Category: منتخب غزلیں
-

رضا علی وحشت کلکتوی کا یوم پیدائش November 18, 181…
رضا علی وحشت کلکتوی کا یوم پیدائش November 18, 1818 رضا علی وحشت کلکتوی 18نومبر1818 میں شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے۔اس وقت یہ شہر عالم میں انتخاب کہلاتا تھا،کیونکہ دہلی کے حسن کو انگریزیوں نے پامال کر دیا تھا ۔بار بار اجڑنے والی دلّی اس بار غدر کے نام پر بری طرح اجڑگئی تھی۔جبکہ کلکتہ…
-

تیمور ذوالفقار کا یوم پیدائش سالگرہ مبارک November…
تیمور ذوالفقار کا یوم پیدائش سالگرہ مبارک November 17, xxxx …. تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں میں وہ ہدف ہوں جس کو نشانے کا ڈر نہیں ہوں اپنی انتقام کی خُو سے ڈرا ہوا دھوکہ تمہارے ہاتھ سے کھانے کا ڈر نہیں ڈرہے کہ لاجواب نہ کر دوں کہیں اسے جس کو…
-

صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے تجھ پہ ہے…
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے بھید مری سرشت کا اِس سے کھُلے گا اور بھی مَیں کہ گلوں کی خاک ہوں لے تو اُڑے ہوا مجھے کھائے نہ تن پہ تِیر بھی، لائے نہ جوئے شِیر بھی کیسے فرازِ ناز سے شوخ وہ،…
-
ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسل…
ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسلہ ہے جنوں کی بستی اجڑ چکی ہے، وفا کے شہروں میں زلزلہ ہے تمام صحرا نواز لوٹے ، سبھوں نے کُنجِ چمن بسایا مگر جو صرصر سے تھی شکایت، وہی صبا سے انہیں گلہ ہے میں جس کو وحشت میں ڈھونڈتا تھا ہر…
-
لوگ یک رنگئ وحشت سے بھی اُکتائے ہیں ہم بیاباں سے…
لوگ یک رنگئ وحشت سے بھی اُکتائے ہیں ہم بیاباں سے یہی ایک خبر لائے ہیں پیاس بنیاد ہے جینے کی، بجھا لیں کیسے؟ ہم نے یہ خواب نہ دیکھے ہیں، نہ دکھلائے ہیں ہم تھکے ہارے ہیں اے عزمِ سفر! ہم کو سنبھال! کہیں سایا جو نظر آیا ہے، گھبرائے ہیں زندگی! ڈھونڈ لے…
-

محمد اسد خان ملتانی کا یومِ وفات آزاد دائرۃ المعار…
محمد اسد خان ملتانی کا یومِ وفات آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے November 17, 1959 محمداسد خان ملتانی المعروف اسد ملتانی کا شمار برصغیر پاک وہند کے معروف شعراء اردو و فارسی گو میں ہوتا ہے ۔ آپ 13 دسمبر 1902 ء کو ملتان کے علمی ادبی پٹھان شیرانی خاندان کے یہاں اپنے آبائی گھر…
-

بیاں جب کلیم اپنی حالت کرے ہے غزل کیا پڑھے ہے قیام…
بیاں جب کلیم اپنی حالت کرے ہے غزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے بھلا آدمی تھا پر نادان نکلا سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے کبھی شاعری اسکو کرنی نہ آتی اسی بیوفا کی بدولت کرےہے چھری پر چھری کھائے جائے ہے کب سے اور اب تک جیا ہے کرامت کرے ہے کرے…
-

نہ یہ رنگ طبع ہوتا نہ یہ دل میں جوش ہوتا یہ جنوں ا…
نہ یہ رنگ طبع ہوتا نہ یہ دل میں جوش ہوتا یہ جنوں اگر نہ ہوتا تو کہاں یہ ہوش ہوتا غم دہر سے بچاتا ہے بشر کو مست رہنا مجھے شاعری نہ آتی تو میں بادہ نوش ہوتا تمھیں دیکھ سن کے فطرت نے یہ نقش کھینچے ورنہ نہ یہ ہوتی چشم نرگس نہ…
-

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے,چاہو جس وقت میں گیا وقت ن…
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے,چاہو جس وقت میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بهی نہ سکوں ضعف میں طعنہء اغیار کا شکوہ کیا ہے بات کچھ سر ہے کہ اٹها بهی نہ سکوں زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو, ستمگر! ورنہ کیا قسم ہے تیرے ملنے کی کہ کها بهی نہ سکوں…
-

"بیادِ فیض” قلم بدست ہوں حیران ہوں کہ کیا لکھوں م…
"بیادِ فیض” قلم بدست ہوں حیران ہوں کہ کیا لکھوں میں تیری بات کے دنیا کا تذکرہ لکھوں لکھوں کہ تُو نے محبت کی روشنی لکھی ترے سخن کو ستاروں کا قافلہ لکھوں جہاں یزید بہت ہوں، حسین اکیلا ہو تو کیوں نہ اپنی زمیں کو بھی کربلا لکھوں ترے بغیر ہے ہر نقش "نقشِ…