Category: منتخب نظمیں
-
"وہ تو قبولیت کے امکانات تب بھی رکھتا ہے جب تمہاری…
"وہ تو قبولیت کے امکانات تب بھی رکھتا ہے جب تمہاری نظر میں تمہاری کہانی مکمل ختم ہو چکی ہوتی ہے۔” Fraz*
-
دُوسری ہجرت پھر مرے مکّہ سے پیغمبر ہجرت کر کے چلا…
دُوسری ہجرت پھر مرے مکّہ سے پیغمبر ہجرت کر کے چلا گیا ہے اور اب پھر سے کعبہ کہ رَم خوردہ بُت اصنامِ طلائی اپنی اپنی مسند پہ آ بیٹھے ہیں سچ کا لہُو اُن کے قدموں میں عُنّابی قالین کی صُورت بچھا ہُوا ہے کمخوابی خیموں کے اندر بزمِ حریفاں پھر سجتی ہے کذب…
-

تم دو برس بعد ایک دولت مند شخص سے شادی کرو گی، …
تم دو برس بعد ایک دولت مند شخص سے شادی کرو گی، جو بلا وجہ ہنستا رہے گا۔ تم اس سے کئی بچے جَنو گی، اور دنیا کے ہر دارالحکومت کا سفر کرو گی۔ وہ تمہیں ہر سمت سے گلے لگائے گا اور چومے گا، مگر ایک سمت ہمیشہ سرد رہے گی۔ تم اسے بھرنے…
-
نعت کی ہو صدی . آپ کا ہے کرم اے رسولِ خدا ہوں مرے …
نعت کی ہو صدی . آپ کا ہے کرم اے رسولِ خدا ہوں مرے رہنما آپ کے نقش پا آپ کے نقش پا سے ملے روشنی یا نبی یا نبی یا نبی یا نبی عظمتِ مصطفی پر ہے ایماں مرا کلمۂ حق کے پڑھنے سے عقدہ کھلا آپ کی پیروی سب پہ ہے لازمی یا…
-
میرے بستر سے اُتر دُکھ میرے آج اعصاب شکستہ ہیں می…
میرے بستر سے اُتر دُکھ میرے آج اعصاب شکستہ ہیں میرے نیند بھی ضد پر اتر آئی ہے میں جو ہر رات ترے پہلو میں ایک کروٹ پہ پڑا رہتا ہوں آج آسُودہ بدن ہونے دے دیکھ! مجھے سُونے دے..
-
ساون کی گھٹائیں ساون کی گھٹائیں چھا گئی ہیں برسات…
ساون کی گھٹائیں ساون کی گھٹائیں چھا گئی ہیں برسات کی پریاں آ گئی ہیں دِل دینے کی رُت آئی ہے سینوں میں اُمنگ سمائی ہے ارمانوں نے عید منائی ہے اُمّیدیں جوانی پا گئی ہیں کہیں سُنبل و گُل کی بہاریں ہیں کہیں سرو و سمن کی قطاریں ہیں کہیں سبزے نے رنگ نکالا…
-

نئی لیک زندگی اور حالات کی کشمکش سے گبھرا کر میرے…
نئی لیک زندگی اور حالات کی کشمکش سے گبھرا کر میرے بیٹے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم کو پیدا کیوں کیا میں کیا جواب دوں کہ مجھے بھی یہ نہیں پتہ کہ میرے باپ نے مجھے پیدا کیوں کیا اور ان کے باپ نے ان کو پیدا کیوں کیا زندگی اور حالات کی کشمکش…
-
خموشی سے میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے سایہ ش…
خموشی سے میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے سایہ شام غریباں کی طرح شورش دیدہ گریاں کی طرح موسم کنج بیاباں کی طرح کتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجوم جیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہ جیسے لفظوں کو گہن لگ جائے جیسے روٹھے ہوۓ رستوں کے مسافر چپ چاپ جیسے مرقد کے…
-
تمہاری بھیگتی پلکوں سے میں نے بارہا پوچھا کہ دل کے…
تمہاری بھیگتی پلکوں سے میں نے بارہا پوچھا کہ دل کے کھیل میں کیا جیتنے والے بھی روتے ہیں وہ جن کی چشم خود بین اوروں کو دیکھا نہیں کرتی !!! بھلا کس دل سے غم کے تار میں موتی پروتے ہیں تمہاری بھیگتی پلکوں سے میں نے بارہا پوچھا کہ کیا مانند شیشہ پتھروں…