Category: منتخب غزلیں
-

“آج جانے کی ضد نہ کرو” ــــــــــ شاعر : فیاض ہاشم…
“آج جانے کی ضد نہ کرو” ــــــــــ شاعر : فیاض ہاشمی 29 نومبر: یومِ وفات جناب فیّاض ہاشمی (ولادت: 1923ء – وفات: 29 نومبر 2011ء) ….. آج جانے کی ضد نہ کرو یونہی پہلو میں بیٹھے رہو ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے ایسی باتیں کیا نہ کرو تم ہی سوچو…
-

ہے آپ کے ہونٹوں پہ مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل …
ہے آپ کے ہونٹوں پہ مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ بلی تو یونہی مفت میں بدنام ہوئی ہے تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ بے حرص و غرض فرض ادا کیجئے اپنا جس طرح پولیس کرتی ہے چالان وغیرہ اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے اب…
-

آنس معین کا یومِ ولادت آنس معین 29 نومبر 1960 کو ل…
آنس معین کا یومِ ولادت آنس معین 29 نومبر 1960 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔اُن کا رحجان صوفی ازم کی طرف زیادہ تھا۔ کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ خودکشی کر سکتے ہیں۔اُن کی خودکشی سےمتعلق کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اُن…
-

علی سردار جعفری کا یومِ پیدائش November 29, 1913 …
علی سردار جعفری کا یومِ پیدائش November 29, 1913 علی سردار جعفری اترپردیش کے گونڈہ ضلع میں بلرامپور میں 29 نومبر 1913 ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لکھنؤ میں ایک مذہبی ماحول میں پرورش پائ تھی۔ تعلیمی اعتیبارسے انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا تھا. فری کی ذہانت کا یہ عالم تھا…
-

-

-

-

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے تو جو نہیں ہے تو…
تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے نگاہوں میں تو ہے یہ دل جھومتا ہے نہ جانے محبت کی راہوں میں کیا ہے جو تو ہمسفر ہے تو کچھ غم نہیں ہے یہ مانا کہ محفل…
-
ارشد علی خان قلق زمین پاؤں کے نیچے سے سرکی جاتی ہے…
ارشد علی خان قلق زمین پاؤں کے نیچے سے سرکی جاتی ہے ہمیں نہ چھیڑئیے ہم ہیں فلک ستائے ہوئے ….. آخر انسان ہوں پتھر کا تو رکھتا نہیں دل اے بتو اتنا ستاؤ نہ خدارا مجھ کو ….. ان واعظوں کی ضد سے ہم اب کی بہار میں توڑیں گے توبہ پیر مغاں کی…
-

ضیاؔ الحسن چلو دیکھ آئیں عدم کُچھ نہ کُچ…
ضیاؔ الحسن چلو دیکھ آئیں عدم کُچھ نہ کُچھ ذرا دیر کو ہوں بہم کُچھ نہ کُچھ اُڑا لائیں ہونٹوں سے شادابیاں چُرا لائیں زُلفوں سے خم کُچھ نہ کُچھ ہمیں ایک سجدے کی ہے جستجو کہ رہ جائے اپنا بھرم کُچھ نہ کُچھ کبھی تو وہ ڈالے گا ہم پر نظر کرے گا وہ…