Category: منتخب غزلیں
-

جون ایلیا عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گ…
جون ایلیا عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا میری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان میں کیا…
-

جون ایلیاء کا یومِ پیدائش December 14, 1931 جون …
جون ایلیاء کا یومِ پیدائش December 14, 1931 جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول…
-

موسم بدلا، رُت گدرائی اہلِ جنوں بے باک ہوئے ۔ ظہیر…
موسم بدلا، رُت گدرائی اہلِ جنوں بے باک ہوئے ۔ ظہیر کاشمیری موسم بدلا، رُت گدرائی اہلِ جنوں بے باک ہوئے فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے گُل بوٹوں کے رنگ اور نقشے، اب تو یونہی مٹ جائیں گے ہم کہ فروغِ صبحِ چمن تھے، پابندِ فتراک ہوئے مہرِ تغیّر اس دھج…
-

آنکھ میں آنسو نہیں ہیں پر رُلاتا ہے بہت وہ دسمبر ,…
آنکھ میں آنسو نہیں ہیں پر رُلاتا ہے بہت وہ دسمبر , ہر دسمبر , یاد آتا ہے بہت ساتھ میرے بھیگتا ہے بارشوں میں بیٹھ کے یاد کے سارے دریچے کھول جاتا ہے بہت روندتا ہے یہ جہاں کی ساری دیواریں کھڑی دو قدم پہ لا کے اس کو آزماتا ہے بہت مسکراہٹ, گنگناہٹ,…
-

قطعات جون ایلیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ہو جاناں شباب …
قطعات جون ایلیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ہو جاناں شباب و حُسن کی آگ آگ کی طرح اپنی آنچ میں گم پھر مرے بازوؤں پہ جھک آئیں لو مجھے اب جلا ہی ڈالو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو تلخ نوائی کی ضرورت ہی نہیں میں تو ہر وقت ہی مایوسِ کرم رہتا ہوں آپ سے مجھ کو ہے…
-

کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک ہاں مرے قد کے…
کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک ہاں مرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک ہوں…
-

فارہہ ……… جون ایلیاء تم سے جو میری جانِ جاں…
فارہہ ……… جون ایلیاء تم سے جو میری جانِ جاں تھیں فارہہ کون تھیں تم اور کہاں تھی فارہہ ہوں میں اب اور اک جہانِ نا شناس تم ہی بس میرا خیال تھیں فارہہ کیا ہوا وہ رودِ خوابِ جاں کہ تم جس میں دست و پا زناں تھیں فارہہ میں غریقِ رودِ زہرِ ناب…
-

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچے مجھے ڈر یہ…
مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچے مرے پاس کیا وہ آتے مرا درد کیا مٹاتے مرا حال دیکھنے کو لب بام تک نہ پہنچے ہو کسی کا مجھ پہ احساں یہ نہیں پسند مجھ کو تری صبح کی تجلی مری شام…
-

مولانا عبدالمجید سالک کی ایک یادگار غزل چراغِ زند…
مولانا عبدالمجید سالک کی ایک یادگار غزل چراغِ زندگی ہو گا فروزاں ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے جیئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زُلفِ جاناں کی سنوارے جائیں گے گیسوِ ئے دوراں ہم نہیں ہوں گے اگر ماضی منوّر تھا کبھی تو ہم نہ تھےحاضر…
-
ہم نے دیکھے تھے خواب شُعلوں کے نیند آنکھوں میں ج…
ہم نے دیکھے تھے خواب شُعلوں کے نیند آنکھوں میں جل گئی ہو گی۔۔۔! جونؔ ایلیا