Category: منتخب غزلیں
-

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے …
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس…
-

(داغ دہلوی) 1831- 1905 سب لوگ جدھر وہ ہیں اُدھر دی…
(داغ دہلوی) 1831- 1905 سب لوگ جدھر وہ ہیں اُدھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں کیوں کفر ہے دیدارِ صنم حضرتِ واعظ اللہ دکھاتا ہے، بشر دیکھ رہے ہیں خط غیر کا پڑھتے تھے، جو ٹوکا تو وہ بولے اخبار کا پرچہ ہے، خبر دیکھ رہے ہیں کچھ دیکھ…
-

-

رنگ برسات نے بھرے کُچھ تو زخم دِل کے ہُوۓ ہرے کُچھ…
رنگ برسات نے بھرے کُچھ تو زخم دِل کے ہُوۓ ہرے کُچھ تو فُرصتِ بے خودی غنیمت ہے گردِشیں ہو گئیں پرے کُچھ تو کِتنے شورِیدہ سر تھے پروانے شام ہوتے ہی جل مَرے کُچھ تو ایسا مُشکِل نہیں تِرا مِلنا دِل مگر جُستَجُو کرے کُچھ تو آؤ ناصرؔ کوئی غزل چھیڑیں جی بہل جائے…
-

سعید راہی جام چلنے لگے، دل مچلنے لگے، چہرے چہرے …
سعید راہی جام چلنے لگے، دل مچلنے لگے، چہرے چہرے پہ رنگ شراب آ گیا بات کچھ بھی نہ تھی، بات اتنی ہوئی آج محفل میں وہ بے نقاب آ گیا دل کشی کیا کہیں، نازکی کیا کہیں، تازگی کیا کہیں، زندگی کیا کہیں ہاتھ میں ہاتھ اس کا وہ ایسے لگا، جیسے ہاتھوں میں…
-
کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں کہیں بکھ…
کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں کہیں بکھرتی ہوئی دھول میں سوال ملیں ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں (خالد شریف)
-

علامہ رشیؔد ترابی ہَوا ہَوَس کی چَلی، نفس مُشتعل …
علامہ رشیؔد ترابی ہَوا ہَوَس کی چَلی، نفس مُشتعل نہ ہُوا جسے یہ بات میسّر ہُوئی، خجل نہ ہُوا گُزر چَلامن و تُو سے فضائے ہُو کا حرِیف بشر وہی، جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہُوا یہ اور بات، کہ ظالم کی نیند اُڑ جائے ارادتاً مِرا نالہ کبھی مُخل نہ ہُوا شگوُنِ فکر،…
-
آپ اپنی آگ میں ہم ہاتھ تاپیں گے ادیبؔ جب دسمبر سا…
آپ اپنی آگ میں ہم ہاتھ تاپیں گے ادیبؔ جب دسمبر ساتھ اپنے برف باری لائے گا (کرشن ادیب )
-

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے دس…
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جاگے گا اسے کہنا، ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی دیواروں میں لرزاں…
-

رازؔ لائلپوری مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھ…
رازؔ لائلپوری مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھی ہاتھ اُن کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھی مِے کش بھلا سکیں گے نہ ساقی کا یہ کرم گِرتوں کو اُس نے تھام لیا ہے کبھی کبھی ساقی نے جو پلائی ہماری ہی تھی خرید ہم سے بھی اُس نے دام لیا ہے کبھی…