Category: منتخب غزلیں
-

اے غمِ دل کيا کروں، اے وحشت ِ دل کيا کروں – اسرار …
اے غمِ دل کيا کروں، اے وحشت ِ دل کيا کروں – اسرار الحق مجاز شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں غیر کی بستی ہے کب تلک دربدر مارا پھروں اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر…
-
عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے وہ دو عالم …
عشق میں کوئی زماں اور نہ مکاں ہوتا ہے وہ دو عالم سے الگ ایک جہاں ہوتا ہے شدّتِ شوق کا اللہ رے فسوں! اُف رے فریب! اُن کی نفرت پہ محبّت کا گماں ہوتا ہے صرف اک دل ہی وہ معبد ہے، وہ اک معبدِ عشق جس میں ناقوس ہم آوازِ اذاں ہوتا ہے…
-

عبدالحمید عدمؔ ﺑﮍﯼ ﺩِﻟﭽﺴﭗ ﻏﻔﻠﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﭼﺎﻧ…
عبدالحمید عدمؔ ﺑﮍﯼ ﺩِﻟﭽﺴﭗ ﻏﻔﻠﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻏﻢِ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮔﻮ ﺍﮎ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ ﻏﻢِ ﺩﻭﺭﺍﮞ ﺳﮯ ﻓُﺮﺻﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗُﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺩﻝِ ﻧﺎﺩﺍﮞ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﺭﮨﻨﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ…
-

فِراقؔ گورکھپُوری ۔ نرم فضا کی کروٹیں، دِل کو دُکھ…
فِراقؔ گورکھپُوری ۔ نرم فضا کی کروٹیں، دِل کو دُکھا کے رہ گئیں ٹھنڈی ہَوائیں بھی، تِری یاد دِلا کے رہ گئیں شام بھی تھی دُھواں دُھواں، حُسن بھی تھا اُداس اُداس دِل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں مُجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تِری مُجھ سے حیات و موت…
-

مہندر کمار ثانیؔ وہی اُداس سی آنکھیں، اُد…
مہندر کمار ثانیؔ وہی اُداس سی آنکھیں، اُداس چہرہ ہے یہ لگ رہا ہے کہ پہلے بھی تجھ کو دیکھا ہے میں چاہتا ہوں کہ تیری طرف نہ دیکھوں میں مری نظر کو مگر تُو نے باندھ رکھا ہے چُھپا کے رکھتا ہوں میں خود کو ہر طرح لیکن یہ آئینہ مُجھے حیرت میں ڈال…
-
اب دل بھی دُکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی ب…
اب دل بھی دُکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی کر دیتا ہے بے ساختہ…
-

امجد حیدرآبادی کی چند رباعیات …………………..
امجد حیدرآبادی کی چند رباعیات ……………….. ہر چیز مسبب سبب سے مانگو منت سے لجاجت سے ادب سے مانگو کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھلاتے ہو گر بندے ہو رب کے تو رب سے مانگو ……….. اس سینے میں کائنات رکھ لی میں نے کیا ذکر صفات ذات رکھ لی میں نے ظالم سہی جاہل…
-

کرشن چندر کی پیدائش November 23,1914 کرشن چندر ار…
کرشن چندر کی پیدائش November 23,1914 کرشن چندر اردو کے نامور افسانہ نگار تھے۔ ان کی پیدائش 23 نومبر 1914ء کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (موجودہ پاکستان) میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے ۔ کرشن چندر کی تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے ہوا تھا۔ اس وجہ…
-

ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں ……جميل الدي…
ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں ……جميل الدين عالى ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں دین ہمارا دین مکمل استعمار ہے باطل ارذل خیر ہے جدوجہدِ مسلسل عند اللہ عنداللہ عنداللہ عنداللہ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر سبحان اللہ…
-

اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا جمیل الدین عالی …
اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا جمیل الدین عالی اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا جو بھی ملا اسیر زمان و مکاں ملا کیا جانے کیا سمجھ کے ہمیشہ کیا گریز سو بار بجلیوں کو مرا آشیاں ملا اکتا گیا ہوں جادۂ نو کی تلاش سے ہر راہ میں کوئی نہ…