Category: منتخب غزلیں
-

تم اپنی زباں خالی کر کے اے نکتہ ورو پچھتاؤ گے میں …
تم اپنی زباں خالی کر کے اے نکتہ ورو پچھتاؤ گے میں خوب سمجھتا ہوں اس کو جو بات مجھے سمجھاؤ گے اک میں ہی نہیں ہوں تم جس کو جھوٹا کہہ کر بچ جاؤ گے دنیا تمہیں قاتل کہتی ہے کس کس کو جھٹلاؤ گے یا راحت دل بن کر آؤ یا آفت دل…
-

ہم اہل قلم کیا ہیں ؟ اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ …
ہم اہل قلم کیا ہیں ؟ اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟ مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟ یہ شکل یہ صورت…
-

چاہتوں کا جہان ہے اردو کرشن موہن چاہتوں کا جہان ہے…
چاہتوں کا جہان ہے اردو کرشن موہن چاہتوں کا جہان ہے اردو راحتوں کا نشان ہے اردو عشق کا اعتبار اور وقار حسن کی آن بان ہے اردو دل فزا ضو کدہ صباحت کا اور ملاحت کی کان ہے اردو نثر کا ہے خرام خوش ہنگام شاعری کی اڑان ہے اردو زندہ ہے اپنا ذوق…
-

رفیقؔ سندیلوی مِٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ …
رفیقؔ سندیلوی مِٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر چوپال پہ بُوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہُوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی…
-
وقت کے تقاضوں کو اس طرح بھی سمجھا کر آج کی گواہی پ…
وقت کے تقاضوں کو اس طرح بھی سمجھا کر آج کی گواہی پر مت قیاسِ فردا کر تیرے ہر رویے میں بد گمانیاں کیسی جب تلک ہے دنیا میں، اعتبارِ دنیا کر جس نے زندگی دی ہے وہ بھی سوچتا ہوگا زندگی کے بارے میں اس قدر نہ سوچا کر حرف و لب سے ہوتا…
-
قصوروار نہیں پھر بھی چھپتا پھرتا ہوں وہ میرا چَور …
قصوروار نہیں پھر بھی چھپتا پھرتا ہوں وہ میرا چَور ہے اور سامنے سے گذرے گا ظفر اقبال
-

اور کچھ دیر میں یہ سرخ گلاب اپنی خوشبو میں نیم خوا…
اور کچھ دیر میں یہ سرخ گلاب اپنی خوشبو میں نیم خوابیدہ چاند کے رس میں ڈوب جائے گا اور کچھ دیر میں ہوائے شمال نرم سرگوشیوں کی خلوت میں پھول سے وصل کرنے آئے گی اور کچھ دیر میں دھڑکتا سمے ترک کردے گا یہ پرانا لباس اور نیا پیرہن پہن لے گا اور…
-

-

-

افروزؔ رضوی عِشق ہوجاؤں، پیار ہو جاؤں میں جو خوش…
افروزؔ رضوی عِشق ہوجاؤں، پیار ہو جاؤں میں جو خوشبُوئے یار ہوجاؤں جب بھی نِکلوں میں ڈُھونڈ نے اُس کو دُھول، مٹّی، غُبار ہو جاؤں اُس کے وعدے کا اعتبار کرُوں پِھر شَبِ اِنتظار ہو جاؤں اَوڑھ لُوں اُس کی یاد کی چادر اور، خود پر نِثار ہو جاؤں میں تِرا موسمِ خِزاں پہنوُں اور…