے ایک شہید مجاہد کی لاش کے قریب اس کی تلوار پڑی نظر آئی۔انہوں نے دوڑ کر تلوار اٹھا لی اور واپس آئے لیکن توما وہاں نہیں تھا،شرجیلؓ نے اپنے دونوں مجاہدین سے پوچھا کہ توما کہاں ہے؟انہوں نے بتایا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے لڑائی کے ہنگامے میں گم ہو گیا ہے۔انہوں نے اسے گھوڑے پر سوارہوتے دیکھا تھا۔

شرجیلؓ کے اعصاب پر بڑا تکلیف دہ دباؤتھا۔انہیں پوری طرح یقین نہیں تھا کہ وہ رومیوں کو شکست دے سکیں گے۔لڑنے میں شرجیلؓ اور ان کے دستے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔انہوں نے چند سو سواروں کو الگ کرکے پہلو سے رومیوں پر ایک زور دار ہلّہ بولا۔کچھ تو اس ہلّے نے کام کیا،کچھ رومی مایوس ہو گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے،رومیوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ بے ترتیب ہو کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ ترتیب اور تنظیم سے پیچھے ہٹتے تھے۔شرجیلؓ نے انہیں پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان کے پیچھے نہ گئے کیونکہ مسلمانوں کی نفری تھوڑی رہ گئی تھی۔شرجیلؓ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے،پیچھے جانے کے بجائے انہوں نے تیراندازوں کو آگے کرکے پیچھے ہٹتے ہوئے رومیوں پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔رومی اپنی لاشوں اور زخمیوں کو پیچھے چھوڑتے،دروازے میں جا کر غائب ہو گئے۔رومی جس دروازے سے بھی باہرآئے تھے وہ لاشیں اور زخمی پھینک کر اُسی دروازے سے اندر چلے گئے۔سب سے بڑا حملہ توما نے کیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔اگر بات ناکامی تک ہوتی تو رومی ایسے حملے پھر بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں جو جانی نقصان اٹھانا پڑاوہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ان کی نفری پہلے ہی کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی اور اب تو آدھی رہ گئی تھی،توما کیلئے ایک دشواری یہ پیدا ہو گئی کہ جب شہر پناہ کے دروازے بند ہو گئے اور توما شہر میں آکر رکا تو کئی شہریوں نے اسے گھیر لیا۔’’سالارِ معظم!‘‘ایک آدمی نے کہا۔’’ہم سلطنتِ روم کے وفادار ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ روم کی شہنشاہی کو مزید نقصان پہنچے۔ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کی بات کی جائے۔‘‘’’شہریوںمیں جو بے چینی اور بد امنی پھیل چکی ہے اسے آپ نہیں دیکھ رہے۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’فوج جو نقصان اٹھا چکی ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور آپ خود بھی زخمی ہیں، خطرہ ہی ہے کہ شہری جو اب نیم فاقہ کشی تک پہنچ گئے ہیں اپنی ہی فوج کیلئے نقصان کا باعث بن جائیں گے۔‘‘توما جابر قسم کا سالار تھا۔اس کی دلیری اور عزم کی پختگی میں کوئی شک نہیں تھا لیکن اس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ جو شہری اس کے ساتھ بات کرتا تھا وہ اس شہری کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔یہ وہ توما تھا جو کسی کی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔اس کے چہرے کے تاثرات میں شکست صاف نظر آرہی تھی۔اس نے اپنی اس آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا جس کے اندر تیر کا ایک ٹکڑا موجود تھااور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔صاف پتا چلتا تھا کہ اسے یہ زخم پریشان کر رہا ہے۔’’مجھے سوچنے دو۔‘‘اس نے ہاری ہوئی آواز میں کہا۔’’میں صلح کر لوں گا لیکن کوئی ایسی شرط نہیں مانوں گا جو روم کی شہنشاہی کی تذلیل کا باعث بنے۔‘‘

دراصل توما ذہنی طور پر شکست تسلیم کر چکا تھا۔اس کے سامنے اب یہی ایک مسئلہ رہ گیا تھا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ باعزت سمجھوتہ ہوجائے۔مؤرخوں کے بیانات کے مطابق اسے کسی نے یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کے نائب سالار ابوعبیدہؓ نرم مزاج اور صلح جو انسان ہیں۔اگر ان تک رسائی ہوجائے تو باعزت سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔خالدؓ کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ مکمل شکست اور ہتھیار ڈالنے سے کم بات نہیں کرتے۔توما نے اپنے مشیروں کو بلایا۔باہر مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور وہ للکار ہے تھے کہ رومیو!شہر ہمارے حوالے کردو۔ لیکن شہر میں داخل ہونے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتاتھا۔خالدؓ نے فیصلہ کرلیا کہ مجاہدین کو ایک دو دن آرام کیلئے دے کر شہر کے دروازے توڑنے کی یا دیوار میں سرنگ لگانے کی کوشش کریں گے۔صبح طلوع ہوئی تو اﷲنے ایک غیر مسلم کو خالدؓ کے سامنے کھڑا کردیا۔یہ ایک یونانی تھا جس کا نام یونس ابن مرقس تھا۔وہ رات کے وقت جب رومی اندر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے تھے، شہر کی دیوار سے ایک رسّے کے ذریعے اترا تھا۔اس نے کہا کہ وہ ایک لڑکی کو حاصل کرنے کیلئے اپنی جان کا خطرہ مول لے کر آیا ہے۔یہ لڑکی بھی یونانی تھی اور یہ ۱۸ ستمبر ۶۳۴ء (۱۹ رجب ۱۳ھ) کا واقعہ ہے۔۱۸ ستمبر ۶۳۴ء کی رات تھی۔خالدؓ کو بتایا گیا کہ قلعے کے اندر سے ایک آدمی آیا ہے جو اپنا نام یونس ابن مرقس بتاتا ہے۔’’وہ قلعے سے نہیں آیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر قلعے کے اندر ہی سے آیا ہے تو صاف نیت سے نہیں آیا،اگر باہر سے آیا ہے تو بھی اس کی نیت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔وہ رومیوں کا جاسوس ہوگا……اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘وہ ایک جواں سال آدمی تھا۔خوبرو اور پھرتیلا تھا۔خالدؓ کے دو محافظوں نے اس کی تلاشی لی۔اس نے کمر بند میں ایک خنجر اڑسا ہوا تھا جو اس نے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔یہ اس سے لے کر اسے خالدؓ کے خیمے میں بھیج دیا گیا۔خالدؓ نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا پھر اس پر نظریں جما دیں۔’’سالارِ اعلیٰ مجھے شک کی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں۔‘‘اس جواں سال آدمی نے کہا۔’’میں آپ کے دشمن کے قلعے سے آیا ہوں۔آپ کو مجھ پر شک کرنا چاہیے……میرا نام یونس ابن مرقس ہے اور میں یونانی ہوں۔آپ کی اور رومیوں کی جنگ کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘’’یونان کے جوان!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اپنے آنے کا مقصدفوراً بتا دو؟‘‘’’مقصد میرا ذاتی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’اگر آپ یہ پورا کردیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔‘‘’’تُو میری کیا مدد کر سکتا ہے؟‘‘’’میں آپ کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’پھر دمشق آپ کا ہوگا۔‘‘

جاری ہے….