Category: منتخب غزلیں
-

( غیــر مطبــوعــہ ) لیکن اکثر یوں ہوتا ہے کبھی…
( غیــر مطبــوعــہ ) لیکن اکثر یوں ہوتا ہے کبھی کبھی تو پہلا درد بھی لَوٹ آتا ہے کبھی کبھی تنہائی خود کو…. دہرانے پر راضی بھی ہو جاتی ہے لیکن اکثر یوں ہوتا ہے.. جیون کی مغموم کتھا میں.. کھوئی ہوئی چوپال کی شمعیں… جلتے جلتے تھک جاتی ہیں…. ایک نیا دن آتے آتے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) یہ ہی تلاش ہے ’’ کیوں ‘‘ ہے …
( غیــر مطبــوعــہ ) یہ ہی تلاش ہے ’’ کیوں ‘‘ ہے اور ’’ کیا ‘‘ کیا ہے خبر تو دو کوئی مجھ کو ، مجھے ہُوا کیا ہے نہ میں تلاش کروں خود کو پیشِ آئینہ نہ یہ سوال اٹھاؤں کہ آئنہ کیا ہے یہ تو نے کس طرح جا نا کہ میں خدا…
-

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے میں اس…
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے یوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے وحشتیں کچھ…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) خــوابــوں اور کہـانی میں ع…
( غیــر مطبــوعــہ ) خــوابــوں اور کہـانی میں عُمر کٹی حـــــیــرانی میں روحووں کے کیا بھید کُھلیں جســموں کی اَرزانی میں کیسے کیسے مــوڑ آئـے عُمر کی ایک کہانی میں اپنے ساتھ رکھا خود کو رسـتے کـی ویـرانی میں اے دل ! تیرا ہاتھ بھی ہے وَحشت کی عُــریـانی میں لَـو دیتا ہے ایکـــــ خیـال…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) کبھی بہاروں کے موسمِوں میں ‘…
( غیــر مطبــوعــہ ) کبھی بہاروں کے موسمِوں میں ‘ جو دل کی بستی غزل سرا تھی وہیں کہیں ایک آرزو کے مچلنے کی بھی بڑی کتھــا تھی جلا کے جب ساری کشتیاں میں سمُندروں کی بنی غداؑ تھی اُسی گھڑی تو جبینِ شب پر لکھی گئی میری بھی دعا تھی محبّتیں بھی، رفاقتیں بھی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) خیال معنی کی چھت پر قیام کرت…
( غیــر مطبــوعــہ ) خیال معنی کی چھت پر قیام کرتا رہا سو ‘ ماہ تابِ سخُن رات بھر نکھرتا رہا لُٹا رہا تھا چمن آرزوے دل کی مہَک مشامِ شوق بہلتا رہا ‘ سنورتا رہا کبھی کھنچی نہیں آہوں کے درمیان لکیر نشاں لگاتے ہوئے درد بس گذرتا رہا ہم اپنے شعلہ دماغوں پہ…
-

غیــر مطبــوعــہ ) پَیروں سے لپٹی نیکی کل شب گھر…
غیــر مطبــوعــہ ) پَیروں سے لپٹی نیکی کل شب گھر سے نکلی تو مجھ کو معا” احساس ہُوا جیسے قدموں سے الجھی ہو پھولوں کی زنجیر غور سے دیکھا تو لپٹی تھی پَیروں سے اک ننّھی سی نیکی میں نے جس کو کمایا تھا اک میٹھے بول کے سکّے سے اور سَینت کے رکّھا تھا…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) کب کسی کے غم میں رونے والا ت…
( غیــر مطبــوعــہ ) کب کسی کے غم میں رونے والا تھا میرا اپنا چہرہ دھونے والا تھا میں یہ سمجھا ‘ زندگی نے دی صدا باہر آیا تو ۔۔۔۔۔ کھلونے والا تھا آج میرا لختِ دل ہے نیند میں باپ میرا۔۔۔۔ کم جو سونے والا تھا پیڑ کے ممنون سب تھے ، چھانو پر…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ہم سے زیــــــادہ دیکھ رہا …
( غیــر مطبــوعــہ ) ہم سے زیــــــادہ دیکھ رہا تھا اندھـا ۔ـــ اَندھیــرا دیکھ رہا تھا شـــــــبـنم کـے اکـــ آئِیـنے میں سُــورج ۔۔۔ چــہرہ دیکھ رہا تھا مَیں جب دیکھ رہی تھی اُس کو مجھ کـــو آئِنــــــہ دیکھ رہا تھا دُور اُفـق پــر ایکـــــ سِـــــــتارہ کــــوئی سِـــــــتارہ دیکھ رہا تھا کـون گلی کے موڑ پہ…
-

دُکھی دِلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے ہر ایک شخص یہا…
دُکھی دِلوں کے لیے تازیانہ رکھتا ہے ہر ایک شخص یہاں اِک فسانہ رکھتا ہے کسی بھی حال میں راضی نہیں ہے دل اپنا ہر اِک طرح کا یہ کافِر بہانہ رکھتا ہے ازل سے ڈھنگ ہیں دل کے عجیب سے’ شاید کسی سے رسم و رَہ ِ غائِبانہ رکھتا ہے کوئی تو فیض ہے…