Category: منتخب غزلیں
-

دو غزلہ از اصغرؔ گونڈوی تسکین کی اور تو کوئ صُورت…
دو غزلہ از اصغرؔ گونڈوی تسکین کی اور تو کوئ صُورت یہاں نہیں لاویں زبان پہ نام تِرا سو زباں نہیں بیخود ہیں بے حواس ہیں تاب و تواں نہیں وہ کیا یہاں نہیں ہے کہ ہم خود یہاں نہیں اے ہم نفس یہ حسرتِ دیدار دیکھنا روتا ہُوں زار زار پر آنسُوں رواں نہیں…
-

دو غزلہ از اصغرؔ گونڈوی تسکین کی اور تو کوئ صُورت…
دو غزلہ از اصغرؔ گونڈوی تسکین کی اور تو کوئ صُورت یہاں نہیں لاویں زبان پہ نام تِرا سو زباں نہیں بیخود ہیں بے حواس ہیں تاب و تواں نہیں وہ کیا یہاں نہیں ہے کہ ہم خود یہاں نہیں اے ہم نفس یہ حسرتِ دیدار دیکھنا روتا ہُوں زار زار پر آنسُوں رواں نہیں…
-

باپ رونے لگا. حقیقت پر مبنی بہت پرسوز غزلیں نوجوان…
باپ رونے لگا. حقیقت پر مبنی بہت پرسوز غزلیں نوجوان شاعر جناب "”شھزاد قیس”” کے ہم قافیہ، ہم ردیف اور ہم وزن چار غزل۔ ہر غزل باپ کے ایک المیے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بوڑھے باپ کو چار بنیادی المیے درپیش ہوتے ہیں۔ 1۔جذباتی بحران 2۔زمانی بحران 3۔مالی بحران 4۔جسمانی بحران غزل نمبر 1…
-

ایک زمین مرزا غالبؔ اصغرؔ گونڈوی متینؔ امروہوی ۔۔۔…
ایک زمین مرزا غالبؔ اصغرؔ گونڈوی متینؔ امروہوی ۔۔۔۔۔ دِل ہی تو ہے نہ سنگ و خِشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دَیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گُزر پہ ہم غیر ہمیں اُٹھائے کیوں جب وہ جمالِ دِل فروز…
-

بیاض بھر بھی گئی اور پِھر بھی سادہ ہے تُمہارے نام …
بیاض بھر بھی گئی اور پِھر بھی سادہ ہے تُمہارے نام کو لِکھا بھی اور مِٹایا بھی۔۔۔! آنسؔ معین
-
قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا م…
قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا مگر اعتبار باقی رکھ بکھرنا ہے تو فضا میں بکھیر دے خوشبو حیا نظر میں، قدم میں وقار باقی رکھ ہمیں ہمارے ہی خوابوں سے کون روکے گا کھینچا ہوا ہے جو خطِّ حصار باقی رکھ ترا وجود عبارت ہے خوش ادائی سے کشیدہ قامتئ خوشگوار…
-

میری چپ حویلی کے صدر دروازے کے قدموں میں گرے ہوئے …
میری چپ حویلی کے صدر دروازے کے قدموں میں گرے ہوئے اس قفل کی مانند ہے، جسے چور پچھلی رات دروازے کے کنڈے سے اتار کر پھینک گئے ہوں۔ ایسا تالا بہت کچھ کہتا ہے، لیکن کوئی تفصیل بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ ساری واردات سے آگاہ ہوتا ہے، لیکن اپنی صفائی میں…
-
محمد دین تاثیر – اصغر گونڈوی – معراج فیض آبادی – ف…
محمد دین تاثیر – اصغر گونڈوی – معراج فیض آبادی – فرزانہ نیناں November 30
-

ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے معراج فیض آباد…
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے معراج فیض آبادی ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے ہم کسی گھر میں…
-
